اسلام آبادمخالف طالبان کا خاتمہ کریں گے پاکستان ،امریکہ اورافغانستان میں اتفاق

afghan-taliban
امریکہ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث طالبان جو افغانستان کی سرزمین پر اور پاک افغان ملحقہ سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں انکے خاتمہ کیلئے امریکہ کوئی کمپرومائز نہیں کریگا ۔امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز نے گزشتہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران یہ گارنٹی دی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنے کیلئے نیٹو افواج کو کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی فراہم کردہ دہشت گردوں کی لسٹ کے مطابق طالبان دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں تاکہ پاک امریکہ اور افغان حکومتیں مل کر طالبان اور داعش کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کریں۔ معروف سکالر مائیکل جیف ہیمین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کامیاب رہے ہیں پاک آرمی نے واضح کیا تھا کہ ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کرنے کی بجائے افغانستان میں چھپے طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا امریکہ کا فرض ہے چنانچہ امریکہ نے پاکستان کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے مولوی فضل اﷲ ،عمر رحمن عرف فاتح اور حافظ گل بہادر کے اہم ساتھی عبداللّہ داوڑ کو ڈرون حملے میں مارکر پاکستان کو دوستی کا واضح پیغام دیا ہے ۔ ڈاکٹر تھامس گراہم کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کو کہا گیا تھا کہ طالبان کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے ساتھ نرم رویہ رکھا جائے اور اعتماد کی فضا پیدا کی جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر داعش کا مرکزی ہیڈ آفس افغانستان بن جائیگا ۔امریکی تحقیقاتی اداروں نے بھی افغانستان کی سرزمین کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس، چین اور کئی دیگر عالمی طاقتیں اب افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروپوں کو امداد فراہم کر رہی ہیں ان طاقتوں کا مقصد صرف یہی ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے نہ دیا جائے اور اس کے وسائل کو اسی جنگ میں ضائع کیے جائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں