نظام انصاف۔ چند مودبانہ سوالات


قانون کا علم رکھتا ہوں اور نہ اس کی موشگافیوں سے واقف ہوں۔ بطور صحافی عدالتی کارروائیاں بہت دیکھ چکا ہوں لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کبھی کسی عدالت میں بطور ملزم پیش نہیں ہوا۔ نزاکتوں کو سمجھ نہیں سکتا ، اس لئے قانونی معاملات پر تبصرہ آرائی سے کنارہ ہی کرتا ہوں لیکن سیاست کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونےکے ناطے جب عدالت ،سیاست کا احاطہ کرلیتی ہے تو اپنی دلچسپی بڑھتی ہےاور رائے زنی مجبوری بن جاتی ہے ۔ تاہم قانونی معاملات پر آج بھی اپنے آپ کو تبصرے کا اہل نہیں سمجھتا البتہ ان سے متعلق بعض سوالات نے میرا جینا حرام کردیا ہے اس لئے آج انہیں بصدادب و احترام قانون کے رکھوالوں اوراس کے ماہرین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ تسلیم کرتاہوں کہ عدلیہ آزاد ہے اور جو کچھ ہورہا ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہورہا ہوگا لیکن کیا وجہ ہے کہ آج سے کچھ عرصہ قبل صرف پیپلز پارٹی ہی کے رہنمائوں کے کیسز کا غلغلہ تھا ۔ کبھی ڈاکٹر عاصم ، تو کبھی عزیر بلوچ کے جرائم کی فہرست بیان کی جاتی تھی ۔ اس دوران مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کے جرائم سے متعلق مکمل خاموشی تھی لیکن کچھ عرصہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کے کیسز کا غلغلہ ہے لیکن پیپلز پارٹی کی طرف خاموشی ہے ۔ میں حیران ہوں کہ کوئی عدالت یہ سوال کیوں نہیں اٹھارہی کہ عزیز بلوچ کہاں ہے ؟
مانتے ہیں کہ عدلیہ ہی پاکستان کا سب سے معزز ادارہ ہے ۔اس کی توہین تو کیا اس کی طرف آنکھ اٹھانے والے بھی قابل معافی نہیں ۔ دانیال عزیز ہو کہ نہال ہاشمی ، جو بھی اس کی توہین کرے ان کو سنگین سزا ملنی چاہئے ۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ ہماری عدالتیں غصے یا انتقام کا شکار ہوسکتی ہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتاکہ جس حساسیت کا مظاہرہ کچھ عرصہ سے ایک پارٹی کے رہنمائوں کے ریمارکس کے بارے میں کیا جارہا ہے ، وہ دوسروں کے بارے میں نہیں ۔ مثلاً خادم حسین رضوی صاحب نے کیمروں کے سامنے چیف جسٹس آف پاکستان کے بارے میں جو الفاظ استعمال کئے، ان کو سنتے ہوئے بھی انسان کانپ اٹھتا ہے لیکن آج تک کسی عدالت نے انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے اندر سب سے معزز جج کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دئیے اور پھر کیمرے کے سامنے بیٹھ کر پون گھنٹےکی گالم گلوچ کی ویڈیو ریکارڈ کردی لیکن اس کا کسی عدالت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ مجھے یہ سوال پریشان کررہا ہے کہ توہین کے مرتکب کچھ افراد سے متعلق یہ خاموشی کیوں ہے؟۔
اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ ہمارے ہاں انتظامیہ بری طرح ناکام ہوئی ہے اور جوڈیشل ایکٹوزم بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار صاحب کے تحرک کی وجہ سے عوام کو ریلیف مل رہا ہے جبکہ بعض اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے لیکن ہمیں توبتایا جاتا ہے قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں۔ اب میں سمجھنے سے قاصرہوں مفرور رائو انوار کے ساتھ خصوصی رعایت کیوں برتی جارہی ہے ۔ پہلے اسے خصوصی گیٹ سے سپریم کورٹ لایا گیا ۔ پھر اسے جہاز میں خصوصی طور پر سیلفیاں بناتے ہوئے کراچی بھیجا گیا۔ پھر اسے جیل کی بجائے گھر میں رکھا گیا ۔ مقتول نقیب اللہ محسود کے والد ملزموں کی طرح عدالت میں پیش ہوتے ہیں لیکن رائو انوار وی آئی پی حیثیت میں پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں آتا ہے ۔ میں سمجھنے سے قاصرہوں کہ جو غصہ سیاسی ملزمان سے متعلق دیکھنے کو ملتا ہے وہ رائو انوار جیسے قاتل کے متعلق کیوں نظر نہیں آتا ؟۔ ہوسکتا ہے کہ جرائم نوازشریف وغیرہ کے بھی سنگین ہوں لیکن جنرل پرویز مشرف جنہوںنے آئین توڑا اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کو گھروں میں بند کیا، کے جرم کا تو کوئی ثانی نہیں۔ عرصہ ہوا وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہورہا۔ روز ٹی وی انٹرویوز دے کر دھمکیاں دیتا پھرتا ہے لیکن ان کوواپس بلانے کے لئے وہ تحرک نظر نہیں آرہا جو سیاسی لوگوں سے متعلق نظر آتا ہے ۔ اب جب وہ خود انتخابات میں حصہ لینے کے لئے آنے کے متمنی بنے تو انہیں ایک ڈیل آفر کی گئی لیکن جب اسے انہوںنے نامنظور کیا تو خاموشی چھاگئی ۔ ہوسکتا ہے کہ قانونی مشکلات ہوں اور ممکن ہے کہ عدالتیں اپنا کام کررہی ہوں لیکن عام تاثر یہ ہے کہ شاید پرویز مشرف سے متعلق عدالتیں بے بس ہیں ۔ خود مجھ جیسے سیاست کے طالب علم بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود پرویز مشرف کے معاملے میں ویسا انصاف کیوں نہیں ہورہا جیسا کہ نوازشریف وغیرہ سے متعلق ہورہا ہے ۔
اشتہارات



جھوٹ میاں نوازشریف بھی بولتے ہیں، عمران خان بھی جبکہ شیخ رشید کا تو جھوٹ اوڑھنا بچھونا ہے ۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ان سب کو آئین کے ایک آرٹیکل پر پرکھا گیا ۔ اب ہم جیسے لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیسے ایک جھوٹا صادق و امین قرار پاتا ہے اور دوسرا نااہل ۔ جائیدادوں کی جو قیمتیں گوشواروں میں دکھائی گئی ہیں ، وہ سب مذاق لگتی ہیں لیکن قانونی نکتہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں مارکیٹ ویلیو کے مطابق نہیں بلکہ وقت خرید قیمت بتانی ہوتی ہے ۔ اب مجھے کوئی سمجھائے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما ئوں کے کاغذات تو منظور ہوجاتے ہیں لیکن مری کے حلقے سے اسی بنیاد پر نہ صرف شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوجاتے ہیں لیکن انہیں غیرصادق اور غیرامین ڈکلیئر کرنے کے ساتھ ساتھ عمر بھر کے لئے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح دانیال عزیز کا فیصلہ مئی سے محفوظ ہوا تھا لیکن یہ کیا وجہ ہے کہ دانیال عزیز ہو یا سیالکوٹ کے ایم این اے کا معاملہ ،سب فیصلے اس وقت آنے لگے جب انتخابی مہم زور پکڑ گئی ۔ ہوسکتا ہے کوئی قانونی وجہ ہو یا محض اتفاق ہو لیکن بہر حال ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
ایک اور نکتہ جو میں سمجھنے سے قاصر ہوں وہ یہ ہے کہ پی ٹی وی حملہ کیس اور دیگر کیسز میں عمران خان نیازی صاحب کو حاضری سے مسلسل استثنا مل رہا ہے ۔ ابھی کل ہی انہیں پی ٹی وی حملہ کیس میں حاضری سے استثنا مل گیا ۔ حالانکہ کیس کی سماعت بھی اسلام آباد میں ہورہی ہے اور نیازی صاحب کی رہائش بھی اسلام آباد میں ہے ۔ آنے جانے کے لئے انہیں جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی سہولت بھی میسر ہے بلکہ وہ نور خان جیسے عسکری ائرپورٹ پر بھی اپنا جہاز اتار سکتے ہیں ۔ الحمدللہ وہ تندرست بھی ہیں اور ان کا کوئی عزیز اس طرح کا بیمار بھی نہیں جس طرح کہ کلثوم نواز صاحبہ ہیں ۔ اب احتساب عدالت سے تو میاں نوازشریف اور مریم نواز صاحبہ کو صرف ایک دن کا استثنا مل گیا لیکن نیازی صاحب کے لئے استثنیٰ ہی استثنیٰ ہے ۔
ہوسکتا ہے کہ کوئی قانونی نکتہ ہو اور مجھ جیسے قانون سے نابلد لوگوں کو سمجھ نہ آرہا ہو لیکن یہ تفریق بہر حال ہم جیسے عام لوگوں کو پریشان کررہی ہے اور کوئی اعتزاز احسن جیسا ماہر قانون ہی اس الجھن کو دور کردے تو ان کی مہربانی ہوگی۔جہاں تک قومی احتساب بیورو کا تعلق ہے تو اس کا امتیازی رویہ تو ہم جیسے قانون سے نابلد لوگوں کو بھی سمجھ آرہا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ مسنگ پرسنز کمیشن کے حوالے سے موجودہ چیئرمین نیب کا رویہ اور کردار قابل رشک نہیں رہا۔ یوں بھی جس شخص کو پورے پاکستان سے میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری نے مل کر ڈھونڈ نکالا ، اس سے خود ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنے عظیم انسان ہوں گے ۔ نیب میں زیادہ تر اہم مناصب پر اہم اداروں کے لوگ ہی بیٹھے ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے درجنوں رہنمائوں کے خلاف نیب کے کیسز مختلف مراحل میں تھے کیونکہ گزشتہ پانچ سالوں میں اس ادارے نے مسلم لیگ(ن) کے کسی رہنما کو نہیں چھیڑا اور پیپلز پارٹی کے کسی رہنما کو نہیں چھوڑا ۔ اب کچھ عرصہ سے معاملہ الٹ ہوگیا ہے ۔ نذر محمد گوندل جیسے سینکڑوں لوگ پی ٹی آئی میں چلے گئے ۔ اب نیب کیسز کی بنیاد پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے کسی امیدوار کو تو پکڑا نہیں گیالیکن قمرالاسلام کو عین اسی دن اٹھالیا گیا جس دن انہیں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ جاری ہوا۔ سوال یہ ہے کہ یہ سلوک پرویز خٹک اور نذرگوندل جیسے لوگوں سے متعلق کیوں روا نہیں رکھا گیااور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ قومی احتساب بیورو کو قومی انتقام بیورو بنانے سے کیوں نہیں روک رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں