خالق اور مخلوق


گزشتہ دنوں ایک تقریب کے دوران ایک دوست نے ایک کتاب عنائت کی جس کا میں اس وقت صرف عنوان ہی دیکھ سکا جو کچھ یوں تھا ’’اللہ تعالیٰ کا عظیم منصوبہ‘‘ گھر آکر اسے کھولا تو نظر دو ذیلی عنوانات پر پڑی، تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی کہ عام طور پر اس طرح کے اضافی عنوانات کتاب کے اندرونی ٹائٹل پر تو ہوتے ہیں مگر انھیں بیرونی ٹائٹل کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔ پہلا عنوان تھا ’’قرآن مجید کی روشنی میں‘‘ اور اس کے بعد قدرے چھوٹے پوائنٹ میں یہ عبارت درج تھی کہ سٹیفن ہاکنگ کے اس مشہور سوال کا جواب بھی جانیے ’’ہمارا اور کائنات کا وجود کیوں ہے؟‘‘ اور بہت نیچے کرکے مصنف کا نام لکھا تھا ’’پرویز ہاشمی‘‘ موضوع کی ہمہ گیریت، اسٹیفن ہاکنگ کے حوالے اور مصنف کے نام نے مل جل کر ایک ایسی فضا بنادی کہ میں نے اسے پڑھنے کے لیے منتخب کی گئی کتابوں کے ڈھیر میں گم کرنے کے بجائے فوراً ہی اس کا مطالعہ شروع کردیا۔

کتاب کی کل ضخامت 100 صفحات ہے جو عمدہ اور قدرے بھاری کاغذ پر چھپائی کی وجہ سے بظاہر زیادہ لگتی ہے جب کہ اپنے موضوع، فکر، ریسرچ اور طرز تحریر کے حوالے سے یہ اور بھی زیادہ قدرو قیمت کی حامل ہے۔ ابتدا ہی میں مصنف نے ’’میں نے یہ کتاب کیوں لکھی‘‘ کے زیر عنوان چار صفحات میں جو باتیں لکھیں ان کا لب لباب کچھ یوں ہے۔

’’2013ء کی ایک رات میں یوٹیوب پر ایک Documentary دیکھ رہا تھا کہ اچانک واچ آپشنز پر ایک ٹائٹل ”The God, The Universe and Everything Else” نے مجھے متجسس کردیا۔ یہ بیسویں صدی کے تین ذہین ترین اشخاص کے مابین تقریباً ایک گھنٹے کی گفتگو تھی۔ ان میں سے ایک سٹیفن ہاکنگ تھے جب کہ دوسرے کارل سیگن (Carl Sagan) اور تیسرے آرتھر سی کلارک تھے۔
اسی پروگرام کے اینکر پرسن میگنس میگنوسن (Magnus Magnusson) تھے جن کی بی بی سی، ٹی وی پروگرام ”The Master Mind” کے حوالے سے بہت شہرت تھی۔‘‘

’’میں نے جب 1999ء میں سٹیفن ہاکنگ کی کتاب ”A Brief History of Time” پہلی مرتبہ پڑھی تو غور کیا کہ اختتامیہ میں انھوں نے انتہائی اہم نکات اٹھائے ہیں‘‘ ہم اپنے آپ کو ایک حیران کن دنیا میں پاتے ہیں، ہم اپنے اردگرد موجود چیزوں کو سمجھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم جانیں اس کائنات کی نوعیت کیا ہے؟ اس میں ہمارا مقام کیا ہے؟ یہ کائنات اور ہم کہاں سے آئے ہیں۔ یہ کائنات جیسی ہے، ویسی کیوں ہے۔‘‘

’’میں سمجھتا ہوں کہ ”Grand Unified Theory” کی تلاش اور اس سوال کا جواب کہ ہمارا اور اس کائنات کا وجود کیوں ہے۔ سائنس کا دائرہ کار نہیں ہے، سائنس تو صرف بتاسکتی ہے کہ یہ کائنات کیسے کام کررہی ہے لہٰذا سائنس کے ذریعے سے اس مکمل تھیوری کی تلاش لاحاصل ہے۔ اس سوال کا جواب صرف ’’خدا‘‘ دے سکتا ہے۔

اگر وہ ایک ذی شعور ہستی ہے اور محض ”Set of Physical Laws” نہیں‘‘ جہاں تک خدا کی ذات کا تعلق ہے وہ ہمارے ذہن کی رسائی سے ماورا ہے کیونکہ اس کائنات میں اس کے مشابہ کوئی شے نہیں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے ’’اس جیسی بھی کوئی شے موجود نہیں‘‘ لہٰذا ہم خدا کو صرف اس کی صفات کے حوالے سے جان سکتے ہیں۔ ہمارا تصور خدا کے بارے میں یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک ایسی ذی شعور ہستی ہے جس میں کوئی بری صفت، کوئی کمزوری نہیں اور مثبت طور پر ہر اچھی صفت اپنے کمال پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ تصور کہ ہر شے کا ایک خالق ہوتا ہے صحیح نہیں ورنہ کارل سیگن کا لامتناہی تزلات (Infinite Regress) کا بیان درست ہوگا۔

صحیح تصور یہ ہے کہ ہر ’’شے‘‘ کا نہیں بلکہ ہر ’’تخلیق‘‘ کا خالق ہوتا ہے۔ مثلاً کرسی اور میز کا وجود ذہن میں کارپینٹر کا تصور لاتا ہے مگر لکڑی کا تنا یہ تصور نہیں لاتا کیونکہ لکڑی کے تنے کے پیچھے انسانی ذہن کارفرما محسوس نہیں ہوتا‘‘

’’میں یہ کتاب اس دعا کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کررہا ہوں کہ اگر کوئی انسان اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہو تو اس کا اضطراب دور ہوسکے۔‘‘

کتاب کے مصنف پرویز ہاشمی صاحب نے اپنے تعلیمی، تہذیبی اور مذہبی پس منظر کے ساتھ ساتھ آگے چل کر یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کس عمل سے گزر کر اس کتاب کو لکھنے کی منزل تک پہنچے ہیں۔ مجھے فیس بک پر بھی ان کے کچھ پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہواہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس صف، مزاج اورروایت کے ایک اہم نمائندے ہیں جس کا آغاز جدید سائنس کے اٹھائے ہوئے سوالات اور مذہبی اعتقادات میں مشترکہ عناصر کی تلاش اور تفہیم سے ہوااور جو برصغیر اور بالخصوص اردو زبان میں لکھی گئی تحریروں کے حوالے سے سرسید احمد خان سے شروع ہوکر نیاز فتح پوری، عبدالماجد دریا آبادی، غلام احمدپرویز، اشفاق احمد، واصف علی واصف، سید سرفراز احمد شاہ، پروفیسر احمد رفیق اختر، جاوید احمد غامدی اور کچھ دیگر اہل فکر و نظر اور صاحبان تصوف سے ہوتی ہوئی پرویز ہاشمی تک پہنچی ہے۔
اشتہارات



ان کی نثراچھی، صاف اور مربوط ہے جو اس طرح کے موضوع کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر موضوع کی پیچیدگی، نزاکت اور مخصوص نوعیت کے ساتھ ساتھ زبان، اسلوب اور تفہیم کے مسائل بھی جمع ہوجائیں تو آخری نتیجہ مزید انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس کتاب میں جس طرح سے جدید سائنس کے تین بہت بڑے دماغوں کے اٹھائے ہوئے سوالات کو پرویز ہاشمی صاحب نے سمجھنے، سمجھانے اور ان کا جواب دینے کی بھر پور اور مؤثر کوشش کی ہے اس نے اسے قابل مطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ چشم کشا اور خیال افروز بھی بنا دیا ہے۔ گزشتہ دنوں میں نے بھی کچھ عرصہ اسی سے ملتے جلتے سوالوں کی فضا میں گزارا جس کا نتیجہ اس نظم ’’خالق و مخلوق‘‘ کی صورت میں نکلا۔ سو اس کتاب کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیے کہ گھوم پھر کر ہر بات ختم تو یہیں پر ہوتی ہے کہ؎

بے کرانی صفت صرف خالق کی ہے

جو بھی مخلوق ہے اس کا دست عمل

جو بھی، جیسا بھی ہو، پھر بھی محدود ہے

یہ ازل اور ابد جو ہمارے لیے

ایک آغاز ہیں۔ ایک انجام ہیں

کہ ہم ان سے باہر جو چاہیں بھی تو سوچ سکتے نہیں

(یہ حقیقت مگر دائمی ہو کے بھی کچھ اضافی سی ہے)

’’لازمی تو نہیں ہے کہ جو شے ہماری

نگاہوں سے اوجھل یا ادراک کے دائرے میں نہیں ہے

وہ سچ مچ نہ ہو‘‘

سو یہ ممکن ہے کچھ ہو ازل سے ورا بھی

ابد سے بھی آگے کوئی راستہ ہو

کہ ان کائناتوں کے انبوہ میں یہ بھٹکتی زمیں

(ایک نقطے سے بھی جو ہے موہوم تر)

اک اشارا ہو اس بے کرانی کا جو

گرچہ موجود ہے پر ہماری نگاہوں میں آتی نہیں

کسی قاعدے اور عدد کی ردا میں سماتی نہیں

کہ اس تک رسائی فقط رب واحد کی

سارے جہانوں کے مالک کی ہے

جو بھی مخلوق ہے

وہ کسی نہ کسی دائرے کی حدوں تک ہی محدود ہے

لازمانی صفت صرف خالق کی ہے

بے کرانی صفت صرف خالق کی ہے

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں