سفید گھوڑا ہی آگے


بنیادی طور وہ صوفی ہیں لیکن وہ صوفی نہیں جو مناصب کے حصول کی امید میں قبروں پر سجدے کرتے ہیں۔ بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہ کر بھی وہ چلنے ، پھرنے اور ملنے ملانے میں ایک عام انسان دکھتے ہیں۔ غرور اور تکبر ان کے قریب سے بھی نہیں گزرے ۔ ادب شناس اور باذوق کمال کی حد تک ہیں لیکن صوم وصلوۃ کی ان کی پابندی بھی قابل رشک ہے ۔ بیوروکریسی میں رہ کر ڈی سی ، پولیٹکل ایجنٹ اور وفاقی سیکرٹری جیسے مناصب پر رہ کر کمانے کے خوب مواقع ملے لیکن جیسے فقیرانہ انداز میں داخل ہوئے تھے، ویسے ہی وہاں سے نکلے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دن کے لئے بھی فارغ نہیں بیٹھے اور رزق حلال کمانے میں مگن رہتے ہیں ۔ انہوں نے فائلوں کے ساتھ زندگی گزاری لیکن ان کے ساتھ ساتھ کتاب کے ساتھ بھی اپنارشتہ برقرار رکھا۔ اس لئے یاردوستوں کے حلقوں میں ایسے دانشور بیوروکریٹ کے طور پر مشہور رہے کہ جو ہمہ وقت سوچتے اور غوروفکر کرتے رہتے ہیں ۔ ملکی حالات کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور افراد کی بجائے ایشوز پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں ۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ قومی معاملات میں جہاں انہیں مواقع نظر آتے ہیں تو متعلقہ لوگوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں اور جہاں خطرہ محسوس کرتے ہیں تو بھی متعلقہ حلقوں تک بغیر کسی کریڈٹ کے سامنے رکھتے ہیں ۔ تاہم وہ عموماًزبانی طور پر براہ راست ملاقات کا سہارا لیتے ۔البتہ اب کی بار انہوں نے روایت یہ توڑی کہ موجودہ انتخابی ڈرامے سے متعلق اپنا تجزیہ مجھے تحریری شکل میں بھجوا دیا۔ جو تجزیے کے ساتھ ساتھ ادب کا بھی ایک بہترین نمونہ ہے اور میں لاکھ کوشش کروں تو بھی اس انداز میں نہیں لکھ سکتا۔ ا ن سے گزارش کی کہ یہ ان کے نام سے اخبار میں شائع ہونا چاہئے لیکن چونکہ وہ حقیقی صوفی ہیں اس لئے کریڈٹ کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے ۔ اشاعت کی اجازت دی کہ میں اسے اپنے کالم میں ان کا نام لئے بغیر شائع کردوں۔ چنانچہ آپ ان کا قلمی نام ابوتراب تصور کرکے ان کی یہ تحریر ملاحظہ کیجئے۔
’’لاہور کے مقامی سینما میں ایک نئی انگریزی فلم لگی ۔ایک سردار جی نے پندرہ دن تک متواتر وہ فلم دیکھی۔ اس کے کسی دوست نے پوچھا، سردار صاحب اس فلم میں کیا خاص بات ہے۔ کہنے لگے اس فلم میں دو گھوڑوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ سفید گھوڑا جیت جاتا ہے۔ کالا پیچھے رہ جاتا ہے۔میں سوچتا ہوں کسی ولے تو یہ کالیا بھی غیرت کرکے سفید گھوڑے سے آگے نکل جائے گا۔
اتفاق ایسے ہوا کہ فلم ابھی اُتری نہیں تھی، لوہاری گیٹ میں بھی دیکھنے چلا گیا، سفید گھوڑا اس رات بھی جیت گیا۔
پاکستان بنا ، سارے سکھ سرحد پار چلے گئے۔ ہم لوگ اس طرف رہ گئے۔ اگلے چند برسوں میں اس فلم کو دیکھنے کا کئی بار موقع ملا۔میری تمام تر خواہشات کے با وجود کالا گھوڑا اب بھی پیچھے رہ گیا ہے۔
پاکستان بننے کے بعد پہلے انتخابات ہوتے ہیں ۔یونینسٹ پارٹی کے تمام رہنما سبز جھنڈے کے نیچے ملک کی قیادت سنبھالتے ہیں۔ایک خان صاحب آتے ہیں ۔ ان کو مسلم لیگ کے نام سے ضد ہے۔ اگلی صبح اسمبلی میں ری پبلکن پارٹی کا جھنڈا لہراتا ہے۔خاکی وردی میں ملبوس تطہیر کا ایجنڈا لے کر نئے لیڈر کی آمد ہوتی ہے۔ سدا بہار گھڑ سوار ان کی رفاقت کیلئے سب سے آگے ہوتے ہیں۔عوام کی طاقت کا نعرہ لگتا ہے۔ مخدوم، سجادہ نشین ، نواب ہم رکاب ہوتے ہیں۔ مرد مومن برسر اقتدار آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دربارنورتنوں سے بھر جاتا ہے۔ اب انہوں نے شیروانیاں پہنیں اور ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے۔سیاست کا بازار گرم ہوتا ہے۔ کہنہ مشق کرسی نشین اپنی نئی پود کیلئے پہلی صف خالی کر دیتے ہیں۔کمانڈو کی تخت نشینی ہوتی ہے۔ جن کا احتساب ہوتا ہے۔ وہی “مقربین” کہلانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
چند سال سے ہم ایک نئی خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک بوڑھا نوجوان نئے پاکستان کی نوید لاتا ہے۔نظر کی عینک لگاتے ہیں تو ایک نیا منظر سامنے آتاہے۔
“لوٹوں” کو عزت و احترام کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔ electables کی نئی اصطلاح متعارف کرائی جاتی ہے۔مزید مدح سرائی کی جاتی ہے،یہ حضرات انتخابات جیتنے کی سائنس جانتے ہیں ۔ہم نے ہر حال میں برسر اقتدار آنا ہے
پشتو کا محاورہ ہے
اخون تہ سہ کہ دسپئی وی کہ د خرے وی
ترجمہ:اخون کو دودھ چاہئے۔ چاہے گدھی کا ہو یاکتیا کا۔
اشتہارات



ہم جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو بارہ سو کنال کے وسیع و عریض گھروں میں رہنے والے ہی تبدیلی کے نقیب لگتے ہیں۔
انگریزوں کیلئے اصطبل بنانے والے ایک صوبے میں ایک پارٹی کے سینٹر فارورڈ ہیں۔دوسرے صوبے میں ان کے ہاتھوں پر امام ضامن باندھنے والے ایک ایسی پارٹی کے اوپننگ بیٹسمین ہیں جو عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔پاکستان کو بنانے کا دعویٰ کرنے والی پارٹیوں کیلئے سیاست ایک خانگی مسئلہ ہے اور کیوں نہ ہو۔ ہمارے کلچر میں اندھا بھی ریوڑیاں اپنوں ہی میں بانٹتا ہے
اسلامی انقلاب کا صبح و شام نعرہ لگانے والے کسی سے پیچھے نہیں۔ جو electables ٹکٹ سے محروم رہے، ان کے دروازے ان کیلئے کھلے ہیں۔ایک اتوار بازار لگا ہوا ہے۔اگر پارٹی کا سہارا نہیں تو “آزاد” کے لیبل پر لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔
25 جولائی کو رات گئے نئی اسمبلیاں وجود میں آ جائیں گی۔ چند دن میں نئی حکومتیں باگ ڈور سنبھال لیں گی۔ سردار جی کے ہمسائے جو سرحد کے اس پار رہ گئے ہیں اگلے دن پھر 1940 کی دہائی والی فلم دیکھیں گے اس امید پر کہ شاید کالا گھوڑا اب کی بار آ گے نکل جائے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ انتخابات کی شکل میں ہمارے سامنے وہی پرانی فلم چلنے لگی ہے ۔ وہی پرانااسکرپٹ ۔ وہی پرانے رائٹرز ۔ وہی پرانی کہانی اور وہی پرانے پروڈیوسرز۔ ماضی میں جو رول میاں نوازشریف کا تھا ، وہی رول اب عمران خان نیازی کو دیا گیا ہے ۔ بے نظیر بھٹو کی جگہ اب کی بار میاں نوازشریف ولن ہیں ۔ الیکشن کمیشن اور عدلیہ وغیرہ کا وہی رول ہے جو ماضی کی انتخابی فلموں میں ہوا کرتا تھا۔ ماضی کی فلموں میں کچھ نہ کچھ ہیرو اور ولن یا پھر دیگر کرداروں کی بھی سنی جاتی تھی لیکن اب کی بار پروڈیوسروں نے مکمل آمرانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے اور کسی کو بھی اسکرپٹ سے ادھر ادھر ہلنے نہیں دیا جارہا ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہیرو اناڑی بھی ہے اور عمررسیدہ بھی ۔ البتہ فلم کے پروڈکشن کی کوالٹی اب کی بار بہتر یوں ہے کہ اس میں نئی ٹیکنالوجی کا بہترین طریقے سے استعمال کیا گیا ہے جبکہ فلم کا خرچہ بھی زیادہ ہے۔ رہے تماشائی یعنی عوام تو وہ اسے نئی فلم سمجھ کر دیکھیں گے ۔ وہ اس امید سے فلم دیکھ رہے ہیں کہ شاید کالا گھوڑا آگے نکل جائے لیکن فلم دیکھ کرانہیں پتہ چلے گا کہ نہ صرف نئی فلم کے نام پر انہیں پرانی فلم دکھائی گئی ہے بلکہ ریس میں اسی طرح سفید گھوڑا ہی آگے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں