شام :روسی طیاروں کی بمباری ،5 بچوں سمیت 22 افراد ہلاک


دمشق ، نیو یارک،ماسکو ( نیٹ نیوز، آ ئی این پی ) جنوبی شام میں روسی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 5بچوں سمیت 22افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں ۔ بارود سے بھری 2گاڑیوں کے دھما کوں میں 6افراد دم توڑ گئے جبکہ 20زخمی ہو ئے ہیں ۔اقوام متحدہ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے جنگ بندی زون میں کارروائی روکی جائے ۔روس وعدوں کی پاسداری کرے اور جنگ بندی معاہدے پر عمل کرے ۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کے مطابق روسی جنگی طیاروں نے المسعفرا نامی شہر میں مجموعی طور پر 35 حملے کئے ، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ آبزرویٹری کے مطابق ان حملوں میں ایک ایسے تہہ خانے کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں 17شہری پناہ لئے ہوئے تھے ۔ اس کارروائی میں پانچ بچے بھی مارے گئے ۔ ماسکو حکومت نے اس خبر پر ابھی تک تبصرہ نہیں کیا ہے ۔علا وہازیں شام کی تحصیل عفرین کے مرکز میں بم سے مسلح گاڑیوں کے ساتھ کئے گئے حملوں میں 6 افراد ہلاک اور 22زخمی ہو گئے ہیں۔ضلع حلب سے منسلک تحصیل عفرین میں بم سے مسلح 2 گاڑیوں میں اوپر تلے دھماکے ہوئے ۔ حملوں کی ذمہ داری تا حال کسی نے قبول نہیں کی۔ علا وہ ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مغربی ارکان نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے جنگ بندی زون میں کارروائی روک دے ۔اقوام متحدہ کیلئے امریکہ کے نائب مندوب جوناتھن کوہن نے شام کے بارے میں عالمی ادارے کے ماہانہ اجلاس میں کہا کہ امر یکہ جنگ بندی کے حوالے سے اپنے عزم پر کاربند ہے ۔انہوں نے روس پر بھی زوردیا کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کرے اور لڑائی روکے ۔فرانس کے مندوب فرانکوئس ڈیلایٹرے نے تمام فریقوں پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے زوردیا تاکہ اس کارروائی کو فوری طورپر روکا جاسکے ۔شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے میستورا نے کشیدگی میں اضافے سے متعلق اپنی تشویش ظاہر کی اور خبردار کیا کہ اس سے 7 سال سے جاری تنازعے کا سیاسی حل نکالنے کے حوالے سے نئی کوششوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ ادھر روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنوبی شام میں کشیدگی میں کمی سے متعلق معاہدے پرسختی سے عمل درآمد جاری ہے اور اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں