Orya-Maqbool-Jan

خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے


پاکستانی سیاست کی گہما گہمی میں گم عمران، نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن کو دیوتا یا شیطان ثابت کرنے میں منہمک میڈیا، سوشل میڈیا اور متحرک سیاسی کارکنان کو اندازہ تک نہیں کہ ان کے آس پاس کیا کچھ بدل رہا ہے اور دور دراز سے کون کون ہے جو اس تبدیلی سے خوفزدہ و پریشان ہوکر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے میدان میں اتر آیا ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے بنگلہ دیش کے کاکس بازار سے لے کر افغانستان کے دریائے ایموں کے کنارے آباد شہروں تک ایک بہت بڑا میدان جنگ منتخب کیا گیا تھا۔ اس خطے کی اہمیت پوری دنیا کی معیشت، تجارت، صنعت و حرفت اور بازار سیاست کے لیے نہایت اہم ہے۔آج سے 39 سال قبل روس افغانستان میں بلا مقصد نہیں داخل ہوا تھا اور نہ ہی امریکہ پر پاگل پن سوار تھا کہ وہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کا سارا ملبہ افغانستان جیسے پسماندہ اور جدید ٹیکنالوجی سے بے بہرہ ملک پر ڈال کر دنیا کے پچاس کے قریب اتحادی ممالک کی افواج لیکر اس پر ٹوٹ پڑے۔ یہ خطہ جو گزشتہ گیارہ صدیوں سے ایک تہذیبی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی اکائی کے طور پر دنیا کے نقشے پر جگمگاتا تھا، قومی ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد پہلے تین یعنی بھارت، پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں میں تقسیم ہوا اور پھر 1971 میں بنگلہ دیش نام کے مسلمان ملک کی سرحدیں ابھر کر سامنے آگئیں۔ دو نومبر 971 عیسوی کو غزنی میں پیدا ہونے والے محمود غزنوی نے اس پورے خطے کو ایک متحد اکائی میں اس وقت تبدیل کیا جب اس نے سمرقند و بخارا سے لے کر بنگال کی سرحدوں اور گجرات کاٹھیاواڑ کے ساحلوں تک اپنی سلطنت اور فرمانروائی کا آغاز کیا۔ اس سے قبل یہ خطہ، ہند، سندھ اور خراسان میں منقسم تھا۔ سوائے اشوک کے چالیس سالہ اقتدار کے، وہ خطے جو آج بھارت میں شامل ہیں کبھی ایک مرکزی حکومت کے زیر اثر نہیں رہے۔ محمود غزنوی کے بعد کی دس صدیاں اس تہذیبی برتری اور بالادستی کی داستان ہے جو آج بھی قائم ہے۔ سیاسی طور پر علیحدہ ممالک بننے اور اقتدار پر مختلف حکمرانوں کے قابض ہونے کے باوجود کھانے، پینے، اوڑھنے، بچھونے، عمارات کے حسن تعمیر اور موسیقی تک، بلکہ اصناف سخن تک سب پر اسلام اور وسطی ایشیا کی چھاپ نمایاں ہے۔ کباب، بریانی، نہاری، پلاؤ، اچکن، شیروانی، شلوار قمیض، رباب، بربط، طبلہ، غزل، رباعی، مثنوی، گنبد و محراب، مینار، منبت کاری، کاشی کاری، اور سب سے بڑھ کر عربی فارسی اور ترکی الفاظ میں گندھی ہوئی اردو زبان جسے کوئی ہندی کہے، ہندوستانی کہے یا بھارتی، لیکن کوئی نہ تو اس سے ان الفاظ کو کھرچ کر پھینک سکتا ہے اور نہ ہی ان اصناف سخن سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے جو مسلمانوں اور وسطی ایشیا کے حکمرانوں کی وجہ سے آج لوگوں کی تہذیبی روایات کا حصہ ہیں۔ نیلے آسمان کے نیچے زمین پر ایستادہ تاج محل، قطب مینار، مقبرہ ہمایوں اور شالامار باغ جیسی تہذیبی شناختیں اور معین الدین چشتی ؒ کے اجمیر سے لے کر سیدنا علی ہجویریؒ کے لاہور تک صوفیاء و اولیاء کے مرجع خلائق مزار جن کا براہ راست روحانی تعلق افغانستان کے غزنی و ہرات سے ملتا ہے اس پورے خطے کو ایک لڑی میں پروتے ہیں۔
1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ایک مسلسل کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کی اس تہذیبی بالادستی کو ہندوؤں کے سیاسی اقتدار کے ذریعے بدل دیا جائے۔ برطانوی ہندوستان کے علاقوں میں تو یہ ممکن ہو سکا لیکن افغانستان میں گورے کو جب ذلت آمیز شکست ہوئی تو وہ ہندوستان کی سرحدوں میں دبک کر بیٹھ گیا۔ 8 نومبر 1919ء کو اماراتِ افغانستان اور اپنے دور کی واحد سپر پاور برطانیہ کے درمیان امن معاہدے نے افغان اقوام کی بالادستی پر مہر ثبت کردی۔ لیکن اس معاہدے کے ننانوے سال کے بعد اب عالمی طاقتوں کا ایک اور خواب چکنا چور ہونے والا ہے۔ 17 اکتوبر 2001 ء کو جب نیٹو، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور جرمنی کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو ان کے سامنے اس خطے کے لیے ایک بہت بڑا ایجنڈا تھا۔ پاکستان جس نے اپنی گذشتہ افغان پالیسی کو ترک کر کے اپنے ہی مسلمان افغان بھائیوں کے خلاف ان طاقتوں کا ساتھ دیا تھا، اسی کے خلاف بھارت اور ایران کی مدد سے لڑنے والے شمالی اتحاد کو کابل کے تخت پر بٹھادیا گیا۔ یہ اس ایجنڈے کی تکمیل کی طرف پہلا قدم تھا۔ آخری منزل یہ تھی کہ دریائے ایموں سے چٹاگانگ کی پہاڑیوں تک بھارت کے ہندوؤں کو بالادست بنایا جائے۔ وہ خواب جو انگریز نے 1857 ء میں دیکھا مگر 1947 ء میں پاکستان کے وجود میں آنے سے چکنا چور ہوگیا۔ لیکن ان سالوں میں گنگا جمنی تہذیب کے نام پر دونوں ملکوں کو ایک کرنے کے لئے مسلسل کام ہوتا رہا۔ اس نئے خواب کی تکمیل 2001ء سے لے کر 2018 ء تک جس طرح افغانستان میں بھارت کو معاشی، سیاسی اور انتظامی میدان میں پنجے گاڑنے اور پاکستان کے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں اور فاٹا میں تحریک طالبان پاکستان کی مالی و عسکری مدد کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے اس سے لگتا تھا کہ شاید اب اس خطے پر قبل مسیح والی چندر گپت موریا کی سلطنت دوبارہ قائم ہوجائے گی اور پاکستان اس سلطنت کے زیر اثر ایک کمزور سی گزر گاہ ہوگی جسے روندتے ہوئے وہ جب چاہیں گے افغانستان اور وسطی ایشیا کے معدنی وسائل کو لوٹتے رہیں گے۔ ایک کمزور با جگزار پاکستان ان کا خواب تھا۔



لیکن اس خواب کے راستے میں دو دیواریں ایسی تھیں جنہوں نے آج اس خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ ایک افغانستان میں طالبان کی فتح یابی اور شروع میں اتحادی افواج اور اب امریکی افواج کی ایسی ذلت آمیز شکست کہ انہیں افغانستان ایک ڈراؤنا خواب نظر آرہا ہے۔ جبکہ دوسری دیوار کشمیر کے حریت پسندوں کی تحریک ہے جس کی موجودہ شکل نے صرف بھارت ہی نہیں اس خطے میں غلبے کا خواب دیکھنے والی تمام قوتوں کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ 1947 سے لیکر آج سے پانچ سال پہلے تک کشمیریوں کو وطنیت کے قوم پرستانہ نعرے میں الجھایا گیا تھا اور ان کی جدوجہد کو آئرلینڈ، ویتنام اور انگولا جیسی قوم پرستانہ تحریکوں سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ اسے تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ لیکن نریندر مودی کے مسلم دشمن ہی نہیں بلکہ مسلم کش اقتدار نے جہاں بھارت کے بائیس کروڑ مسلمانوں کو مظلومیت کی بھٹی میں جلا کر کندن بنایا وہیں کشمیریوں میں بھی برہان وانی کی شہادت سے ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جو پورے بھارت کے مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے نام پر پکارنے لگی۔ اس آواز کی گونج نے وہ خوف پیدا کیا کہ نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے اخبارات اور عالمی طاقتیں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئیں کہ اگر بھارت کے مسلمانوں میں یہ پیغام مقبول ہوگیا تو بھارت شام اور عراق سے بھی بدتر ہو جائے گا۔ کیوں کہ وہاں تو مسلمان مسلمان سے لڑ رہا تھا اور ایسا کام مشکل تھا لیکن یہاں تو مقابل پر ہندو ہے۔ ظلم کا انتقام اور شہادت کی تمنا وہ جذبہ ہے کہ اتنے بڑے ہندوستان میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کو کون کہاں پر روک سکے گا۔ ایسے میں اگر چند ہزار سر فروش بھی پیدا ہو گئے تو ناک میں دم کر دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی دفعہ کشمیریوں کی مشہور ویب سائٹ ادارہ ندائے جہاد سے جو ترانہ نشر ہو رہا ہے اس کے الفاظ یوں ہیں
؎ میں مسلماں ہوں، سنو لوگو یہ نعرہ میرا
صرف کشمیر نہیں، ہند ہے سارا میرا
اللہ اکبر کی صداؤں میں گونجتا ہوا یہ ترانہ کشمیریوں کی جدوجہد کی تاریخ اور موجودہ تبدیلی کی گواہی دیتا ہے۔ اس صدا کا خوف ہے کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کرتی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ افغانستان جاتا ہے اور چند گھنٹوں بعد بھارتی امداد سے سرگرم عمل ملا فضل اللہ ڈرون حملے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔ طالبان کو شہروں میں آنے کی اجازت ملتی ہے اور افغان فوجی ان کے ساتھ مل کر رقص کرتے ہیں۔ گذشتہ دس سالوں کا ایجنڈا یوں بدلتا ہے کہ سب اس بات پر متفق ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کی سرحدیں اور فوج اگر کمزور ہوگئیں تو افغانستان ایک کھلا میدان جنگ بن جائے گا اور بھارت کا کونہ کونہ شام و عراق۔ پاکستان سے سر فروشوں کو افغانستان اور بھارت جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ وہ پاکستان جسے کمزور گزرگاہ بنانے کا خواب مدتوں سے دیکھا جا رہا تھا، اب امریکہ، افغانستان اور بھارت کو اس پاکستان کی کمزوری سے خوف آنے لگا ہے۔ اقبال کی الہامی شاعری اسی خواب کے گیت گاتی ہے
زمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے
نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے
ہمالہ کے چشمے ابلتے ہیں کب تک
خضر سوچت ا ہے ولر کے کنارے
نوٹ: ولر ایشیا کی میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے جو کشمیر کے باندی پورہ ضلع میں واقع ہے، جس میں دریائے جہلم آ کر گرتا ہے، جس پر بھارت بیراج بنا رہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں