اللہ کرے

javed-ch
میری میاں نواز شریف کے ساتھ آخری تفصیلی ملاقات مارچ 2007ء میں ہوئی‘ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا لال مسجد اور سپریم کورٹ سے پھڈا شروع ہو چکا تھا‘ میاں نواز شریف لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ کے پہلو میں پاکستان مسلم لیگ ن کے دفتر میں بیٹھتے تھے۔

سینیٹر پرویز رشید بھی اس وقت جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے‘ یہ نفسیاتی امراض کا شکار تھے‘ لندن میں ان کا علاج چل رہا تھا‘ میں نے پہلی بار پرویز رشید کی آنکھوں میں آنسو اور ہاتھوں میں ارتعاش دیکھا‘ میں کئی دن ان کے ساتھ پھرتا رہا‘ ہم نے لمبی واک بھی کی اور اکٹھے کھانا بھی کھایا‘ وہ مجھے ایک دن میاں نواز شریف کے پاس لے گئے‘ میاں صاحب دفتر میں اکیلے بیٹھے تھے‘ بے نظیر بھٹو اس وقت حیات تھیں اور دوبئی میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھیں‘ میاں صاحب بار بار بے نظیر بھٹو کا ذکر کررہے تھے۔

مجھے محسوس ہوا یہ چاہتے ہیں بے نظیر بھٹو پہلے پاکستان جائیں‘ الیکشن لڑیں‘ جیتیں اور حکومت بنائیں‘ میں ان کی اس ’’اسپرٹ‘‘ پر بہت حیران ہوا‘ میرا خیال تھا جنرل پرویز مشرف تیزی سے غیر مقبول ہو رہے ہیں‘ یہ فوج پر بھی بوجھ بن چکے ہیں اور امریکا اور اس کے اتحادی بھی اب ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیںلہٰذا میاں نواز شریف کے لیے سنہری وقت ہے‘یہ سعودی عرب کی مدد سے پاکستان آئیں‘ الیکشن لڑیں‘ یہ بڑی آسانی سے حکومت بنا لیں گے مگر میاں نواز شریف پہلے بے نظیر کو باری دینا چاہ رہے تھے‘ کیوں؟
مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی‘ میں نے پوری توجہ ان کی گفتگو پر لگا دی‘ مجھے محسوس ہوا جنرل پرویز مشرف کے بعدسسٹم میں ان کی باقیات موجود رہیں گی‘ ان باقیات کی موجودگی میں جمہوری حکومت چلاناآسان نہیں ہو گا‘ وزیراعظم کی کرسی پر جو بھی بیٹھے گا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس کا ٹکراؤ ناگزیر ہوگا‘ دوسرا جنرل پرویز مشرف جاتے جاتے جوڈیشل ایکٹوازم‘ دہشت گردی‘ معیشت اور لوڈشیڈنگ جیسے بے شمار مسائل چھوڑ کر جائیں گے۔

یہ مسائل نئی حکومت کو لے کر بیٹھ جائیں گے اور تیسرا پاکستان مسلم لیگ ن آٹھ سال سے سسٹم سے باہر تھی‘ پارٹی کی پرانی ٹیم تتر بتر ہو چکی تھی اور نئے لوگ نئے مسائل سے واقف نہیں تھے‘ میاں نواز شریف کا خیال تھا ملک میں جو بھی پارٹی حکومت بنائے گی وہ بری طرح فلاپ ہو جائے گی چنانچہ یہ استروں کا ہار بے نظیر بھٹو کے گلے میں ڈالنا چاہتے تھے‘ ان کی کوشش تھی ٹینک کا پہلا سامنا بے نظیر بھٹو کریں اور یہ اس دوران پارٹی کو ’’ری آرگنائز‘‘ کرتے رہیں تاہم میں نے محسوس کیا یہ ہر صورت پنجاب کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں‘ یہ وفاق دے کر پیپلز پارٹی سے پنجاب لے لیں گے ۔

یہ پانچ سال لاہور میں بیٹھیں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خاتمے کا انتظار کریں گے‘ میں نے لندن سے واپسی کے بعد اس ملاقات کی بنیاد پر کالم لکھا اور اس میں عرض کیا ‘میاں نواز شریف بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کو پہلی باری دیں گے‘ یہ 2008ء کے بجائے 2013ء میں حکومت بنائیں گے‘ اللہ تعالیٰ نے میری عزت رکھی‘ میری آبزرویشن سچ ثابت ہوئی لیکن بدقسمتی سے بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں اور پارٹی اور ملک دونوں آصف علی زرداری کے ہاتھ میں چلے گئے اور میاں نواز شریف پنجاب میں بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے‘ تماشے کے نتائج توقع کے مطابق نکلے‘ پاکستان پیپلز پارٹی قومی سے صوبائی پارٹی بن گئی اور میدان میاں نواز شریف کے پاس چلا گیا۔

آج حالات ایک بار پھر میاں نواز شریف کو 2008ء پر لے گئے ہیں‘پاناما کیس آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے‘ میاں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر سزا سے بچتے نظر نہیں آ رہے‘ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے‘ دونوں بھائیوں کی فلاسفی کا اختلاف بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے‘ملک میں خواہ شاہد خاقان عباسی کو این اے 57 سے تاحیات نااہل قرار دے دیا جائے‘ پارٹی راجہ قمر الاسلام کو چوہدری نثار کے خلاف ٹکٹ دے اور نیب خواہ انھیں 24 گھنٹے میں گرفتار کر لے اور خواہ دانیال عزیز نااہل ہو جائیں۔
اشتہارات



پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف کرانچی اور پان پر قہقہے لگاتے ہیں یا پھر گائیکی میں احمد رشدی کا مقابلہ کرتے ہیں‘یہ اپنے لوگوں کو ’’ڈیفنڈ‘‘ نہیں کرتے‘ کل اگر احسن اقبال‘ خواجہ سعد رفیق‘ حنیف عباسی اور طلال چوہدری بھی دانیال عزیز کی طرح میدان سے باہر ہوجاتے ہیں تو میاں شہبا زشریف اس پر بھی احتجاج نہیں کریں گے۔

یہ محمد رفیع کی آواز میں ’’بابل کی دعائیں لیتی جا‘‘ سنا کر آگے چل پڑیں گے‘ عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی لانڈری میں بڑا سے بڑا گندہ لوٹا بھی دھل جاتا ہے لیکن 1979ء کے مکان کو بنیاد بنا کرشاہد خاقان عباسی کو حلقے کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا جاتا ہے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی نااہلی کی لائن لگ جاتی ہے لیکن عمران خان پاک پتن شریف کی برکت سے پانچوں حلقوں کے لیے اہل ہو جاتے ہیں‘ میاں مصباح الرحمن تگڑی رشتے داری کے باوجود نگران وزیر بن جاتے ہیں لیکن جنرل ناصر جنجوعہ نواز شریف سے ہمدردی کی وجہ سے مشیر کے عہدے سے بھی فارغ ہو جاتے ہیں۔

پورے پنجاب کی بیورو کریسی ’’ری شفل‘‘ ہو جاتی ہے لیکن راولپنڈی میںچوہدری نثار کے تعینات کردہ افسر اپنی سیٹوں پر بیٹھے رہتے ہیں‘ شیخ رشید صادق اور امین ہو جاتے ہیں لیکن حنیف عباسی سر پر لٹکتی تلوار دیکھ دیکھ کر زندگی گزارتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے تازہ لوٹے سڑکوں پر نکلتے ہیں‘ ان پر پھولوں کی پتیاں برسائی جاتی ہیں لیکن پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر حلقے میں جاتے ہیں ‘ محب وطن شہری ان کا راستہ روکتے ہیں اور ویڈیو چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے‘ یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کیوں ہو رہا ہے؟

ہم اس سوال کی طرف نہیں جاتے‘ یہ ملک ابھی جنگل سے اتنا باہر نہیں آیا کہ ایسے سوالوں کا جواب تلاش کیا جا سکے یا ان کا برملا اظہار ہو سکے تاہم یہ طے ہے یہ صورتحال ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی‘ ہماری معیشت ایک سال میں زمین پر آ چکی ہے‘ سرکاری اداروں اور بیورو کریسی کو کام چھوڑے ڈیڑھ سال ہو چکا ہے‘ پنجاب میں جس جس سیکٹر میں کام ہوا تھا وہ تمام لوگ اس وقت مقدمے اور انکوائریاں بھگت رہے ہیں‘ پانی کا مسئلہ گھمبیر ہو چکا ہے‘ بجلی پوری ہوتی ہے تو لائنیں ٹرپ کر جاتی ہیں اور لائنیں ٹرپ کر جائیں تو عملہ انکوائری کے خوف سے گرڈ اسٹیشنوں سے بھاگ جاتا ہے‘ سفارت خانوں میں کام ٹھپ ہے‘ ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ تک پہنچ گیا ہے‘ چیف جسٹس سیشن جج کو عدالت میں موبائل فون استعمال کرنے پر ڈانٹتے ہیں تو وہ استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا ہے۔

پی آئی اے کے جہاز اُڑ جائیں تو اُڑ جائیں نہ اُڑیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں‘ پٹرول کی قیمت میں ایک ماہ میں پانچ فیصد اضافہ ہو گیا‘ سی ڈی اے کا کہنا ہے ہم اگر شہر کو پورا پانی دے دیں تو پندرہ دن میں پانی کا ذخیرہ صفر ہو جائے گا اور روپے کی قدر گرنے سے اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے سوا کھرب روپے ڈوب چکے ہیں‘ یہ اپنا سرمایہ سمیٹ کر بھاگ رہے ہیں‘ یہ صورتحال آخر کب تک چلے گی‘ یہ کمزور ملک یہ سختی‘ یہ بے ترتیبی آخر کتنی دیر برداشت کرلے گا؟

ہمیں کالا باغ ڈیم چاہیے‘ یہ ملک کی ضرورت ہے لیکن کیا سپریم کورٹ یہ ڈیم بنا سکے گی‘ یہ سیاسی ایشو ہے‘ یہ ایشو جب تک سیاستدان حل نہیں کریں گے ہم خواہ عالمی عدالت کا فیصلہ لے آئیں کالا باغ کالا ہی رہے گا‘ یہ ڈیم میں تبدیل نہیں ہو سکے گا‘ ہمیں بہرحال ہوش کے ناخن لینا ہوں گے‘ ہم یہ ناخن جتنی جلدی لے لیں ہمارے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا‘ میں میاں نواز شریف کو نہ ہونے کے برابر جانتا ہوں لیکن میں اس کے باوجود سمجھتا ہوں یہ صورتحال سیاسی لحاظ سے میاں نواز شریف کو سوٹ کرتی ہے۔
اشتہارات



ملک میں اگر اس وقت کوئی شخص مطمئن ہو سکتا ہے تو وہ میاں نواز شریف ہو گا‘ مجھے ان کی باڈی لینگویج سے محسوس ہوتا ہے یہ 2018ء کے الیکشن نہیں جیتنا چاہتے‘ یہ پیپلز پارٹی کی طرح پاکستان تحریک انصاف کو پورا پورا موقع دینا چاہتے ہیں‘ یہ ذہنی طور پر ایک بار پھر اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں چنانچہ میاں نواز شریف الیکشن جیتنے کے باوجود حکومت نہیں بنائیں گے‘ یہ اپنے آٹھ دس پیٹریاٹ دے کر بھی عمران خان کو وزیراعظم بنوا دیں گے اور پھر اپوزیشن میں بیٹھ کر ’’نئے پاکستان‘‘ کا تماشا دیکھیں گے پھر وزیراعظم ہاؤس کی چھت پر جنات بھگانے کے لیے روزانہ تازہ گوشت پھینکا جائے گا۔

وزراء کو پورٹ فولیو دے دے کر واپس لیے جائیں گے‘ کابینہ کے فیصلے ٹویٹر پر ہوں گے‘ حکومت میڈیا کے کیمرے اور مائیک توڑے گی‘ نیب کے خلاف بیانات جاری ہوں گے ‘ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کو ’’جوڈیشل ایکٹوازم‘‘کا طعنہ بھی دیا جائے گا‘ ہم معیشت میں ایسے ایسے تجربے کریں گے کہ پوری دنیا کے چھکے چھوٹ جائیں گے‘ ڈالر دو سو روپے سے اوپر نکل جائے گا اور ہم ایسے ایسے اداروں سے قرضے لیں گے کہ ہمارا اپنا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا‘ اگر میاں نواز شریف کی ’’سازش‘‘ کامیاب ہو گئی تو آپ 2019ء میں پاکستان کے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی دیکھ لیجیے گا‘آپ بجلی‘ اسٹاک ایکس چینج‘ انڈسٹری اور سی پیک کا حشر بھی دیکھ لیجیے گا اور آپ لاء اینڈ آرڈر اور بے روزگاری کا لیول بھی ملاحظہ کر لیجیے گا۔

میاں نواز شریف آج پورے ملک کے ولن ہیں‘ ہم سب انھیں گالیاں دے رہے ہیں‘ مجھے خطرہ ہے اگر میاں نواز شریف نے 2008ء کی طرح اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا اور ملک میں نئے پاکستان کی حکومت آ گئی تو وہ وقت آتے دیر نہیں لگے گی جب ہمارے پاس نواز شریف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا اور ہم انھیں جیل سے نکال کر تخت پر بٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے‘ اللہ کرے وہ وقت نہ آئے‘ عمران خان حکومت بنائیں‘ پانچ سال پورے کریں اور یہ پرانے پاکستان کو واقعی نیا پاکستان بنا دیں‘ یہ ملک کے اصلی اور سچے لیڈر ثابت ہوں اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو سکا تو میاں نواز شریف تاریخی طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے اور ملک میں ان کی کوئی اپوزیشن نہیں ہو گی‘ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں