مشرف شب خون مارنے والا آمر تھا: چیف جسٹس


چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق صدر پرویز مشرف کو غاصب قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف واپس آکر اپنے کارناموں پر وضاحت کیوں نہیں دیتے ؟ کنٹری اینڈ گن کلب سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا شوٹنگ کلب سیف گیمز کیلئے بنایا گیا لیکن اب وہاں کیا ہو رہا ہے ، کیوں نہ اس کلب کو بند کر کے اراضی پولی کلینک کو دیدیں

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ رضوی صاحب! وہاں پر تو شراب بھی سرو کی جاتی ہے ،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی سر معلوم ہے ، شام کو چھت پر شراب سرو کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ شام کو کپیاں مارنے والوں کو پکڑ لیں، مفت کی زمین ملی جس کا مقصد صرف شوٹنگ رینج بنانا تھا۔عدالتی استفسار پر گن کلب کے وکیل نے اعتراف کیا کہ گن کلب کے پاس مارکی کے قیام کیلئے کوئی اجازت نامہ اور زمین کی منتقلی سے متعلق دستاویزات نہیں۔

انھوں نے بتایا سابق چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف نے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی تھی جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کو تو کھوکھا الاٹ کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی، کیا کسی باپ کی جاگیر تھی جو چاہا بانٹ دیا، پرویز مشرف کے پاس کہاں مینڈیٹ تھا کہ وہ یہ الاٹمنٹ کرتا۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ مشرف تو شب خون مارنے والا اور ڈکٹیٹر تھا، وہ واپس آئے اور وضاحت دے جو اس نے ملک کے ساتھ غلط کیا،مشرف وطن واپس آکر ایسے کارناموں کا حساب کیوں نہیں دیتا،کیا مشرف کو اختیار صرف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہونے کی وجہ سے تھا۔سپریم کورٹ نے گن کلب کو غیر قانونی تعمیرات 10 روز میں گرانے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ بظا ہر گن کلب کا زمین پر قبضہ غیر قانونی ہے ۔عدالت نے فریقین کو جواب جمع کرانے کیلئے 4روز کا وقت دیتے ہوئے سماعت 9 جولائی تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں