طوفانی بارش نے لاہور ڈبودیا،حادثات میں18جاں بحق


سابق وزیر اعلیٰ کا پیرس(لاہور) مون سون کی دوسری بارش کے سبب ڈوب گیااور لاہور میں ہونیوالی بارش کا 38سالہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا جبکہ کرنٹ لگنے ،چھتیں اور دیواریں گرنے سے پولیس اہلکاروں اور باپ بیٹے سمیت 18افراد جاں بحق ہوگئے.

تفصیلات کے مطابق سوموار اور منگل کی درمیانی رات ایک بجے شروع ہونے والی بارش نے لاہور میں 38سالہ بارش کا ریکارڈ توڑ دیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں252 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ۔ اپرمال میں 180، مغل پورہ میں 185 اور تاج پورہ میں 170 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ 1980میں لاہور میں 207 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔مذکورہ ریکارڈ گزشتہ صبح 9بجے ہی ٹوٹ گیا۔شہر میں 3 گھنٹے کے مختصر سپیل میں کبھی 238 ملی میٹر بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔بارش رات 12:55 پر شروع ہوئی اور وقفے وقفے سے دوپہر2:00بجے تک جاری رہی۔واسا ترجمان کے مطابق شام 7بجے تک شہر کے اکثرعلاقوں میں کھڑا پانی نکال دیا گیا۔بارش سے شہر بھر کے پوش اور قدیمی علاقے ندی نالوں میں تبدیل ہو گئے جبکہ رہی سہ کسر لیسکو کے 200سے زائد ٹرپ ہونے والے فیڈرز نے پوری کر دی۔رات گئے مختلف علاقوں میں بجلی بحال نہ ہوسکی ۔ بجلی کی عدم دستیابی میں شہر کا بڑا حصہ پینے کے پانی سے محروم رہا۔ اربوں روپے کی لاگت سے لکشمی چوک میں پانی کی نکاسی کا سلسلہ نہ بن سکا جس کی وجہ سے ریسکیو اہلکار شہریوں کو کشتی کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف رہے ۔ ادھر اورنج ٹرین کیلئے بنائے جی پی او چوک پر20فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا جس کی وجہ سے وہاں پر ٹریفک کو بند کردیا گیا۔ گڑھے میں بارش کا پانی بہنے لگاجو تالاب کا منظر پیش کرنے لگا ۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد صوبائی وزیر ہاؤ سنگ، کمشنر ، ڈی جی ایل ڈی اے ، ایم ڈی واسا موقع پر پہنچ گئے ، جس کے بعد شگاف عارضی طور پر ریت کا استعمال کر کے بند کر دیئے گئے ۔ گامے شاہ کے قریب سٹرک پر گڑھا بننے سے دو ٹرک اس میں پھنس گئے ۔ ٹرکوں کو کرین کی مدد سے نکالا گیا۔ شدید بارش میں ڈی ایس پی کی گاڑی بھی پانی میں ڈوب گئی جسکو کرین کی مدد سے نکالا گیا۔شدید بارش کے باعث لوئر مال میں سٹرک میں شگاف پڑنے سے بس الٹ گئی ، کرین کے ذریعے بس کو شگاف سے نکالا گیا ، لیا قت آبادکیو بلاک میں بارش کے باعث گڑھے بن گئے جس میں ایک مسافر بس بھی دھنس گئی۔ بس دھنسنے سے مسافروں نے چیخ وپکار شروع کر دی اور بعض نے توبہ استغفار شروع کر دی جبکہ ڈرائیور نے بس سے چھلانگ لگا دی۔ مسافر بھی اپنی مدد آپکے تحت بس سے باہر آ گئے تاہم چند مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں ۔ والٹن روڈ پر بھی بارش کے بعد نالے کا پانی روڈ پر ابل پڑا۔لاہور میں سب سے بری حالت سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی اہلیہ کلثوم نواز شریف کے حلقہ انتخاب (سابقہ NA۔120) اور موجودہ قومی اسمبلی کے حلقہ انتخاب این اے 125 کی رہی۔ حلقہ این اے 125 میں آخری بس سٹاپ ساندہ کلاں، بنک سٹاپ، طارق بلڈنگ، بازار قلعہ حکیماں، اکرم پارک بند روڈ، ڈار سٹریٹ، سردار سٹریٹ، شاہ فیصل سٹریٹ، تکیہ راجیاں والا، سکول سٹاپ، جوائے شاہ روڈ، ملک منیر روڈ، نیشنل ٹاؤن،عاطف چوک، سراج بلڈنگ، نیل بار بنک چوک، اسلام پورہ چوک، عمر روڈ، ریواز گارڈن، نوشاہی پارک ، توحید پارکاور اس سے ملحقہ علاقوں میں بارش کا پانی نشیبی علاقوں کے گھروں میں داخل ہو گیا ۔ لاہور میں ہونے والی بارش نے سابق وزیر اعلیٰ کے شہر میں کروائے گئے ترقیاتی کاموں کے پول بھی کھول دئیے ۔شہر کے پوش علاقوں سبزہ زار، مرزار کالونی ،علامہ اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ، ماڈل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، خیابان امین، فیصل ٹاؤن، میں بھی صورتحال مختلف دکھائی نہ دی۔ لکشمی چوک، علامہ اقبال روڈ، گڑھی شاہو، بالمقابل ریلوے سٹیشن، سرکلر روڈ، بھاٹی گیٹ چوک، اردو بازار، فورٹ روڈ، کوٹ خواجہ سعید، چاہ میراں، و دیگر علاقے بھی ندی نالے کا منظر پیش کرتے رہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کاسلسلہ آ ج بھی جاری رہے گا۔بارش سے ریلوے ٹریک بھی پانی میں ڈوب گئے لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مسافروں کو ان کی منزل مقصود پر پہنچایا گیا۔اس کے علاوہ لاہورکے تین بڑے ہسپتالوں میو ہسپتال،جناح ہسپتال اور لاہور جنرل ہسپتال کے مختلف شعبوں اور ایمرجنسی میں پانی داخل ہو گیا جس سے مریضوں کے ساتھ ساتھ ہسپتال انتظامیہ کو بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ۔ پی آ ئی سی لیب میں بارش کا پانی بھر گیاجس سے تمام مشینیں بند ہوگئیں اورزیرِ علاج مریضوں کے ٹیسٹ رک گئے ۔ لاہور میں ہونے والی طوفانی بارش سے شاہی قلعہ بھی نہ بچ سکا،شدید بارش کے باعث شاہی قلعہ کی شمال مشرقی دیوار کو نقصان پہنچا۔ ترجمان والڈ سٹی کے مطابق دیوار کا شاہی قلعہ کے تاریخی ورثہ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دیوار 1970 میں بنائی گئی تھی۔دوسری جانب سرگودھا،ملتان،واربرٹن،خوشاب،سیالکوٹ،گوجرانوالہ،نارووال،شکرگڑھ اورشیخوپورہ سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں موسلادھاربارش کے باعث پانی جمع ہونے سے گلی محلے ندی نالوں کامنظرپیش کرنے لگے ۔کراچی کے مختلف علاقوں میں بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہو گیا ۔آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابر آلود رہنے اور بوندا باندی کا امکان ہے ۔فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے کابل میں نوشہر ہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلا ب ہے جبکہ دیگر دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں ۔آج دریائے راوی اور دریائے چناب کے نالوں میں نچلے سے درمیانے کے سیلا ب جبکہ راولپنڈی،فیصل آباد،گوجرانولہ،لاہور اور سرگودھا ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی امکان ہے ۔ڈی جی خان کے برساتی نالوں میں سیلاب کا خطرہ ہے ۔بارش سے لاہور آنے اور جانے والی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔بارش کے بعد ن لیگ کے سابق اراکین اسمبلی اور وزیربلال یاسین ، مجتبیٰ شجاع ، عمران نذیر ، سلیمان رفیق ،زعیم قادری، رانا مشہود ،سعد رفیق ،پرویز ملک ،سردار ایاز صادق غائب رہے ۔دوسری طرف طوفانی ہواؤں اور موسلا دار بارش شہریوں کے لیے زحمت بن گئی ۔ساندہ کے علاقہ ریواز گارڈن چوکی کے اہلکار علی رضا اور شاہ زیب بارش اور آندھی کا منظر دیکھنے کے لیے چوکی کے باہر کھڑے تھے کہ اچانک طوفانی بارش کے باعث بجلی کی تار ٹوٹ کر ان پر گر گئی جس کے نتیجے میں دونوں جاں بحق ہو گئے ۔ جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکارعلی رضا پولیس چوکی میں ڈرائیور تھا جبکہ شاہ زیب قومی رضا کار تھا جو چوکی میں ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دے رہا تھاہلاکت کی خبر ملتے ہی انکے گھروں میں کہرام برپا ہو گیا ۔ مزنگ کے علاقے میں اکبر پر بجلی کی تار ٹوٹ کر گر گئی جسکے نتیجے میں اکبر بارش کے گہر ے پانی میں ڈوب گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے ایک گھنٹے کی جدوجہدکے بعد بارش کے گہر ے پانی میں تلاش کرکے اکبر کی نعش کواسکے ورثا کے حوالے کر دیا ۔قرطبہ چوک پر موٹر سائیکل پر سوار اکبر نامی نوجوان بجلی کے تاروں سے چھو جانے ،چائنا سکیم میں بھی کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔گمٹی بازار میں ایک جوتے بنانے کے کارخانے کی چھت گرنے سے 2 مزدور جاں بحق ہوئے ۔جوہر ٹاؤن میں ٹریفک حادثہ میں سلمان اور شکیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ۔برکی میں بارش کے دوران اسلم گھر کی چھت سے گرکر جاں بحق ہو گیا۔ شاہدرہ میں بارش کے دوران نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے سائیکل سوار رشید موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ننکانہ کے نواحی گاؤں علاقہ جھوک بلوچاں میں غریب محنت کش محمد علی کے گھر کی چھت بارش کی وجہ سے گر گئی،ملبے تلے 7سالہ قا سم علی آنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا ۔قصورکے نواحی گاؤں شیروکانہ میں شریف اپنے بیٹے مرتضیٰ کے ہمراہ اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا کہ شدید بارش کی وجہ سے اچانک کمرے کی چھت ان کے اوپر آ گری جس کے نتیجے میں مرتضیٰ جا ں بحق جبکہ باپ شریف شدید زخمی ہو گیا ۔فیصل آباد سر گودھا روڈ پرو اقع پاور لومز کی چھت گر نے کے نتیجہ میں نعیم نامی محنت کش ملبے تلے آکر جاں بحق ہو گیا ، علاوہ ازیں جڑا نوالہ روڈ یسین چوک میں پاور لومز فیکٹری کی چھت زمین بوس ہو گئی جس کے نتیجہ میں شا کر عباس ملبے اور کالاش پارک میں چھت گر نے کے نتیجہ میں ملبہ تلے آ کر شوکت نامی شہری زخمی ہو ا ۔ملتان میں شالیمار کالونی کا رہائشی 8 سالہ زبیر اپنے 2 دوستوں کے ہمراہ نہا رہا تھا ۔اس دورا ن کھمبے سے ٹکرانے سے اسے کرنٹ لگا اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگیاجبکہ اس کے دیگر دوست بھی متاثر ہوئے ۔یو ایم ٹی فیصل گارڈن میں طوفانی بارش کی وجہ سے گھر کی دیوار گرنے سے ایک خاتون اور دو بچے زخمی ہو گئے ۔ زخمی ہونے والوں میں نسیم ، اسکی بیٹی زنیرہ اور اسکا بیٹا عاصم شامل ہے ، میو ہسپتال کے قریب گھر کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہو گئے ، نواں کوٹ کے علاقے کوٹ کمبوہ میں گھر کی چھت بارش سے گرنے سے چار افراد زخمی ہو گئے ، کھوکھر چوک نور مارکیٹ کے قریب گھر کی بوسیدہ چھت گرنے سے ایک شخص سرفراز زخمی ہو گیا ، بلال گنج مولا بخش چوکے کے قریب گھر کی چھت گرنے سے ایک خاتون زخمی ہو گئی۔ سڑک حادثے کے 50 واقعات پیش آئے اور55 افراد زخمی ہوئے ۔رات گئے جوہرٹاؤن میں محنت کش عبداﷲ کے بوسیدہ گھر کی چھت زمین بوس ہوگئی ۔جاں بحق ہونے والوں میں 50 سالہ عبداﷲ، 17سالہ فیصل شامل جبکہ 3سالہ زخمی فاطمہ کوطبی امداد کے لیے جناح ہسپتال منتقل کردیاگیا،لوہاری گیٹ میں مکان کی چھت گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے ۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ملبے سے 3افراد کو نکال لیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کی تلاش کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں