ہمارے حکمران خاندان اور خلائی سلطنت کا سلطان


چند سال پہلے لکھا تھا جو میری کتاب ’’کالے قول‘‘ میں بھی شامل ہے کہ ہم لوگ ’’کھل جا سم سم‘‘ پڑھ پڑھ کر لطف اندوز ہوتے رہے جبکہ غیروں نے سم (SIM) ایجاد کرکے انسانوں کی سمت، سوچ، رویے اور کلچر ہی تبدیل کردیا۔ المیہ یہ کہ میں نے یہ ’’کالا قول‘‘ گہرے دکھ اورسنجیدگی سے لکھا تھا لیکن اکثریت نے اسے کوئی لطیفہ نماسمجھ کر انجوائے کیا۔آج ایک بار پھر ایسی ہی سچویشن کاسامنا ہے۔ اپنااور غیروں کا موازنہ ہے کہ اِدھر ہم ’’خلائی مخلوق‘‘ کے تعاقب میں ہیں اور دوسری طرف روسی سائنسدان ایشربیلی کو پہلی ’’خلائی سلطنت‘‘ کا سربراہ یعنی ’’سلطان‘‘ مقرر کردیا گیا ہے۔ ہم ’’میرا سلطان‘‘ دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے ، غیروں نے ’’خلائی سلطنت‘‘ پر ’’اپنا سلطان‘‘ بٹھا دیا۔ اسپیس کنگڈم کا ایسگارڈ یا آج شاید ایسا ہی لگے جیسے کبھی ہوا میں اڑنے کو ہوائی سمجھا جاتا تھا یا یہ ’’احمقانہ‘‘ خیال کہ ہزاروں میل کی دوری پربیٹھے لوگ نہ صرف ایک دوسرے سے گفتگوکرسکیں گے بلکہ ایک دوسرے کی شکلیں بھی دیکھ سکیں گے یا ہزاروں میل کے فاصلے پر موجود سرجن یہ فاصلہ برقراررکھتے ہوئے مریض کی سرجری بھی کرسکے گا،معلومات یا مغلظات کا تبادلہ چشم زدن میں ممکن ہوگا اور قاصد کبوتروں کوکمپیوٹر نامی کوئی شے ری پلیس کردے گی لیکن شاید ہم نے نہ سمجھنے نہ سیکھنے کی قسم اٹھا رکھی ہے کیونکہ ہم ان لوگوں کا تسلسل ہیں جنہوں نے برصغیر میں ریلوے ٹریک بچھتے دیکھ کرکہا تھا کہ فرنگی ہندوستان میں ’’لوہے کے پٹے‘‘ اس لئے ڈال رہا ہے تاکہ ان کی مدد سے ہندوستان کو گھسیٹ کر انگلستان لے جاسکے۔میں یہ خبر پڑھ کر عجیب سا محسوس کر رہا ہوں کہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقد کی گئی ایک خصوصی تقریب میں تقریباً 200 روسی کھرب پتی کاروباری شخصیات اورسائنس دانوں نے شرکت کے دوران سائنس دان ایشربیلی کو پانچ سال کے لئے پہلی خلائی سلطنت کے سربراہ کا حلف دلوایا۔ ایشربیلی نے ’’ذمہ داریاں‘‘ سنبھال لی ہیں۔ ایشربیلی نے اپنی تقریر میں اس ’’عزم‘‘ کااظہار بھی کیا کہ وہ کرہ ٔ ارض کے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں گے اور اقوام متحدہ کی رکنیت کے لئے بھی اپلائی کریں گے۔بہت سی باتیں جو کل تک مذاق تھیں، حقیقتوں کا روپ دھار چکی ہیں اور آج کے بہت سے مذاق مستقبل قریب کی زندہ اور بھیانک حقیقتیں ہیں۔ جن کی بدنصیب نسلوں نے کل رونا ہے وہ آج جی کھول کر ہنس لیں کہ ہماری دنیا ہی عجب ہے۔ ہمارے تو ایک روحانی حوالوں سے ہی سہی، اہم ترین ملک میں خواتین کو کارڈرائیونگ کی اجازت بھی ’’بریکنگ نیوز‘‘ ہے اوریہ سوچ کرہی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ جاتی ہےکہ اس ملک میں سینما ہائوسز بھی ہوں گے۔اور عالم اسلام کی اکلوتی مقروض ترین ایٹمی قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یہ حال ہے کہ اس پر تین بار بطور وزیراعظم مسلط رہنے والے شخص کی جائیدادوں کے انباروں کے انکشاف ہورہے ہیں۔ غیرملکی پرنٹ میڈیا اسے بحری قزاق قرار دے رہاہےاور وہ آگے سے چپ چاپ، دم سادھے ، منہ میں گھنگھنیاں ڈالے پتھر کی طرح ساکت و جامد کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکاری ہے۔ اس سے پہلے ’’پاناما‘‘ پر بھی اس کے پلے کچھ نہیں۔دونوںبیٹے حسین اور حسن مفرور ہیں۔سمدھی ڈار بھی فرارہوچکا۔ بیرون ملک پھدکتا پھررہاہے، واپس بلائیں تو بیمارہے۔ ماہر اقتصادیات ہو نہ ہو اداکار غضب کا ہے۔سگے بھائی اور عادی وزیر اعلیٰ کا داماد بھی غائب۔یہ ہیں ہمارے اس حکمران خاندان کی خاندانی پرفارمنس کی چند ادھوری جھلکیاں جنہیں انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کی باتیں ہور ہی ہیں۔چھوٹے میاں کی معراج یہ کہ پنجاب میں 400کروڑ برباد کرنے کے بعد کراچی والوں کو’’پانی‘‘ پلانے چلے ہیں۔صرف یہی ایک نہیں، ہمارے ہر حکمران خاندان کاہرفرد دراصل سونے کی کان ہے جسے جتنا ’’کھودو‘‘ گے اتنا ہی سونا برآمد ہوتا چلا جائےگا اور ان کی لمبی کھدائی کے بعداگرکبھی سونا ختم ہوا تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ سونے کے بعد ہیروں کی کان شروع ہوجائے گی۔ ملک کا بچہ بچہ بری طرح مقروض کردینے کے بعد بھی یہ نہ صرف معززہیں بلکہ دوبارہ منتخب ہونے کے امیدوار اور دعویدار بھی یعنی ’’اک واری فیر شیر‘‘ہماری قسمت میں یہ آدم خور شیرہی رہ گئے۔ ’’انسان‘‘ ان کے حصے میں آئے جو ستاروں پر کمندیں ڈال کر پہلی ’’خلائی سلطنت‘‘ کا ’’سلطان‘‘ مقرر کرچکے۔الامان، الامان، الامان.

اپنا تبصرہ بھیجیں