اس بے حرمتی پر مسلمان حکمران کیا بولیں گے؟

ansar-abbasi
اس بار فٹ بال ورلڈ کپ کے موقع پر سوشل میڈیا میں ایسے فٹ بالز کی تصاویر گردش کر رہی ہیں جن پر اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے دوسرے ممالک کے علاوہ سعودی عرب کا بھی قومی پرچم نقش ہے۔ چونکہ سعودی قومی پرچم پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اس لیے سوشل میڈیا میں گردش کی جانے والی فٹ بالز کی ان تصاویر نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کے جذبات کو مجروح کیا۔ ایک ایسی ہی تصویر پر میں نے اپنے ٹیویٹر کے ذریعے مذمتی پیغام دیا اور مطالبہ کیا کہ اسلامی دنیا خصوصی طور پر سعودی عرب اس معاملہ کو فوری طور پر متعلقہ پلیٹ فارمز پر اٹھائے تاکہ اس بے حرمتی کو روکا جائے۔ میری اس ٹیویٹر پیغام پر ایک خاتون صحافی نے مجھے لکھا کہ یہ تصاویر جعلی ہیں جس پر میں نے اپنا پیغام حذف کر دیا۔ لیکن چند روز کے بعد مجھے جماعت اسلامی کی سابق ایم این اے ڈاکٹر سمعیہ راحیل قاضی صاحبہ کی طرف سے یورپ میں بسنے والے ایک پاکستانی کا ویڈیو پیغام موصول ہوا۔ یہ پاکستانی خود ایک ایسے اسٹور میں موجودتھا جہاں یہ فٹ بالز فروخت کے لیے بڑی تعداد میں رکھے گئے تھے۔ اس پاکستانی نے ویڈیو کے ذریعے ان فٹ بالز کو دکھاتے ہوئے بتایا کہ اُس شہر میں جہاں وہ موجود ہے کے دوسرے اسٹورز میں بھی یہ فٹبال بیچے جا رہے ہیں۔ یہ فٹبال کس نے بنائے اور کس نیت سے سعودی عرب سمیت دوسرے ممالک کے پرچم ان فٹ بالز پر چھاپے مجھے اس بارے میں معلوم نہیں لیکن یہ عمل نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ کسی طور بھی مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں۔ بلکہ ایسے عمل سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ان نازک معاملات میں مسلمان ممالک کی حکومتوں پر اصل ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی فارمز پر مسلمانوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اُس عمل کو رکوائیں جو بےحرمتی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہاں مسلمان ممالک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام مسلمانوں کو بھی پر امن احتجاج کے ایسے بااثر طریقے اپنانے چاہیے تاکہ اُن کی آواز کو مغرب میں سنا جائے۔ ہمارا ردعمل ایسا نہیں ہونا چاہیے جو خود اسلامی تعلیمات کے منافی ہو یا کسی معصوم کی جان و مال کے لیے خطرہ بنے۔ ماضی میں ایسے کئی واقعات ہوئے جب مغربی دنیا میں کسی اسلام مخالف اقدام پر مسلمان نے اشتعال میں آکر اپنے ہی شہروں میں جلائو گھرائو اور توڑ پھوڑ کر کے اپنے ہی لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا۔ ہمیں یہ رویہ ترک کر کے ان معاملات پر پُرامن اور پُر اثر احتجاج کے طریقے اپنانے ہوں گے ۔ ایسے نازک معاملات میں پرتشدد احتجاج کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مسلمان ممالک کے حکمران اور اُن کی حکومتیں مغربی دنیا کے اسلام مخالف اقدامات پر بروقت اپنا ردعمل نہیں دیتے۔ اس لیے اگر عام مسلمانوں سے یہ توقع کی جائے کہ وہ ایسے معاملات میں اپنا احتجاج پُرامن رکھیں گے تو وہیں مسلمان ممالک کی حکومتوں اور حکمرانوں کو ایسے معاملات میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ہر وہ اقدام اٹھانا چاہیے جس سے نہ صرف عام مسلمان کے جذبات کی عکاسی ہو سکے بلکہ ایسے اسلام مخالف عمل کو روکا جا سکے۔ فٹ بال پر کلمہ طیبہ کے پرنٹ کے معاملہ پر حکومت پاکستان کو اپنا در عمل ضرور دینا چاہیے اور دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھ ملک کر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تا کہ ایسے کسی بھی اسلام مخالف اقدام پر سب مسلمان یک زبان ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ یورپ اور امریکا کی حکومتوں کو بھی یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ایسے اسلام مخالف اقدامات سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان چپقلش پیدا ہوتی ہے اور نتیجتاً معاملات تشدد کی طرف چلے جاتے ہیں۔حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے سعودی حکومت سے بھی یہ مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ سعودی عرب کوا سپورٹس فیڈیشنز اور کچھ دوسرے مقاصد کے لیے اپنا ایسا جھنڈا متعارف کروانا چاہیے جس پر کلمہ طیبہ موجود نہ ہو تاکہ کسی بے حرمتی کا امکان ہی پیدا نہ ہو سکے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں