ہمارے صیاد


زندگی میں کئی الیکشن دیکھے اوران کو براہ راست رپورٹ بھی کیا لیکن جو الیکشن اب ہونے والے ہیں ان کی تیاریوں اور ٹیلیویژن پرامیدواروں کی عوام کے ہاتھوں بنتی درگت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز میرے نوجوان اخبار نویس عوام کے غصے کا شکار ایک نیا شکار ڈھونڈ لاتے ہیں امیدواروں کے لیے مشکل ہو چکا ہے کہ وہ اپنے انتخابی حلقے میں عوام سے ووٹ مانگنے کے لیے جائیں کیونکہ ان میں سے بیشتر امیدواروں سے عوام شدید ناراض ہیں اور اپنی ناراضگی کا کھلم کھلا اظہار بھی کر رہے ہیں ۔ عوام کی یہ شدید ناراضگی حزب اقتدار کے سیاست دانوں کے ساتھ زیادہ ہے کیونکہ وہ گزشتہ حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد جا کر اب عوام کے ہتھ چڑھے ہیں۔

عوام اس انتظار میں تھے کہ کب نئے الیکشن ہوں گے اور ان کے گم شدہ نمایندے ایک بار پھر ان کے درمیان ہوں گے اور ووٹ مانگ رہے ہو ں گے جیسے ہی مختلف پارٹیوں نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دے کرانتخابی حلقوں میں بھجوایا ہے روز نئی خبر آرہی ہے کہ کہیں پر امیدواروں کو پارٹی بدلنے پر لوٹے دکھائے جا رہے ہیں تو کہیں اس بات پر احتجاج ہو رہا ہے کہ ان کے نمایندے کو پارٹی نے ٹکٹ جاری نہیں کیا بلکہ کسی غیر نمایندہ یا ناپسندیدہ شخصیت کو ان کے نمایندے کے طور پر حلقے میں بجھوا دیا گیا ہے ۔

پنجاب میں اس طرح کے واقعات کا ہونا کوئی ان ہونی بات نہیں کہ پنجابی منہ پھٹ ہیں اور اپنے حقوق کی آواز بلند کرتے رہتے ہیں اس لیے ان کی طرف سے اپنے آیندہ کے انتخابی امیدواروں سے نارواسلوک کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ جن امیدواروں کو انھوں نے گزشتہ الیکشن میں اپنے نمایندوں کے طور پر ایوان میں بجھوایا تھا وہ ان کی توقعات پر پورا اترنے کی بجائے ان کو ملنے اور ملاقات سے بھی انکاری تھے بلکہ وہ اسلام آباد کے اقتدار کی فضاؤں میںکہیں مدہوش ہی رہے اور جب پانچ سال بعد ان کو ہوش آیا تو عوام کو ایک بار پھر بے وقوف بنانے کے لیے اپنے مال و دولت کے رعب سے مرعوب کرنے بڑی بڑی گاڑیوں کے جمگھٹے میں عوام کے درمیان آپہنچے ہیں۔آج عوام ان کو بڑی گاڑیوں سے اتار کر سوال کر رہے ہیں یہ ایسے سوال ہیں جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں، جواب ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ انھوں نے اس جوابدہی کے لیے کچھ کیا ہی نہیں، صرف اپنے آپ کو مالی طور پر مضبوط کرتے رہے لیکن اس مضبوطی کے ساتھ عوام میں ان کی جڑیںکم زور ہوتی رہیں اور آج یہ وقت آگیا ہے کہ وہ عوامی سوالوں میں گھرے ہوئے ہیں مگرکتنے ہی سوال ہیں کہ ان کا جواب نہیں۔
پاکستان میں عوام اور خواص کا تعلق کبھی مضبوط نہیں رہا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مناسب ہو گا کہ خواص نے ہمیشہ عوام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور عوام ہمیشہ خواص کے ہاتھوں ان کے لیے خوشی خوشی استعمال ہوتے رہے ۔ عوام نے کبھی خواص سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور اگر کبھی کیا بھی اور خوش قسمتی سے وہ پورا بھی ہو گیا تو عوام خوش ہو گئے لیکن اگر پورا نہیں بھی ہوا تو اشرافیہ سے عوام کبھی ناراض نہیں ہوئے کیونکہ اشرافیہ نے عوام کو اپنے جال میں اس قدر جکڑ رکھا تھا کہ عوام کے لیے اشرافیہ کی خوشنودی ہی ہمیشہ مقدم رہی ۔ بقول شاعر؎

آشیاں جل گیا گلستان لٹ گیا ہم قفس سے نکل کے کدھر جائیں گے

اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے اب رہائی ملی تو مر جائیں گے
اشتہارات



نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان میں عوامی شعور بیدار ہونا شروع ہوا ۔ہمارے ڈکٹیٹر حکمران پرویز مشرف نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ عوام کو آزاد میڈیا کی سہولت فراہم کر دی جس کا گو کہ وہ بعد میں خود بھی شکار بن گئے لیکن یہ ان کا کریڈٹ ہے کہ ایک آمر ہوتے ہوئے انھوں نے آزاد میڈیا کی سہولت فراہم کی اور بڑے کھلے دل کے ساتھ کی ۔یکایک کئی نیوز چینلز کا سیلاب آگیا عوام جو کہ اپنے نمایندوں کو ایک عرصے کے بعد کبھی کبھار ہی دیکھ پاتے تھے اب ان میں سے بیشتر نمایندے ان کو ٹیلیویژن کی اسکرین پر نظر آنے لگے اور ان کے سیاسی جوہر ان پر کھلنے لگے ۔ عوام میں اپنے حقوق کے لیے بیداری کی لہر پیدا کرنے میں ہمارے نیوز چینلز کا بنیادی کردار ہے، اگرچہ پرویز مشرف کے بعد آنے والی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی حکومتیں ان چینلز سے نالاں ہی رہیں لیکن معلومات کا ایک خزانہ عوام تک پہنچ گیا اور مسلسل پہنچ رہا ہے ۔

حکومتوں کے کارنامے عوام پر آشکار ہوتے رہے۔ گزشتہ انتخابات میں اگر مبالغہ آرائی نہ کی جائے تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پیپلز پارٹی کا صفایا کرانے میں ان نیوز چینلز کا کردار انتہائی اہم تھا۔ کچھ ایسی صورتحال اب بھی بن رہی ہے نواز لیگ کی حکومت اپنے اقتدار کی معینہ مدت پوری کر کے رخصت ہو چکی ہے، نئے انتخابات چند ہفتوں کے بعد ہونے جا رہے ہیں لیکن نواز لیگ عوام میں مقبولیت کی جن بلندیوں پر آج سے کچھ عرصہ پہلے تھی آج انتخابی محاذ پر اس کا سخت فقدان نظر آرہا ہے۔ پنجاب جسے نواز لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اس کے کئی اضلاع کی صورتحال یہ ہے کہ ان کو انتخابی امیدوار بھی دستیاب نہیں اور بعض اضلاع میں ایک ہی شخص کو کئی کئی حلقوں میں نامزد کر دیا گیا ہے۔

ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوئی اس کا اندازہ تو نواز لیگ کے صدرجناب شہباز شریف کو بخوبی ہوگا وہ خود دن رات ترقیاتی کام کرانے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن ان کے امیدواروں کی شکل میںجو کھوٹے سکے لائے گئے ہیں ان سے موجودہ انتخابات میں کام چلانا ناممکن نظر آرہا ہے، ان امیدواروں کی کارکردگی عوام کے سامنے سوالیہ نشان ہے اور یہی وہ وجہ ہے کہ اسلام آباد میں پانچ سال گزار کر آنے والے امیدوار اب عوامی غیظ و غضب کا شکار ہیں ۔ کچھ ایسا ہی سلوک پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ سندھ میں بھی ہورہا ہے سندھی عوام اپنے سابق حکمرانوں سے سوال کی جرات کر رہے ہیں اور ان کے حکمران ان کا ہاتھ جھٹک رہے ہیں لیکن وہ شائد یہ نہیں جانتے کہ عوام نے اب اپنے نمایندوں کے ہاتھ جھٹکنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کا نتیجہ آنے میں کچھ زیادہ دن باقی نہیں ہیں۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں