مزید دُکھ


یہ دیکھا جائے گا کہ نادہندگی یا دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے ہمیںکیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور امداد کی بھیک نہیں بلکہ قرض کی رقم ہمیں اپنا کیا کچھ نیلام کر کے حاصل ہوتی ہے۔

فی الحال تو الیکشن کا مرحلہ درپیش ہے اور عوام نگران حکومت کے رحم و کرم پر ہیں جو کہ اپنی نگرانی کا تمام تر غصہ پاکستان کے عوام پر اتار رہے ہیں ان کو شائد یہ غصہ ہے کہ ان کو ایک مخصوص مدت کے لیے حکومت سنبھالنے کے لیے کیوں کہا گیا ہے اور کیا ان میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ مستقل طور پر حکمرانی کے مزے لوٹ سکیں اس لیے وہ سابق حکمرانوں کی روش پر چلتے ہوئے آئے دن عوام کے روزمرہ کے استعمال کی اشیا میں بے تحاشہ اضافہ کیے جا رہے ہیں۔

ان نگرانوں کوکوئی یہ سمجھائے کہ مستقل حکمرانی کے لیے الیکشن میں کامیابی ضروری ہے ان کو تو حکومت جھونگے میں مل گئی ہے اس لیے ان کو چاہیے کہ وہ عوام کی بددعائیں نہ لیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو ان کی پرانی سطح پر ہی رہنے دیں تو ان کی مہربانی ہو گی۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ نگران حکومت کی آئینی حیثیت کے مطابق کیا وہ اس طرح روز مرہ کے استعمال کی اشیا میں اضافہ کر سکتی ہے یا نہیں اس کے بارے قانونی ماہرین ہی بہتر جانتے ہوں گے۔
مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ ان نگرانوں نے نگرانی کے فرض سے بڑھتے ہوئے اپنی پیش رو حکومت کی پالیسیاں ہی جاری رکھی ہوئی ہیں بلکہ ان میں کچھ اضافہ ہی کیا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ماہ میں دو دفعہ ایندھن کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافے کا تاج اپنے سر سجایا ہے، اسی طرح پاکستانی روپے کی بے قدری بھی ان کے دور میں ہی ہو رہی ہے دراصل ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں، یہ ایک مخصوص عرصے کے لیے حکمران بنے ہیں اور اس معینہ مدت کے ختم ہوتے ہی یہ کپڑے جھاڑ کر چلے جائیں گے ۔ ان کو عوام میں نہیں جانا کیونکہ یہ غیر منتخب نمایندے ہیں ان کو ووٹوں کی بالکل بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ ووٹ کو عزت دو کا مطلب جانتے ہیں ۔

ان نگرانوں نے جس بے رحمی سے حکومت شروع کی ہے اس کی مثال شائد ہی مل سکے، لگتا یہ ہے کہ ان کو عوام کی مشکلات کا کچھ ادراک نہیں بلکہ یہ امیر کبیر نگران حکمران اپنے مال و دولت کے سہارے آسودہ زندگی گزار رہے ہیں اور یہ مال ودولت انھوں نے اسی پاکستان سے ہی حاصل کیا ہے جہاں کے یہ پیدائشی اور شہری ہیں گو کہ ان نگرانوں کی بھی بیرون ملک جائیدادیں ہیں لیکن ان سے کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ انھوں نے جو اثاثے عوام کے سامنے رکھے ہیں وہ کن ذرایع سے بنائے گئے ہیں ملکی یا غیر ملکی۔
اشتہارات



یہ بات بھی درست ہے کہ ملک اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے ہمارے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا توازن بگڑ چکا ہے پاکستانی روپے کی قدر روز بروز گرتی جا رہی ہے، ہماری سابقہ حکومتیں ملک کے ہر فردکو قرض میں جکڑ کر اپنی عیاشیاں کرتی رہیں اور اس کا الزام اپنے سے پہلی حکومتوں کے سر ڈالتی رہیں اور حکومتی امور کو شاہانہ طریقے سے چلانے کے لیے مزید قرض حاصل کرتے رہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ہمارے سابقہ اکاؤنٹنٹ وزیر خزانہ ملک پر قرضوں کا اتنا بوجھ ڈال کر لندن جا کر بیٹھ گئے جتنے قرض کل پاکستان کی تاریخ میں پہلے حاصل کیے گئے تھے یعنی گزشتہ حکومت میں ستر سالوں کا قرض دگنا ہو گیا ۔ یہ تو ماہرین معاشیات ہی بتا سکتے ہیں آیندہ برسوں میں ہمارا کیا حال ہونے والا ہے لیکن جو نظر آرہا ہے اس میں کوئی خوشگوار مستقبل دکھائی نہیں دے رہا بلکہ عوام کو ابھی مزید بوجھ برداشت کرنے پڑیں گے ۔

ابھی تو عوام الیکشن میں ہی مصروف ہیں اور اسی مصروفیت میں اپنے اوپر بوجھ کو اچھے دنوں کی آس میں برداشت کر رہے ہیں ۔ آج کل الیکشن کے دن ہیں اور عوام اگلے پانچ سال کے لیے اپنے حکمران منتخب کرنے جارہے ہیں یہ وہ مرحلہ ہے جس سے پہلے بھی عوام کئی مرتبہ گزر چکے ہیں اور انھوں نے اپنی پوری ایمانداری سے بہتر نمایندے منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائے لیکن اسلام آباد پہنچنے والا کوئی بھی حکمران عوامی امنگوں اور توقعات پر پورا نہ اتر سکا اور اس نے حکمرانی سنبھالتے ہی روائتی حکومت شروع کر دی بلکہ ان کے پیش رو جو مصیبتیں عوام کے لیے چھوڑ گئے تھے نئے منتخب ہونے والے حکمرانوں نے ان میں کچھ اضافہ ہی کیا۔

عوام کے لیے اگرآسانیاں پیدا کرنے کی بات کی جائے تو اس طرح کا کوئی حکمران آج تک ملک کو نصیب نہیں ہو سکا جس کو یہ اعزاز حاصل ہوتا کہ عوام اس کی حکمرانی سے خوش ہوتے اور اس کو یاد کرتے بلکہ ہر اس حکمران نے جس کے دور حکومت میں عوام مشکلات کا شکار رہے لیکن نئے آنے والوں نے ان مشکلات میں اتنا اضافہ کیا کہ عوام بے اختیار پرانے حکمرانوں کو یاد کرنے لگے ۔

دراصل پاکستان عالمی ساہوکاروں کے نرغے میں اس قدر جکڑا جا چکا ہے کہ کسی بھی نئے حکمران کے لیے یہ بات اب آسان نہیں رہی کہ وہ عوام کو اپنی حکمرانی میں آسانیاں فراہم کر سکے بلکہ ہر حکمران نے عوام سے قومی مفاد کے نام پر قربانیاں ہی مانگی ہیں اور یہ قوم ہمیشہ قربانیاں دیتی آئی ہے یعنی قربان ہی ہوتی رہی ہے ۔ ان قربانیوں کا سفر نجانے کب تک جاری رہے گا کیونکہ اب قوم مزید قربان ہونے کے قابل نہیں رہی اس کے جسم کا ہر حصہ زخمی اور لہو لہو ہے اب ان زخموں پرمزید نمک چھڑکنے کے بجائے مرہم رکھنے کی اشد ضرورت ہے، دیکھتے ہیں انتخابات کے بعد نئے حکمران زخموں سے چور عوام کے دکھوں کا مداوا کیسے کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں