فوری طور پر2 ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہوگیا ہے


چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ فوری طور پر2 ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہوگیا ہے،قرض معافی کیس میں ریکور ہونے والے پیسے سے یہ ڈیم بنائے جائیں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 54 ارب روپے قرض معافی کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قرض معافی کیس میں ریکور ہونے والے پیسے سے ڈیم بنائیں گے، جو رقم واپس نہیں کرنا چاہتے ان کے کیسز بینکنگ عدالت کو بھجوائیں گے اور تمام کمپنیوں، متعلقہ افراد کی جائیدادیں ان کیسز سے منسلک کریں گے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ روز ان کی ڈیمز کےماہرین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز سے جو میٹنگ ہوئی تھی اس کے بعد ملک میں فوری طور پر دو ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہمارے ریکارڈ کے مطابق قرض معافی سے 54 ارب کی جو رقم ریکور ہورہی ہے اس سے ہم ان ڈیموں کی تعمیر کریں گے۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ بینک والے تو یہ پیسہ بھول چکے تھے، جبکہ چند کمپنیوں نے 75 فیصد رقم کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بینکنگ کورٹ کے فیصلے تک معاف کرائی گئی رقم عدالت میں جمع کرانا ہوگی، بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں