سائیں تہاڈا نوکر!


دنیا ٹی وی کے اینکر ڈاکٹر معید پیرزادہ کے پروگرام میں بات ہورہی تھی ۔ میں نے کہا:سمجھ نہیں آتی مجھے خود پر غصہ زیادہ آتا ہے یا ترس ۔ معید پیرزادہ نے برجستہ پوچھ لیا: تو پھر زیادہ کیا آتا ہے؟ میں نے کہا: غصہ زیادہ آتا ہے‘ سمجھ نہیں آتی کس چکر میں پھنس گئے ہیں‘ پانچ سال جن لوگوں کی کرپشن کے خلاف لکھتے‘ بولتے اور سکینڈلز فائل کرتے رہے‘ اب ان کے بارے حکم جاری ہوا کہ آج سے وہ فرشتے ہیں ۔

ہر پانچ سال بعد یہ چند دن ہم پر نازل ہوتے ہیں جب کل کے سیاسی ڈاکو اپنا سردار بدل کر فرشتے کا روپ دھار لیتے ہیں ۔

جارجیا سے اعجاز بھائی کا میسج تھا،’ہن آرام اے ‘ بہت صحافت کرلی‘ چھوڑو امریکہ آجائو‘ یہاں اکٹھے بیٹھ کر کاروبار کرتے ہیں‘ ۔ مجھے لالچ دینے کے لیے بولے: گھر سے کچھ فاصلے پر بہترین سینما ہاؤس بھی ہے۔ میں مسکرا دیا اور کہا:’ کاروبار کرسکتا تو صحافت کوئی چھوٹا کاروبار ہے؟

ہر چڑھدے سورج کو سلام کرو اور مزے کرو۔ ہر دربار میں کورنش بجا لائو‘۔ ایک اور مزاحیہ یا طنزیہ میسج تھا،’ بھائی جان ہم نے سوچا تھا‘ تحریک انصاف کی حکومت بن رہی ہے‘ آپ کا بھی اس میں کوئی اثر و رسوخ ہوگا ‘ بھائی کو بھی کوئی بڑا عہدہ مل جائے گا اور کہیں ہم بھی آپ کی وجہ سے ایڈجسٹ ہو جائیں گے ‘ آپ نے پہلے ہی ان سے پنگا لے لیا ۔

بہت لوگ پوچھتے ہیں: دوسرے ٹی وی پروگرامز میں آنا چھوڑ دیا ہے؟ میں کہتا ہوں: ان شوز میں کیا بات کریں‘ کس سے بحث کریں؟ سب نے اپنے اپنے سیاسی دیوتا تخلیق کر لیے ہیں ۔

مجھے یاد ہے جب جنرل مشرف کا دور تھا تو ان کے وزیر اور ق لیگ کے ایم این ایز جنرل مشرف کی شرافت ‘ ایمانداری اور اعلیٰ ظرفی کے ایسے ایسے قصے سناتے کہ جنرل مشرف خود حیران ہوتا ہوگا کہ کیا واقعی ان میں یہ سب خوبیاں پائی جاتی ہیں؟

پھر بادشاہ زرداری کا دور آیا ۔ ہر ٹی وی شو میں ‘زرداری کی جے ہو‘ کے نعرے بلند ہونے لگے۔ پھر نواز شریف کا دور آیا اور وہی ‘جے ہو‘ کے نعرے پھر شروع ہو گئے۔ ان کے وزرا اور ایم این ایز بھی نواز شریف‘ نواز شریف کرنا شروع کردیتے۔ ایم کیو ایم بھی یہی کچھ کرتی رہی۔ الطاف بھائی سے شروع اور ختم ۔ آج کل یہی سیزن عمران خان کی پارٹی پر آیا ہوا ہے۔ کسی شو میں بیٹھ جائیں‘ پارٹی یا ایشور پر بات نہیں ہوتی‘ عمران خان کی ‘ جے ہو‘ سے شروع اور ‘جے ہو‘ پر ختم ۔
اشتہارات



اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب عقل کی گفتگو نہیں ہوسکتی ‘ نہ آپ ان سیاسی لوگوں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے قوم لگتی ہے‘ ہزاروں میل چلنے کے بعد وہ ٹرک ‘کھوتا ریڑھی‘ نکلتا ہے ‘ پھر کوئی اور ٹرک ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔

غلطیاں اور کرپشن سیاسی لیڈر کرتا ہے اور پوری نسل اس کے دفاع پر لگ جاتی ہے۔ ویسے یہ لیڈرز ہنستے تو ہوں گے کہ کیسے ہمیں گھر بیٹھے ایک پڑھی لکھی کلاس مل گئی ہے جو ان پر اندھا دھند یقین کرتی ہے۔ وہ کچھ بھی کر گزریں‘ پھر بھی یہ سب ذہنی غلام ایسے ایسے جواز ڈھونڈ کر لے آتے ہیں کہ لیڈر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتا ہوگا۔ یقینا یہ سب سیاسی لیڈرز مزے تو لیتے ہوں گے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ پاکستان ہندوستان میں شخصیات کو ہی کیوں دیوتا بنا لیا جاتا ہے؟ یورپ میں لوگ ذہنی غلام کیوں نہیں ہیں؟ ہندوستان ہمیشہ سے ہزاروں دیوتائوں کا خطہ رہا ہے۔ باہر سے آنے والے حملہ آور اور ان کے ساتھ آنے والی نسلیں جو یہاں رچ بس گئیں‘ وہ بھی دھیرے دھیرے ہندوستان کے ہزاروں سال پرانے ان گنت مذاہب‘ روایات اور دیوتائوں کے رنگ میں رنگے گئے۔
کچھ عجیب و غریب روایات وہ اپنے ساتھ لائے اور کچھ مقامی لوگوں سے مستعار لے لیں ۔ یوں روایات اور کلچر کے نام پر بھان متی کا کنبہ بن گیا ۔ یہاں راجے‘ مہاراجے‘ بادشاہ اور جاگیردار عوام کو دبا کر رکھتے تھے۔ طاقتور کے سامنے جھکنا‘ پناہ اور تحفظ مانگنا ہی ایک کلچر تھا ۔یہ وہ ذہنی غلامی ہے جس سے نکلنا مشکل ہے۔

ابھی یہ دیکھ لیں کہ آج کل ارب پتی امیدواروں نے اپنے سے کم تر طبقات کو اپنے پیچھے لگانے کے لیے کیا کیا حربے اختیار کر رکھے ہیں ۔ ایسے ایسے کرتب دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ آج کل ایک لطیفہ چل رہا ہے کہ ایک ارب پتی دو کروڑ روپے کی گاڑی میں سوار ‘ قیمتی گھڑیاں‘ کپڑے‘ جوتے پہنے‘ دس باڈی گارڈز اور جدید اسلحہ کی چھائوں میں۔

گاڑی کا دروازہ کھلتا ہے‘ کالے شیشوں والے گلاسز پہنے ایک صاحب نکلتے ہیں اور اچانک ایک ننگ دھڑنگ غریب کے سامنے جھک کر کہتے ہیں‘ سائیں تہاڈا نوکر!
اشتہارات



باقی چھوڑیں ہمارے ملتان کے شاہ محمود قریشی کے کرتبوں کی کہانی سن لیں ۔ وہ آج کل موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ملتان کی گلیاں پھر رہے ہیں‘ کیونکہ دیہات کے برعکس شہر کا عام آدمی بہت خوش ہوتا ہے‘جب دیکھتا ہے کہ کتنا بڑا آدمی موٹرسائیکل پر ووٹ مانگنے آیا ہے۔ قریشی صاحب نے یہ کرتب پنڈی کے شیخ رشید سے سیکھا ہے۔

یہ ذہن میں رکھیں کہ جو شاہ محمود قریشی موٹرسائیکل پر ملتان کی گلیاں ناپ رہا ہے ان کے گوشواروں کے مطابق ان کے پاس دو کروڑ روپے کی قیمتی گاڑیاں ہیں ‘ بیگم صاحبہ کے پاس Audi گاڑی ہے‘ جس کا نام بھی میرے ملتانیوں نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ یہ کس بلا کا نام ہے اور کس بھائو ملتی ہے‘ بیٹے کے پاس مرسیڈیز ہے‘ خود شاہ صاحب نے پراڈو لینڈ کروزر رکھی ہوئی ہے۔

شاہ صاحب کی بیگم اور بچوں کے لندن اور پاکستان میں بینک اکائونٹس میںتقریباً بیس کروڑ روپے کا کیش ہے‘ اور وہ چلے ہیں موٹر سائیکل پر ووٹ مانگنے۔

شاہ محمود قریشی کا پہلا روپ میں نے برسوں پہلے ملتان میں دیکھا تھا جب میں وہاں ایک انگریزی اخبار میں رپورٹر تھا۔ ایک دن شاہ محمود قریشی کے آبائی گھر کسی خبر کے سلسلے میں گیا‘ سینکڑوں لوگ جن کے چہروں پر غربت ناچ رہی تھی وہاں جمع تھے اور ایک طویل برآمدے میں شاہ صاحب سر پر ایک عظیم الشان پگ باندھ کر پوری سنجیدگی سے رعب ‘دبدبے کا ایک عالم طاری کیے بیٹھے تھے۔

سب غریب غربا نیچے فرش پر اور وہ خود ایک تخت پر براجمان تھے۔ میں دور بیٹھا یہ سب منظر دیکھتا رہا ۔ ایک ایک غریب پھٹے پرانے کپڑوں میں‘ ننگے پائوں دور کسی کونے سے اٹھتا ‘کمر جھکائے تقریباً رینگتا ہوا شاہ صاحب کے سامنے جھک جاتا اور دیوانہ وار ہاتھ چومتا۔ شاہ صاحب کمال مہربانی سے اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کی پیٹھ کے کچھ اوپر ہلکا سا ہاتھ کا اشارہ کرتے۔

وہ غریب جو پتہ نہیں سندھ اور سرائیکی علاقوں سے کہاں کہاں سے چل کر آیا ہوتا‘ الٹے قدم واپس جاتا ۔ اسے جرأت نہ تھی کہ وہ مڑ کر‘ پیٹھ شاہ محمود قریشی کی طرف کر کے جاتا ۔ اس منظر کو بیس برس گزر گئے لیکن آنکھوں سے نہ گیا‘ ہم انسان اپنے جیسے عام انسانوں کے آگے کیسے جھک کر انہیں دیوتا کا درجہ دے دیتے ہیں۔ وہ دیوتاجنہیں ایک زندگی گزارنے کے لیے دو کروڑ کی گاڑیاں‘ درجنوں پلاٹس‘ ہر شہر میں گھر‘ بیس کروڑ روپے نقدی‘ لندن اور پاکستانی بینکو ں میں درکار ہیں۔

آج کل وہی شاہ صاحب بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ملتان کی گلیوں میں پھرتے ہیں تاکہ بتایا جائے کہ میں بھگوان نہیںبلکہ آپ کی طرح عام انسان ہوں ۔ چلیں اسے بھی جمہوریت کی خوبصورتی کہیں کہ پانچ سال بعد بھگوان بھی آسمان سے اتر کر غریب کی جھونپڑی تک پہنچ جاتا ہے۔

مجھے عظیم ادیب ٹالسٹائی یاد آگیا‘ جس نے اپنی ساری زمینیں اور جائیداد ان غریب کسانوں میں بانٹ دیں جن کا وہ نواب تھا اور خود ایک ریلوے سٹیشن پر مرگیا۔ مرنے سے پہلے ایک شاہکار کہانی اس نے لکھی How Much Land Does a Man Need۔
اشتہارات



ویسے کوئی بتائے گا کہ خود ہمارے تخلیق کردہ ان انسانی بتوں کو زندگی گزارنے کے لیے کتنی قیمتی گاڑیاں ‘ پاکستان سے لندن تک بینکوں میں نقدی‘ پلاٹس‘ گھر اور سب سے بڑھ کر کتنے لاکھ غریب غربا چاہئیں‘ جو دن رات اپنی خون پسینے کی کمائی سے ان دیوتائوں کے بینک اکائونٹس بھرتے رہیں۔

پھر یہ زمینی خدا ہر پانچ سال بعد آڈی گاڑی ‘ پراڈو اور مرسیڈیزسے اتر کر‘ چند دنوں کے لیے ملتان شہر کی پراسرار گلیوں میں موٹرسائیکل پر سوار ہوجائیں اور جو بندہ نظر آئے اس کے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر عاجزی سے‘ اور جھک کر رحم بھری آنکھوں میں تقریباً آنسو بھر کر کہیں … سائیں تہاڈا نوکر!

بشکریہ دنیا

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں