Orya-Maqbool-Jan

گاربیج ان۔گاربیج آئوٹ

orya-maqbool-jan-column
انگریز کی تربیت یافتہ سول بیورو کریسی اور اسی کی نرسری میں پل کر جوان ہونے والی سیاسی اشرافیہ کا یہ اتحاد قیامِ پاکستان سے پہلے ہی اس قدر مقدس اور محترم بنا دیا گیا تھا کہ ان کے زیر اثر علاقوں کی حدود کو چھیڑنا، تبدیل کرنا یا وہاں کسی اور نسل اور رنگ و زبان کے لوگوں کو آباد کرنا انتظامی طور پر جرم تصور ہوتا تھا۔ ان دونوں نے مل کر ضلع، تحصیل اور پٹوار سرکل تک لوگوں میں تقسیم کی لکیریں کھینچی تھیں۔ ہر لکیر کے اندر موجود علاقے میں ایک شخص کو با اثر اور مختار بنا دیا گیا تھا۔ گائوں میں نمبردار ہوتا ہے جسے حکومت اس کی خدمات کے عوض ساڑھے بارہ ایکڑ زمین عطا کرتی ہے۔ ہر گائوں کی نمبرداری ایک خاص برادری اور قوم کے فرد کو ہی دی جاتی ہے۔ اسی لیے وہ ضرب المثل مشہور ہے کہ میراثی کے بیٹے کو اس کے باپ نے کہا تھا ’’سارا گائوں مر بھی جائے تو تجھے کوئی نمبردار نہیں بنائے گا‘‘۔ اس نمبردار کے توسط سے پورے گائوں کی زمینوں کی تقدیر پٹواری اور قانوگو کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ آبیانہ اور مالیہ کی تلواریں ہاتھ میں لیے ہوئے یہ اہلکار اپنے ساتھ محکمہ آبپاشی و زراعت کے طاقتور اہل کاروں کو ملا کر ایک ایسے نظام کو مستحکم کرتے ہیں جس میں پانی کی تقسیم سے لے کر زمینوں کی گرداوری میں مالیہ و آبیانہ کی کمی اور زیادتی سب ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس سارے نظام کا تحفظ 1861ء کا پولیس ایکٹ کرتا ہے جس میں ایس ایچ او کے وسیع اختیارات علاقے میں کسی وائسرائے یا مطلق العنان بادشاہ سے کم نہیں ہوتے۔ ان پٹوار سرکلوں، قانوگو حلقوں اور تھانوں کی حدود کو ملا کر ایک تحصیل، تعلقہ اور پھر ضلع بنایا گیا ہے جس کی انتظامی باگ ڈور ایک ڈپٹی کمشنر اور دوسرے پولیس کے سربراہ کے ہاتھ میں دی گئی ہے جو وہاں پر موجود انگریز کے زمانے سے مستحکم سیاسی خاندان کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ہر ضلع اور تحصیل کا ایک مخصوص سیاسی خاندان ہوتا ہے جس کے آباء و اجداد نے تقریباً دو سو سال سے اپنے زیرِ اثر علاقے میں انگریز حکومت اور پھر پاکستانی حکومت کی مدد سے اپنی دھاک مستحکم کی ہوئی ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں میں جہاں قبائلی نظام موجود ہے اور آج بھی مستحکم ہے۔ وہاں نواب، سردار، وڈیرہ، ملک اور ٹکری ہوتے ہیں جو ڈپٹی کمشنر یا پولیٹکل ایجنٹ کی مدد سے بذریعہ لیویز رسالدار و تحصیلدار اپنی عمل داری قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس ساری تقسیم میں رد و بدل اور تبدیلی صرف ان علاقوں میں آتی ہے جہاں آبادی کی نقل و حمل ہوتی ہے اور لوگ اردگرد کے شہروں اور دیہات سے آ کر وہاں آباد ہو جاتے ہیں۔کوئی بھی علاقہ، جاٹ، گجر، یوسف زئی، کاکٹر، رئیسانی، بگٹی یا انٹر اور بجارانی کے لیے مخصوص نہیں رہتا۔ ایسے بڑے شہر چند ایک ہیں جیسے کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد۔ کوئٹہ اور پشاور اپنی مخصوص نسلی تقسیم کی وجہ سے آج بھی ویسے ہی ہیں جبکہ ملتان میں آباد کار و لوکل اور فیصل آباد، گوجرانوالہ میں بھی برادری کی تقسیم انتظامیہ کو کھل کھیلنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ تمام لکیریں اور سرحدیں اس قدر مقدس، محترم اور ناقابل تبدیل بنا دی گئی ہیں کہ آپ پاکستان کے خاتمے کی بات کریں۔ اس کی پیش گوئیاں کریں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی لیکن آپ ایک دفعہ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان یہاں تک کہ پنجاب جیسے ترقی یافتہ صوبے کی بات کریں کہ انہیں تقسیم کر دیا جائے تو خون کی ندیاں بہانے والے دعویدار ایک دم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ گزشتہ ستر سالوں میں جو نئے ڈویژن اور اضلاع بنائے گئے ہیں ان میں انگریز کی بنائی گئی بنیادی تقسیم یعنی پٹوار سرکل کو نہیں چھیڑا گیا اور نئے اضلاع اور تحصیلیں بھی اسی سیاسی اشرافیہ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اشتہارات


یہ ہیں وہ الیکٹ ایبلز جو جس طرف چلے جائیں اس پارٹی کا اقتدار یقینی ہو جاتا ہے۔ 1937ء کے الیکشنو ںمیں قائد اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ پنجاب میں ہار گئی تھی، لیکن جب 1946ء میں یونینسٹ پارٹی کے الیکٹ ایبلز اس میں شامل ہوئے تومسلم لیگ پنجاب میں جیت گئی۔ اس کی بنیاد مشہورسکندر جناح پیکٹ تھا۔ پاکستان میں الیکشن کا نظام ان حلقہ بندیوں (constituenaes) کے گرد گھومتا ہے اور ہر ایک حلقہ بندی میں موجود الیکٹ ایبلز کے مفادات کا تحفظ انتظامیہ اور پولیس کرتی ہے۔ ان افسران کے ہتھکنڈوں پر کئی سو صفحات پر مشتمل کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ جس کو کسی حلقے کا ایس ایچ او اور تحصیلدار جتوانا چاہے، اسے ہروانے کے لیے کم از کم انقلاب فرانس جیسی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کے رنگ، نسل، زبان، علاقے اور ذاتی مفادات اور تحفظات کو بہا کر لے جائے اور ایسا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ اس لیے کہ ہر پانچ سال بعد جو عوامی غم و غصے کے غبار میں ہوا بھری ہوتی ہے اور وہ پھٹنے کو تیار ہوتا ہے۔ الیکشنوں کی سوئی سے اس میں پنکچر کر کے ہوا نکال دی جاتی ہے اور لوگ اگلے پانچ سالوں کے لیے پھر امید لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایسا بار بار ہوتا چلا جا رہا ہے، بلکہ جب عوام ذرا زیادہ دیر تک جمہوریت کے تلخ تجربے سے مایوس ہو جاتے ہیں تو فوجی اقتدار سے انہیں بہلایا جاتا ہے اور یہ فوجی اقتدار بھی اپنی بیساکھیوں کے لیے انہی الیکٹ ایبلز کو استعمال کرتا ہے۔ 1964ء میں ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ بنائی جس کا سیکرٹری جنرل ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ 1985ء میں ضیاء الحق نے مسلم لیگ بنائی جس کا صدر محمد خان جونیجو اور اس کی روح رواں شریف فیملی تھی اور 2002ء میں پرویز مشرف نے پھر ایک مسلم لیگ بنائی جس کا صدر چودھری شجاعت حسین تھا اور یہ سارے الیکٹ ایبلز ان فوجی سیاسی پارٹیوں میں بھی تھے اور پیپلزپارٹی، نون لیگ اور اب پی ٹی آئی میں بھی موجود ہیں۔ یہ اس پورے سیاسی نظام کی تلخ حقیقت ہے۔ ہم نے یہ تصور بنا لیا ہے کہ اگر بار بار الیکشن ہوتے رہے تو صاف شفاف قیادت آ جائے گی۔ ایسا اگلے کئی سو سال تک نا ممکن ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہو گا جب انتخابات کا ڈھانچہ تبدیل کر کے اسے انگریز کی بنائی گئی سرحدات اور انتظامی حد بندیوں سے نکالا جائے۔ پوری دنیا میں اس وقت ترقی یافتہ جمہورتیوں میں 99ممالک ایسے ہیں جہاں ووٹر ان حلقہ بندیوں سے بالاتر ہو کر براہِ راست سیاسی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ پاکستان، بھارت یا ایسی دیگر جمہورتیں دراصل عوام کی نمائندہ قیادت منتخب نہیں کرتیں۔ ایک حلقے میں اگر دس لوگ کھڑے ہوں تو ووٹ یوں تقسیم ہو جاتے ہیں کہ گیارہ فیصد ووٹ لینے والا منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچ جاتا ہے اور باقی 89فیصد کی رائے بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ پارٹی کو براہ راست ووٹ دینے سے اگر پورے ملک میں کسی پارٹی نے پانچ فیصد بھی ووٹ لیے ہوں تو اس کے حصے میں اگر ایک سیٹ بھی آ جائے تو عوام کی رائے ضائع نہیں جاتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ حلقہ بندی سیاست، سڑکیں بنانے، پانی، صحت اور تعلیم سے لے کر کورٹ کچہری تک کے دھندوں سے ووٹ اور رائے آزاد ہو جاتی ہے۔ یہ تمام کام بلدیاتی اداروں کے ذمہ ہو جاتے ہیں اور ملکی قیادت اعلیٰ نظریاتی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ پارٹی کا انحصار الیکٹ ایبلز پر ختم ہو جاتا ہے اور وہ قابل، ذہین اور نظریاتی افراد کو اسمبلیوں میں بھیجتی ہیں جو حلقہ بندیوں اور علاقائی ووٹوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ ملکی مفادات کے حوالے سے سوچتے ہیں اور علاقائی تنازعات سے بلند ہو جاتے ہیں۔ علاقائی حد بندیاں ختم ہوتی ہیں اور صوبائی حد بندیوں کا خاتمہ آسان ہو جاتا ہے۔ ملکی سطح پر فیصلے علاقائی مفادات سے بالاتر ہو جاتے ہیں نہ سندھ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کالا باغ ڈیم مسئلہ بنتا ہے اور نہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے لیے بجلی اور گیس کی رائیلٹیوں کا تنازع، دنیا کے جن ستانوے ممالک میں یہ نظام رائج ہے وہ اسی طرح کے علاقائی تعصبات اور تنازعات میں الجھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سسٹم بدلا تو آج فرانس، سوئٹزر لینڈ، جرمنی، ناروے، ملائیشیا، ترکی اور دیگر کی طرح ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ یہ وہ طریق کار ہے جس کے ذریعے الیکشن کی مشین میں قابل افراد ڈالے جا سکتے ہیں ورنہ گاربیج ان گاربیج آئوٹ (ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں