الٹا لٹکانے کے دعویدار اور پنڈی بوائے


شیخ رشید احمد نے دو تقریریں تیار کر رکھی تھیں۔ ایک تقریر وہ تھی جو انہوں نے نااہلی کی صورت میں کرنا تھی۔ دوسری تقریر انہوں نے عدالت کی طرف سے اہل قرار دیئے جانے پر کرنا تھی۔ منگل کی شب ان کے بھتیجے راشد شفیق نے مشورہ دیا کہ سپریم کورٹ نہ جائیں۔ اگر نااہلی کا فیصلہ آگیا تو بڑی سبکی ہوگی لیکن شیخ صاحب نے کہا کہ میں لیڈر ہوں گیدڑ نہیں ہوں۔ کورٹ ضرور جائوں گا اور فیصلہ میرے خلاف آگیا تو نواز شریف کی طرح اسے مسترد نہیں کروں گا۔ بدھ کی صبح جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنا دیا جو تین ماہ سے محفوظ پڑاتھا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک شکیل اعوان کی طرف سے شیخ رشید احمد کو نااہل قرار دینے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ شیخ صاحب مسکراتے ہوئے سپریم کورٹ سے باہر آئے اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے بڑے فخر کے ساتھ اپنے آپ کو ’’پنڈی بوائے‘‘ کہا اور نواز شریف کو للکارتے ہوئے کہا کہ میں آ رہا ہوں اور عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بنائوں گا۔ شیخ صاحب چیر پھاڑ کر کھا جانےوالے لہجے میں کہہ رہے تھے کہ میں جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کی پیداوار نہیں ہوں۔ جی ایچ کیو کی پیداوار نواز شریف ہے اور پھر یہ اعلان بھی کردیا کہ 25جولائی کے انتخابات کا فیصلہ آج 13جون کو سپریم کورٹ کےفیصلے کے بعد ہی ہو گیا ہے۔
اب تو شاید مجھے انتخابی مہم بھی نہ چلانا پڑے کیونکہ میں 25جولائی کو ہونے والاانتخاب جیت چکا ہوں۔ شیخ صاحب کے یہ الفاظ سن کر مجھے ایسا لگا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول گئے۔ ایک عدالتی فیصلے کووہ اپنی انتخابی کامیابی کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ کچھ دن پہلے اسی سپریم کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماخواجہ محمد آصف کے حق میں بھی فیصلہ سنایا گیا تھا۔ خواجہ صاحب کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مستردکرتے ہوئے خواجہ محمد آصف کو انتخابات کے لئے اہل قرار دے دیا تھا۔ خواجہ صاحب نے اس فیصلے کے بعد اپنے روایتی دھواں دھار انداز میں مخالفین کو شرم و حیا دلانےسے گریز کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سیالکوٹ روانہ ہوگئے۔ شیخ صاحب کے حق میں آنے والا فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کا معاملہ فل کورٹ کو بھیجنے کی استدعا کی تھی کیونکہ شیخ صاحب نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کاغذات ِ نامزدگی میں ایک سو کنال اراضی کاذکر نہ کرنا ان کی غلطی تھی۔ دو ایک کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کی کافی گنجائش موجود ہوتی ہے لیکن شیخ صاحب میڈیا کے کیمروں کے سامنے کھڑے ہوکر کہہ رہے تھے کہ میں عمران خان کے ساتھ مل کرحکومت بنائوں گا اور چوروں کو الٹا لٹکائوںگا۔ ان کا ڈائیلاگ سن کر مجھے میر تقی میرؔ کا ایک شعر یاد آگیا؎
نہ بک شیخ اتنا بھی واہی تباہی
کہاں رحمت ِ حق، کہاں بے گناہی
میر تقی میرؔ کے اس شعر میں آپ کو تھوڑی بدزبانی اور جھنجھلاہٹ نظر آئے گی لیکن حقیقت میں میرؔ صاحب نے شیخ صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی بلکہ انہیں ہمدردانہ انداز میں یہ سمجھا رہے ہیں کہ بڑا بول مت بولو۔ جب کبھی میرؔ صاحب کو کسی کی بدزبانی کا سامنا کرنا پڑتا تو و ہ اس اندازِ گفتگو پر یوں شکوہ کرتے؎
یوں پکارے ہیں مجھے کوچۂ جاناں والے
اِدھر آ بے، ابے او چاک گریباں والے
میر تقی میرؔ کے ان اشعار کے یہاں ذکر کا مقصد شیخ صاحب پر طنز ہرگز نہیں ہے کیونکہ آج کل ’’کوچۂ جاناں‘‘ میں ’’چاک گریباں‘‘ سیاستدانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اس ناچیز کو عدالتوں میں سیاستدانوں کے گریبان چاک ہونا اچھا نہیں لگتا البتہ جب عوام انتخابات میں اپنے ووٹ کو ہتھیار بنا کر کسی کا گریبان چاک کرتے ہیں تو بہت مزا آتا ہے۔ آپ کہیں گےکہ بھئی عدالت میں کسی سیاستدان کا گریبان چاک ہونے پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟ مجھے کوئی اعتراض نہیں یہ خاکسارتو صرف یہ چاہتا ہے کہ عدالت میں ذوالفقار علی بھٹو، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کاگریبان چاک ہوتا ہے تو پرویز مشرف کا بھی ہونا چاہئے۔ خیال تھا کہ اصغر خان کیس میں سیاستدانوں کے ساتھ اسلم بیگ اور اسد درانی کا بھی فیصلہ ہو جائے گا لیکن اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ان دونوں ریٹائرڈ جرنیلوں کا احتساب جی ایچ کیو کرے گا اور سیاستدانوں کا فیصلہ ایف آئی اے کرے گی۔ بات چل نکلی ہے تو دور تلک جائے گی۔ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ ’’کوچۂ جاناں‘‘ میں صرف سیاستدانوں کے گریبان چاک ہوتے رہیں۔ کسی نہ کسی جج کومشرف کے گریبان پربھی ہاتھ ڈالنا پڑے گا ورنہ آئین ایک مذاق بن جائے گا۔
اشتہارات



آج کل نواز شریف اپنا تقابل پرویز مشرف سے کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں جس وزیراعظم نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اسے نااہل قرار دے دیا گیا اور جس شخص نے دو مرتبہ آئین توڑا اسے گرفتار نہ کرنے کی ضمانت دی جارہی ہے۔ جب نواز شریف یہ باتیں کرتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ اس ’’کوچۂ جاناں‘‘ میں کچھ ایسے گستاخ موجود ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئین سے غداری کے ملزم پرویز مشرف کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت سپریم کورٹ نے نہیں دی تھی بلکہ نواز شریف کی حکومت نے مشرف کو پاکستان سے فرار کرایا اور فرار کے اس منصوبے میں جنرل راحیل شریف کے ساتھ ساتھ شہباز شریف اور اس وقت کے اٹارنی جنرل بھی شامل تھے۔ کیا یہ سب لوگ وزیر اعظم کی مرضی کے بغیر مشرف کو پاکستان سے نکال سکتے تھے؟ مجھے اس تلخ حقیقت کا ذکر اس لئے کرنا پڑا کہ مشرف کے معاملے پر مجھے خاموشی اختیارکرنے کا مشورہ صرف جنرل راحیل شریف نہیں بلکہ نواز شریف کے قریبی ساتھی بھی دیا کرتے تھے لیکن میں نے ان کی بات نہ مان کر جن تکلیفوں کاسامنا کیا اس پر کبھی زبان نہیں کھولی۔ میرے جسم میں چھ گولیوں کے سوراخوں نے مجھے اتنی تکلیف نہیں دی جتنی تکلیف توہین رسالتؐ کے اس جھوٹے مقدےنے دی جو نواز شریف کے دور میں مجھ پر دائر ہوا۔ یہ بے بنیاد مقدمہ کئی ماہ تک عدالت میں زیرسماعت رہا اور آخرکار الزام مسترد ہو گیا لیکن اس دوران میں نے جو دیکھا اور جو سیکھا وہ یہ تھا کہ ہمارے اکثر بڑے سیاستدان اقتدار کی خاطر صرف عوام سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ اور خاندان کے افراد کے ساتھ بھی جھوٹ بولتے ہیں لہٰذا ان کی باتوں پر اعتبار کرنے سےپہلے ایک دو دفعہ نہیں سو مرتبہ سوچنا چاہئے۔
نوازشریف ا گر مشرف کے معاملے پر شہبازشریف اورچوہدری نثار علی خان کی بات نہ مانتے تو ان کی حکومت کے خلاف بغاوت کا خطرہ تھا۔ مجھے شہباز شریف اس خطرے سے بار بار خبردارکرتے رہے۔ میرا موقف یہ تھا کہ اگر نواز شریف مشرف کے معاملے پر سمجھوتے سے انکار کردیں اور ان کی حکومت گرادی جائے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کے پائے کے لیڈر بن جائیں گے لیکن نواز شریف نے سمجھوتہ کرلیا۔ پہلے مشرف کو بھگایا پھر ڈان لیکس میں پرویز رشید کو وزارت سے نکال کر خودکو بہت سے خیرخواہوں کی نظر میں ناقابل اعتبار بنا دیا۔ آج ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے دبنگ اور شعلہ بیان ساتھی دن کے اُجالے میں ریاستی اداروں کو للکارتے نظرآتے ہیں اور رات کو انہی اداروں کے سامنے منت سماجت کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ منت سماجت والی بات سنی سنائی نہیں ہے اس لئے شیخ رشید احمد کو بڑا بول نہیں بولنا چاہئے۔ سیاستدانوں کا منت سماجت کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ کوئی پتا نہیں کل کو یہ وقت عمران خان اور شیخ صاحب پر آ جائے۔ شیخ صاحب مخالفین کو الٹا لٹکانے کے دعوے نہ ہی کریں تو بہتر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو غرور پسند نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں