فیصلہ :ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا


عدالت کے لکھے فیصلے مؤخر ہو سکتے ہیں مگر تقدیر کے لکھے فیصلے کبھی مؤخر نہیں ہوتے۔ نہ ایک گھڑی ادھر نہ ایک گھڑی ادھر۔ تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ ہاں ! مگر اللہ کے آخری نبیؐ نے مایوس انسانوں کی امید بندھائی اور فرمایا کہ تقدیر کے فیصلے کو بھی ایک شے ٹال سکتی ہے۔ ایک شے بدل سکتی ہے۔ ایک شے سیاہی کو سفیدی سے‘ تاریکی کو روشنی سے رات کی زلف سیاہ کو سپیدہ سحر سے بدل سکتی ہے۔ اس شے کا نام ہے دعا۔ جناب رسالت مآبؐ کا ارشاد برحق ہے مگر یہ بھی جناب مصطفی ؐ کا ہی فرمان ہے کہ مظلوم کی آہ سے بچو۔ کیونکہ اس کے اور عرش کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا۔ جب بار بار مظلوموں کے حقوق کو روندا جائے گا ‘بے کسوں اور غریبوں کی دولت کو لوٹا جائے ‘انہیں نان جویں کے لیے بھی ترسایا جائے گا ان کے بچوں کو زیور تعلیم کی بجائے جہالت کی تاریکیوں میں دھکیل دیا جائے اور ان کے حصے کی دولت لوٹ کر اپنے بچوں کے لیے دنیا کے مہنگے ترین علاقوں میں محلات اور فلیٹ خریدے جائیں اور جب ان کی آہیں اور فریادیں عرش پر پہنچتی ہیں تو پھر بے جان دعائیں لوٹا دی جاتی ہیں ۔احتساب عدالت کے آنریبل جج محمد بشیر نے کوئی چار بار فیصلے کی ٹائمنگ کو بدلا۔ ہر بار نیا وقت دیا ‘پہلے ساڑھے بارہ بجے‘ پھر اڑھائی بجے‘ پھر تین بجے اور بالآخر ساڑھے تین بجے۔اس تاخیر پر مجھ جیسے لوگ پریشان بہت ہوئے ۔یہ تاخیر ایک سسپنس فلم کی طرح چلتی گئی ایسے مواقع پر شعرائے کرام ہماری مدد کرتے ہیں اور ہمارے مافی الضمیر کو اس انداز سے ادا کرتے ہیں کہ دل کی بات ایک خوبصورت پیرائے میں زباں پر آ جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے ‘یہی سمجھ لیجیے کہ آنریبل جج محمد بشیر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ؎ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا آپ آتے تھے‘ مگر کوئی عناں گیر بھی تھا ہمارے ہاں چونکہ بات بے بات افواہیں جنم لیتی ہیں اس لیے ’’باعث تاخیر‘‘ کے بارے میں سوشل میڈیا پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ اگرچہ جج صاحب کا کہنا تھا کہ فیصلے کی فوٹو کاپیاں تیار ہو رہی تھیں اور یہی ’’باعث تاخیر‘‘ تھا اور کچھ نہیں۔ قارئین کرام! ایک طرف عدالت سے تاخیر پر تاخیر ہوتی رہی اور میں ٹیلی ویژن کی اسکرین کے سامنے بیٹھا رہا دوسری طرف میرے اسسٹنٹ ایڈیٹر نے کالم ارسال کرنے کی ڈیڈ لائن بھی دے دی تھی جو ساڑھے چار بجے سہ پہر تھی۔ جو لوگ اخباری دنیا سے کچھ آگاہی رکھتے ہیں وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ادارتی صفحات کی کاپی کو زیادہ سے زیادہ پانچ بجے تک پریس میں بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ اخبار کے ادارتی صفحات سارے ملک میں یکساں ہوتے ہیں۔ میں ہمہ تن گوش اسکرین پر نگاہیں جمائے بیٹھا رہا۔ پہلے جج محمد بشیر نے اخباری نمائندوں کو کمرہ عدالت میں بیٹھنے کی اجازت دی تھی مگر پھر غالباً نمائندوں کی کثرت کی بنیاد پر انہیں کمرہ عدالت سے باہر بھیج دیا گیا اور کمرے میں صرف ملزمان کے وکلاء ہی موجود تھے۔ انہوں نے ہی عدالت سے باہر آ کر میڈیا نمائندوں کو آگاہ کیا۔اس لیے سسپنس لمحہ بہ لمحہ بڑھتا گیا۔ ادھر میری بے چینی بھی بڑھتی جا رہی تھی کیونکہ میرے اخبار کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن بھی قریب آتی جا رہی تھی۔ میری یہی خواہش تھی کہ میں فیصلے کے ساتھ ہی اپنی رائے اور تجزیہ شیئر کروں۔ یہ تجسس اور یہ سسپنس صرف پاکستان میں نہیں۔ دنیا کے کونے کونے میں موجود تھا۔ قارئین کرام چار بجے ایک بار پھر فیصلے کا اعلان پانچویں بار ملتوی ہوا لیکن ہمیں ذرا یہ یاد دہانی کر لینی چاہیے کہ لندن اپارٹمنٹس کے بارے میں شریف فیملی نے متضاد بیانات دیے تھے کبھی محترمہ کلثوم نواز صاحبہ نے کہا کہ ہم نے یہ اپارٹمنٹس اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے لندن میں خریدے تھے۔ یہ 4اپارٹمنٹس لندن کے مہنگے ترین علاقے میں ہیں۔ یہ اپارٹمنٹس پارک لین لندن میں ایون فیلڈ ہائوس میں ہیں۔ ان اپارٹمنٹس کے نمبر 17A,17,16A,16ہیں۔
اشتہارات



پانامہ لیکس سے یہ بات منظر عام پر آئی کہ شریف فیملی نے لندن کی یہ پراپرٹی برٹش ورجن آئی لینڈ کی آف شور کمپنیوں کے ذریعے 1990ء میں اپنے بچوں کے نام پر خریدی تھی‘ جبکہ بچے بالکل کم عمر تھے۔ شریف فیملی نے دعویٰ کیا کہ ایک ٹرسٹ کے ذریعے یہ پراپرٹی2006ء میں اس وقت خریدی گئی تھی جب وہ اپوزیشن میں تھے۔ یہ فلیٹس سعودی عرب میں ایک پیپر مل فروخت کر کے اس کے سرمائے سے خریدے گئے تھے۔ پانامہ پیپرز کے مطابق میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین اور بیٹی مریم نواز نے دو آف شور کمپنیوں اور ایک تیسری کمپنی کوبر گروپ کے ذریعے 7ملین پونڈ کا قرضہ ڈوشے بنک کی سوئس شاخ سے حاصل کیا ۔خدا خدا کر کے فیصلے کی گھڑی آئی اور غالباً پہلی بار کسی بڑی سیاسی شخصیت بلکہ شخصیات کو نیب عدالت سے عبرتناک سزائیں سنائی گئی ہیں۔ میاں نواز شریف کو دس سال قید‘ مریم نواز کو سات سال قید اور کیپٹن صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ میاں نواز شریف کو ایک ارب 29کروڑ روپے جبکہ مریم نواز کو 32کروڑ 40لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ چند روز پہلے ڈیلی میل نے بھی لندن میں میاں نواز شریف کی جائیدادوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس میں ایون فیلڈ کے محل نما4فلیٹوں کے علاوہ ان کی تقریباً تیس سے زائد جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ انگلستان میں ایسی کوئی اخباری رپورٹ نہایت چھان بین کے بعد شائع کی جاتی ہے کیونکہ غلط رپورٹنگ کی صورت میں اخبار پر بہت بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے نیز اخبار کی برسوں پرانی ساکھ تباہ ہو جاتی ہے۔ خیال یہ کیا جاتا تھا کہ شریف فیملی ڈیلی میل کے خلاف ضرور مقدمہ دائر کرے گی جو انہوں نے ابھی تک نہیں کیا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ شریف فیملی مقدمہ تو تب دائر کرتی جب ڈیلی میل کی رپورٹ غلط ہوتی۔ میں اس وقت فیصلے کے قانونی پہلوئوں کو چھوڑتے ہوئے اور مسلم لیگ(ن) پر فیصلے کے سیاسی و انتخابی مضمرات و اثرات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک اور ہی زاویہ نگاہ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ تیس پینتیس برس کی سیاسی اور تقریباً بیالیس چوالیس سال کی خاندانی زندگی میں میاں نواز شریف نے اپنے ملک کو کیا دیا اور اپنے خاندان کو کیا دیا۔ اس حوالے سے بھی ایک تقابلی جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ میاں شریف نے اپنے خاندان کے لیے کیا خدمات انجام دیں اور میاں نواز شریف نے اپنے خاندان کے مستقبل کے لیے کیا کچھ کیا۔ میاں شریف صاحب نے لوہے کے ذروں سے اتفاق سٹیل ملز بنائی اور دو تین دہائیوں میں ایک بزنس ایمپائر کھڑی کر دی۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے ذریعے انہوں نے اپنے خالصتاً تجارتی خاندان کے لیے سیاست کے دروازے کھول دیے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے صاحبزادے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم اور اپنے دوسرے صاحبزادے میاں شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنتا دیکھا۔ اتنے بلندو بالا مناصب پر پہنچنے کے باوجود میاں نواز شریف کی جاہ و جلال اور زرو مال کے لیے ھل من مزید‘ ھل من مزید کی صدائیں بلند ہوتی اور بڑھتی چلی گئی۔ انہوں نے اپنے بچوں کے لیے اعلیٰ معیار کی تعلیم کا کوئی اہتمام نہ کیا اور مالی و سیاسی کرپشن کے ذریعے انہوں نے اپنی جاں نشینی کا تاج اپنی صاحبزادی کے سر پر سجانے کی کوشش کی۔ نتیجہ اس کا کیا ہوا۔ اس ساری کارروائی کے نتیجے میں میاں نواز شریف کے بچوں پر کرپشن کا انمٹ داغ لگ گیا۔یہ بچے سچ کے بجائے جھوٹ بولتے رہے۔ یہ بچے بے نامی جائیدادوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ تبھی تو ان کے بیانات میں بہت سے تضادات پائے جاتے تھے کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ میاں صاحب نے اپنے ملک کو ہولناک غربت اور خوفناک قرضوں کا بوجھ دیا۔ چند روز پہلے مریم نواز نے کہا تھا کہ ہم نے وہ جھنڈا اٹھایا ہے جو ستر سال سے کسی نے نہیں اٹھایا تھا۔ یہ کون سا جھنڈا ہے۔ کیا یہ کسی اعلیٰ و ارفع نظریے کا جھنڈا ہے؟ کیا یہ پاکستان کی سربلندی کا جھنڈا ہے؟ کیا یہ عوام سے یکجہتی کا جھنڈا ہے؟ ایسا ہرگز نہیں اب جو جھنڈا آنریبل جج نے ان کے ہاتھ میں تھمایا ہے وہ بے پناہ کرپشن کا جھنڈا ہے۔ ’’باعث تاخیر‘‘ کیا تھا یہ تو جج محمد بشیر ہی بتا سکتے ہے بہرحال فیصلہ آ گیا۔ دیر آید درست آید۔
ڈاکٹرحسین احمد پراچہ

اپنا تبصرہ بھیجیں