سی پیک: واہمے اور حقیقت


حر الکاہل پر امریکا اور جاپان کی بالادستی ہے،بحر ہند پر امریکا (اپنے نئے اتحادی بھارت کے ساتھ) قدم جمائے ہوئے ہے جب کہ چین صدیوں پرانے اپنے تجارتی راستوں کی جانب واپس آگیا ہے۔ گیارہویں صدی میں چنگیز خان نے اپنے جرنیلوں کو سمندر پر انحصار نہ کرنے اور زمینی تجارتی راستے اختیار کرنے کی نصیحت کی تھی۔ 1941میں جاپان نے جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا میں خام مال کے اپنے ماخذات سے ملانے والے سمندری راستوں کے لیے جنگ لڑی۔ایشیا، یورپ اور افریقا کو زمینی، سمندری اور فضائی راستوں سے مربوط کرنے کے لیے 2013میں چینی صدر شی جن پنگ نے ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ (OBOR) یا اوبور کے ایسے مؤثر منصوبے کا اجرا کیا، جو بحرانی حالات میں بھی حریف قوتوں کی زد سے محفوظ رہے گا۔

اوبور منصوبہ جغرافیائی طور پر چھ راہ داریوں سے منسلک ہے، جس میں مغربی چین تا مغربی روس، شمالی چین تا مشرقی روس براستہ منگولیا، مغربی چین تا ترکی براستہ وسطی و مغربی ایشیا شامل ہیں۔ سمندری راستوں میں انڈوچائنا کے راستے جنوبی چین اور سنگاپور اور براستہ میانمار و بنگلا دیش، بھارت کی راہ داری شامل ہے۔ ہمارے لیے قراقرم سے گزرنے والے راستوں کے ذریعے چھٹی راہداری اہمیت کی حامل ہے جو جنوبی و مغربی چین سے پاکستان کے ذریعے جاملتی ہے اور اسے چین پاکستان اقتصادی راہ داری یا سی پیک کا نام دیا گیا ہے۔

اپنی جیو اکنامک اور جیو پالیٹیکل اہمیت کے باعث سی پیک سے ایشیا، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے خطے میں پاکستان کی اہمیت اور کردار میںغیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تین براعظموں میں 64ممالک کو ملانے والے اوبور منصوبے سے شاہراہ ریشم کا احیا ہوا ہے، جس کے بنیادی مقاصد یہ ہیں: حکومتوں کے مابین پالیسی سطح پر تعاون اور پالیسی کے تبادلے و مواصلات میں معاونت، خطوں کو باہمی طور پر ملانے کے لیے انفرااسٹرکچر کے منصوبے مثلاً ذرایع رسل و رسائل اور توانائی سے متعلق منصوبے، بلا تعطل تجارت کے ذریعے سرحد پار سرمایہ کاری کا فروغ اور تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا، ایشیا میں مالیاتی استحکام کے لیے کرنسی اور باونڈ مارکیٹ کا قیام، عوامی سطح پر روابط میں اضافے کے لیے تدریس، سیاحت، طب، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کا فروغ۔
چین کے صوبے سنکیانگ سے شروع ہو کر گلگت بلتستان کے راستے سے پاکستان کی گوادر بندر گاہ تک پہنچنے والے 3218کلو میٹر طویل سی پیک افغانستان(اور وسطی ایشیا)، چین، بھارت اور بحر ہند تک تجارت کے لیے انتہائی سستا اور مؤثر ترین تجارتی راستہ ہے۔ ہائی ویز، ریلوے اور پائپ لائنز پر مشتمل اس منصوبے کی مجموعی لاگت 75ارب ڈالر ہے۔ اوبور کے دیگر منصوبوں میں چین کو اس کے مساوی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔ چاہ بہار کے مقابلے میں اس کا راستہ تقریباً 600کلومیٹر مختصر ہے۔ نقل و حرکت کے لیے پچاس کے بجائے پچیس دن درکار ہیں جو دوسرے راستے کا نصف بنتا ہے۔ اس کے علاوہ گوادر کو خلیجی ریاستوں کے لیے بطور ہب پورٹ کے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں نقل و حمل اور توانائی کے شعبوں میں منصوبوں کے اقتصادی فوائد کے ساتھ ساتھ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کئی غریب و پس ماندہ علاقوں میں روزگار کے مواقع لے کر آئے گی۔ حال ہی میں سی پیک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان نے بتایا کہ کس طرح بجلی کی قلت اور صنعتی پیداوار میں کمی سے پاکستان کی 2012-13کی 25ارب ڈالر کی برآمدات 2017-18میں 20ارب ڈالر تک محدود ہوگئیں، جس کے نتیجے میں فطری طور پر پاکستانی روپے کو دباؤ کا سامنا ہے۔ اگر بجلی اور صنعتی پیداوار کی رفتار برقرار رہتی تو 2017-18میں پاکستانی برآمدات 35ارب ڈالر تک پہنچ جاتیں۔ نقل و حمل کے ذرایع میں بہتری اور مزید توانائی کے ذریعے 2015سے 60ہزار پاکستانیوں کے لیے سی پیک کے باعث روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے اور 2030تک 8لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس کے تحت چلنے والے بجلی کے پیداواری منصوبوں کی تکمیل سے 16400میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی۔ اسی منصوبے کے تحت انفرااسٹرکچر اور رسل و رسائل کے ذرایع میں ہونے والی ترقی، خصوصی اکنامک زونز کے قیام اور سیاحت کے فروغ سے پاکستان کی کاروباری فضا اور تعمیر و ترقی میں غیر معمولی بہتری آئے گی۔ دیگر ممالک کی مصنوعات کی نقل و حرکت سے محصولات کی مد میں بڑا اضافہ ہوگا۔ تزویراتی اعتبار سے سی پیک پاکستان کی سلامتی کے تناظر کی تائید کرتا ہے اور ’’مشرق پر نظر‘‘ کی پالسی کے تحت ہماری چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت مزید مستحکم ہوگی۔

دشمن عناصر ، بالخصوص بھارت، سی پیک مخالف مہم کو ہوا دے رہے ہیں، ان کا مقصد تنازعات اور بداعتمادی کی فضا پیدا کرکے پاکستان کو اس منصوبے کے ثمرات سے محروم کرنا ہے۔ مقامی آبادی کو اس منصوبے سے خوف زدہ کرنے کے لیے جس پراپیگنڈے کا سہارا لیا جارہا ہے، اس میں کچھ افواہیں اور واہمے تسلسل کے ساتھ پھیلائے جارہے ہیں۔ پہلا واہمہ یہ ہے کہ ساحلی پٹی اور گوادر بندرگاہ پر چین کی فوجی بیس قائم ہوگی، اس کا مقصد اس علاقے کے وسائل پر قبضہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین نے کبھی کسی خطے پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی توسیع پسندانہ منصوبوں پر عمل پیرا ہوا۔

دوسرا واہمہ بڑی شد و مد سے یہ پھیلایا جارہا ہے کہ پاکستان چین کی کالونی بن کر رہ جائے گا، حقائق کے مطابق نوآبادیات اور سامراجیت دنیا کے شمال میں واقع ممالک کا ورثہ ہے۔ تیسرا خوف یہ پھیلایا جارہا ہے کہ مقامی آبادی کی رضامندی کے بغیر جاری منصوبوں کے ذریعے وسائل کا استحصال کیا جائے گا جس کے لیے آبادیاتی تبدیلیاں کی جائیں گی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سی پیک بلوچستان میں تعمیر و ترقی کا ضامن ثابت ہوگا، سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع سے یہاں معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔

اس پراپیگنڈے کا چوتھا نقطہ یہ ہے کہ پاکستان امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث چینیوں کو ، بالخصوص بلوچستان میں ، تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔ جب کہ حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے 15ہزار اہل کاروں پر مشتمل اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن قائم کیا گیا ہے۔ اس مہم کا پانچواں اہم نکتہ ہے کہ چین کے ساتھ پاکستان کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ قابل تشویش ہے، جب کہ چین کی برآمداتی مسابقت پاکستان تک محدود نہیں۔ ہمارا تجارتی خسارہ 6.2ارب ڈالر ہے جب کہ بھارت کے ساتھ یہ خسارہ 47 ارب ڈالر اور امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 347 ارب ڈالر ہے۔ چینی مزدور اور افرادی قوت(زیادہ تر چینی قیدی) پاکستانی افرادی قوت کی جگہ لیں گے اور انھیں روزگار سے محروم کردیں گے، یہ اس معاندانہ مہم کا چھٹا اہم نقطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اپنے ملک میں کرنے کے لیے بہت کام ہیں، سیکیورٹی وجوہ کی بنا پر متعدد کیمپوں میں قیام پذیر چینی منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ہی واپس لوٹ جائیں گے۔

ساتواں خوف یہ بیان کیا جاتا ہے کہ سی پیک بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے لیے راہ ہموار کرے گا۔ اس کے برعکس اس منصوبے سے آنے والے استحکام کے باعث نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے اور دہشت گردی کے امکانات محدود تر ہوجائیں گے اور انتہا پسندانہ فکر اور عناصر سے انھیں درپیش خدشات میں بھی کمی واقع ہوگی۔ آٹھواں نقطہ ہے کہ سی پیک مقامی کاروبار کو متاثر کرے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سی پیک مقامی مارکیٹ میں مراعات کی پیش کش کے ذریعے معیار میں بہتری لا کر صحت مند مسابقت میں اضافے کا باعث ہوگا۔ نواں نقطہ بیان کرتے ہوئے مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2017میں ایک سیمینار کے دوران ایک سنییئر پروفیسر نے طلبا سے کہا کہ سی پیک محض ایک تخیل ہے۔

تصدیق شدہ(اور سیاسی مقاصد رکھنے والے) اس احمق(جو بزعم خود ماہر معیشت بھی ہے) کو جاکر دیکھنا چاہیے کہ گوادر میں کیا ہورہا ہے۔ دسویں نمبر پر یہ خوف پھیلایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے باعث انشورنش ، قرضوں پر سود اور ریٹرن آن ایکویٹی کی شرح بہت بلند ہوجائے گی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے تحت فراہم کردہ قرضوں کی شرح سود کم ہے، منصوبوں پر سرمایہ کاری میں 17فی صد ریٹرن آن ایکیوٹی کی ضمانت دی گئی ہے۔

پاکستان کے تمام اداروں کو اس منصوبے سے متعلق شکوک پھیلانے کی مہم اور بالخصوص بھارت کی ہمارے خلاف خفیہ جنگ کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہ منصوبہ ہر طرح ہمارے مفاد میں ہے، سی پیک ایک نادر موقعہ ہے جس کے ذریعے ہم خطے میں اپنی اہمیت اور معاشی استعداد کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکتے ہیں۔

( اسلام آباد میں منعقدہ سی پیک سیمینار سے کیے گئے فاضل کالم نگار اکرام سہگل کے خطاب سے ماخوذ)

اپنا تبصرہ بھیجیں