نہ جا اس کے تحّمل پر


مدتوں سے یہ محاورہ زبان زد عام ہے کہ “سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا”۔ صدیوں سے تخت و تاج کی لڑائی نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان اقتدار کے لیے سگے بھائیوں کو قتل کرتا ہے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا کر اندھا کر دیتا ہے، باپ پر تلوار سونت لیتا ہے، اسے قید کر دیتا ہے، معتمد ترین وزیروں اور جرنیلوں کی کھالیں کھنچوا دیتا ہے، اور جب وہ ایسا سب کچھ کر رہا ہوتا ہے تو عام انسان پکار اٹھتا ہے کہ اس کے سینے میں دل نہیں ہے۔ لیکن جدید دنیا ایک اور محاورہ تخلیق کر رہی ہے اور وہ یہ کہ “سیاست دان کی آنکھ میں حیا نہیں ہوتی”۔ ڈھٹائی اور بے شرمی جب سیاست کی پہچان بن جائے تو آئندہ آنے والی نسلوں کو ایسے ہی محاورے تحفے میں دیے جاتے ہیں۔
آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی اگر کسی عام سے سرکاری عہدے پر فائز ایس ایچ او، ایکسین، تحصیلدار یا بیوروکریٹ کی جائیداد ایسی نکل آئے جسکا اسکی آمدن سے دور دور کا بھی تعلق نہ ہو، وہ یہ ثابت نہ کرسکے کہ یہ تمام مال و متاع اور زمین و جائیداد اس نے کہاں سے بنائی، اسے حکام پکڑ کے لے جائیں، عدالت میں پیش کریں تو وہ دنیا بھر سے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ گزشتہ ستر سالوں سے سرکاری عہدے داروں پر کرپشن، بد دیانتی اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے مقدمات بنتے چلے آئے ہیں اور ان میں ملوث سرکاری اہلکار پوری زندگی بدنامی کے خوف سے منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ ان کے اردگرد بسنے والے لوگوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد نے بھی آج تک یہ صدا بلند نہیں کی کہ ان پر یہ سیاسی مقدمہ بنایا جارہا ہے۔ یہ ایک انتقام ہے جو ان سے لیا جا رہا ہے۔ سیاسی طور پر برطرف سرکاری ملازمین کے بارے میں ریکارڈ کی درستگی ضروری ہے، خواہ وہ یحییٰ خان کے 303 ہوں یا ذولفقار علی بھٹو کے جمہوری انتقام کا شکار چودہ سو سرکاری افسران، دونوں دفعہ ان افسران کو بغیر کوئی مقدمہ چلائے صرف ایک الزام لگاکر برطرف کردیا تھا کہ یہ لوگ نااہل ہیں۔ لیکن وہ اہلکار جن پر کرپشن، لوٹ مار اور وسائل سے زیادہ جائیدادیں بنانے کا الزام لگا، اینٹی کرپشن، احتساب بیورو یا نیب کے شکنجے میں آئے، وہ عمر بھر اپنی خجالت اور شرمندگی کی وجہ سے منہ چھپاتے رہے۔ ان کی اولادیں اپنے والدین کا ذکر کرنے سے ہچکچاتی رہیں۔ کوئی شہر چھوڑ گیا تو کوئی ملک۔ اس لیے کہ عام لوگ جانتے تھے کہ یہ ایس ایچ او، پٹواری، ایکسین یا انکم ٹیکس آفیسر کل ہمارے سامنے ایک سادہ سی زندگی گزارتا تھا، آج اس کے محلات کیسے بن گئے، اس کی اولادیں تعیش کی زندگی کیسے گزارنے لگیں۔ لیکن صرف اور صرف پاکستان کی سیاست میں ایسا ہوتا ہے کہ وہی الزام جو ایک عام سرکاری اہلکار پر لگتا ہے اور وہ مجرم ثابت ہو جائے تو شرم سے منہ چھپاتا پھرتا ہے، پاکستان کا سیاست دان اسے ایک اعزاز سمجھتا ہے اسے ایک تمغے کے طور پر سینے پر سجاتا ہے اور بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ لوگوں کے سامنے آجاتا ہے اور اس کے حواری اس کے لئے تالیاں بجاتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کی اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوگی کہ جس کے لیڈروں کی اکثریت کے بارے میں ہر خاص و عام کے ذہنوں میں تاثر رچ بس چکا ہو کہ یہ بددیانت ہیں، چور ہیں اور بغیر کمیشن، سفارش یا لالچ ان سے کوئی جائز کام بھی نہیں کروایا جا سکتا۔ جن کے اردگرد بسنے والے لوگ یہ جانتے ہوں کہ کل تک یہ ہم جیسے تھے اور پھر سیاست میں آتے ہی ان کی تقدیر بدل گئی، ان کے محلات کھڑے ہوگئے۔ ان کی ذاتی زندگی میں عیش و عشرت شامل ہو گئی اور اس بیش بہا دولت و جائیداد کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس کے باوجود کوئی گیارہ سال کرپشن کے الزام میں جیل کاٹ کر آئے تو میرے ملک کا دانشور صحافی اسے “مرد حر” کا خطاب دے دے اور کوئی اپنی لاتعداد جائیدادوں کا حساب نہ دے سکے تو اسے جمہوریت کے پرچم کا علمبردار کہہ کر پکارا جائے۔ جس ملک میں کسی راہ چلتے شخص کی جیب سے ایک گھڑی نکل آئے اور وہ اس کی خریداری کا ثبوت پیش نہ کرسکے، تو اسے جیل بھیج دیا جائے۔ جہاں انکم ٹیکس کا انسپکٹر اس شخص کو نوٹس بھیج دے کہ بتاؤ یہ جو تم نے گاڑی خریدی ہے، اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا۔ اس ملک میں ایک تین دفعہ وزیراعظم رہنے والا شخص کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہے کہ تمہارا عدالتی نظام، تمہارا تفتیشی سسٹم مجھ سے سوال کرنے کی جرات کیسے کرتا ہے میں تو وہ ہوں جس کو عوام نے ووٹ دیے ہیں۔



کیا جمہوریت اور جمہوری نظام اس قدر بد نما چیز ہے یا ہمارے سیاسی راہنماؤں نے اسے اس قدر کریہہ بنا دیا ہے کہ آپ چند ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوجائیں یا ناکام بھی رہیں، کوئی آپ سے آپ کی آمدن، ذرائع آمدن اور پرتعیش زندگی کے بارے میں سوال کرنے کی جرات نہ کرے۔ اگر آپ اپوزیشن میں ہیں تو یہ انتقام ہے، اگر حکومت میں ہیں تو آپ کے خلاف نادیدہ قوتوں کی سازش ہے۔ جدید دنیا کی تاریخ میں افریقہ کے پسماندہ ترین ممالک سے لے کر یورپ کی مہذب دنیا تک کسی ملک میں کوئی سیاسی راہنما اس ڈھٹائی کے ساتھ عوام کے سامنے نہیں آیا کہ یہ کہے! کون ہے یہ گستاخ جو ہم سے ہماری آمدن کا حساب مانگتا ہے، ایسا صرف اس ملک کی قسمت میں ہی لکھا ہے۔ یہ تکبر کے جھولے پر جھولتے ہوئے سیاست دان اس پتنگ کی طرح ہوتے ہیں جو کھلی فضاؤں میں بلند ہوتی ہے تو غرور سے پھڑپھڑانے لگتی ہے اور یہی اس کی موت کا وقت ہوتا ہے۔ تیز ہوائیں اسے پھاڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ سیاست دانوں کو تکبر کے جھولے جھلانے والے وہ دانشور، ادیب اور صحافی ہوتے ہیں جو حکمران کو اس انداز سے جھلاتے ہیں کہ پھر زمین پر ان کے پاؤں ہی نہیں ٹکتے۔ وہ تکبر کی اس فضا میں بلند ہوتے پاؤں زمین سے جدا کر لیتے ہیں اور پھر دھڑام سے نیچے جا گرتے ہیں۔ کہیں کارکن لاش اٹھا کر اپنے لیے نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں اور کوئی صبح شام نفرین بھیج کر راستے جدا کر لیتے ہیں۔میاں محمد نواز شریف کی کہانی بھی پاکستانی سیاست کی اس کہانی سے مختلف نہیں۔ وہ لوگ جو علت و معلول (Cause & effect) کے قائل ہیں، اسے لوگوں کی دو آراء ہیں۔ ایک یہ کہ میاں صاحب نے جرم کیے اور ان جرائم کی سزا بھگتنے والے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ایسے جرم ہر سیاستدان کرتا ہے، انہیں اس لیے پکڑا گیا کہ وہ مقتدر قوتوں کے مقابل آکر کھڑے ہوگئے تھے اور یہ للکار ہی انہیں پاکستان کا ہیرو ثابت کرے گی۔ لیکن میں جس تصور کو اپنا ایمان سمجھتا ہوں اس میں یہ دنیا صرف اور صرف علت و معلول نہیں بلکہ اس دنیا پر ایک اللہ ہے جو حکمران، الہٰ اور فرمانروا ہے اور وہ بار بار اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے۔ وہ فضائے بسیط کے نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے، زمینوں کو جنبش دے کر زلزلے پیدا کرتا ہے۔ کسی کے سر پر تاج پہنا دیتا ہے اور کسی سے چھین لیتا ہے۔ میاں نواز شریف کسی حکمران کو اللہ کی جانب سے دی گئی مہلتوں کے اختتام کا منظر نامہ ہیں۔ 1980ء کا نواز شریف اس ملک کی اساس اور نظریے کے نام پر لوگوں کے سامنے آیا۔ پاکستان، اسلام، حرمت رسول، اور اقدار و روایات اس کا نعرہ تھیں پھر وہ اپنے عہد سے بدل گیا۔ اسے اللہ نے تین بار مہلت دی۔ کیا عجیب منظر نامہ ہے کہ جب ممتاز قادری کی سزائے موت پر عمل درآمد ہوا تو کم سے کم یہ اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ جہاں ہزاروں سزائے موت کے منتظر سالوں سے جیلوں میں موجود ہیں تو پھر ممتاز قادری کو خاص طور پر کیوں منتخب کیا گیا اور کس کو خوش کرنے کے لئے منتخب کیا گیا۔ آج ویسا ہی سوال نواز شریف کی زبان پر ہے کہ صرف مجھے کیوں احتساب کے لیے منتخب کیا گیا۔ کیا محکمہ قانون اور زاہد حامد اکیلے اس جرم کے ذمہ دار ہیں کہ کس طرح ناموس رسالت کے ڈاکو قادیانیوں کے لیے راستہ ہموار کیا گیا۔ میاں نواز شریف تنہائی میں سوچیں تو انہیں احساس ہوگا کہ ان سے یہ کتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی۔ یہ علت و معلول کی دنیا ہے۔ لیکن میرے اللہ کا بھی ایک قانون ہے۔ وہ مہلت دیتا ہے اور دیتا چلا جاتا ہے پھر اگر کوئی اس کے سامنے جھک جائے تو اس کی غلطیوں پر پردہ پڑا رہتا ہے اور جو اس کے مقابل آ کر کھڑا ہو جائے اس کو ویسی ہی غلطیوں پر عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔

نہ جا اس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے گرفت اسکی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا

اپنا تبصرہ بھیجیں