ہر انتخاب سے پہلے دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں: پاک فوج


اسلام آباد (نمائندہ جنگ،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) ڈی جی آئی ایس پی آر وترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفور نے کہاہے کہ ہر انتخابات سے پہلے دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں،ہماری کوئی سیاسی وابستگی نہیں ،ہمارا کام صرف الیکشن کمیشن کی مدد کرنا ہے ، الیکشن کروانانہیں، خلائی مخلوق سیاسی نعرہ ہم خدائی مخلوق ہیں، ہر چیز کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے،وہ کون سا الیکشن ہے جس سے پہلے سیاستدانوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں؟جس نے جو بویا الیکشن میں وہی کاٹے گا،عوام جیسے ووٹ دینگے وہی وزیر اعظم ہوگا.

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے منگل کو راولپنڈی میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران افواج پاکستان کا کام صرف اور صرف الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ فوج کے لیے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر انتخابات کے دن الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے۔میڈیاسوالوں اور حالیہ انتخابات کے حوالے سے بعض خدشات پرمبنی تاثر پر گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کے لیے فوج کی تعیناتی پہلی بار نہیں ہے۔ افواج پاکستان الیکشن کمیشن کے حکم پر پہلے بھی یہ کام انجام دیتی رہی ہیں۔الیکشن کمیشن نے ہمیں چھ کام دئیے ہیں۔اس میں سب سے پہلے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنا۔ دوسرا بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران پرنٹنگ پریسز کی سکیورٹی یقینی بنانا۔ تیسرا انتخابی سامان کی ترسیل۔ چوتھا پولنگ سٹاف اور ریٹرننگ افسران کی سکیورٹی۔ پانچواں پولنگ کے روز پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر اپنے نمائندے تعینات کرنا اور پولنگ کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد تمام بیلٹ بکسوں کو واپس الیکشن کمیشن آف پاکستان پہنچانا ہے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا عوام کے ووٹوں سے جو بھی وزیراعظم آئے گا وہ قبول ہوگا۔ہماری طرف سے مسٹر اے، بی یا سی آئیں، جسے عوام لےکر آئیں وہ وزیراعظم ہوگا اور عوام جسے چاہیں اسے منتخب کریں۔ اس سے پہلے الیکشن کے حوالے سے کہا جاتا رہا کہ ضمنی الیکشن نہیں ہوں گے، کبھی کہا گیا کہ ٹیکنوکریٹ حکومت آجائے گی۔ لیکن اس حوالے سے تمام شکوک شبہات دم توڑ گئے ہیں۔ بلکہ ہم الیکشن کی طرف جارہے ہیں۔ یہ تیسرا الیکشن ہے جس میں پاکستان جمہوری سفر جاری رکھے گا۔افواج پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی وابستگی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں فوج کی تعیناتی کوئی پہلی مرتبہ نہیں، اس سے قبل بھی افواجِ پاکستان، الیکشن کمیشن کے حکم پر انتخابات میں فرائض انجام دیتی رہی ہے، 1997 کے انتخابات میں 35 ہزار پولنگ اسٹیشنز پر ایک لاکھ 92 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے جبکہ 2002 کے انتخابات میں 64 ہزار 470 پولنگ اسٹیشنز پر ساڑھے 30 ہزار جوانوں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دئیے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2008 کے انتخابات میں 64 ہزار 176 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے، جس پر 39 ہزار اہلکاروں نے فرائض انجام دیے تھے جبکہ 2013 کے عام انتخابات دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے کافی مشکل تھے، ان انتخابات میں 70 ہزار 185 پولنگ اسٹیشن پر 75 ہزار جوانوں نے سیکیورٹی فرائض انجام دئیے تھے۔2018 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن نے مسلح افواج سے کہا ہے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ان کی مدد کریں، صاف و شفاف انتخابات کا مطلب ہے کہ سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں کسی بھی خوف کے بغیر ہوں، جلسے، جلوسوں کے لیے محفوظ ماحول ہو، پولنگ والے دن بھی ایسا ماحول ہو کہ ووٹرز گھر سے بلا خوف و خطر نکل کر ووٹ ڈالیں، اسی طرح الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق دیا ہے اس پر مکمل طور پر عمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ ماحول میں انتخابات کا مطلب یہ ہے کہ انتخابی عمل کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، تعصب اور پسند یا ناپسند سے بالاتر ہو اور سب سے اہم اگر بیلٹ باکس میں 100 ووٹ ڈالے گئے ہیں تو گتنی کے وقت تعداد اتنی ہی ہو۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر افواج پاکستان کے نمائندے کہیں کوئی بے ضابطگی دیکھتے ہیں تو اس کے بارے میں الیکشن کمیشن کے حکام کو ہی بتانا ہے، افواجِ پاکستان کو انہیں ٹھیک کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے لیے الیکشن کمیشن نے افواجِ پاکستان کو آرٹیکل 220 اور 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت 6 کام دئیے ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ان کاموں میں سب سے پہلے امن و امان کو بہتر کرنا، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکیورٹی کی فراہمی، انتخابی سامان کی ترسیل، ریٹرننگ افسر کے دفتر تک پولنگ اسٹیشن کے تمام مواد کی ترسیل اور اسٹاف کی سیکیورٹی، پولنگ والے دن اسٹیشن کے اندر اور باہر اپنے نمائندے تعینات کرنا اور پولنگ کے عمل کے بعد تمام بیلٹ باکسز کو واپس الیکشن کمیشن تک پہنچانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کے لیے راولپنڈی میں ایک تھری سٹار جنرل کی سربراہی میں آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر قائم کیا ہے۔ بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن نے افواجِ پاکستان کے لیے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 کے انتخابات میں تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، اس سلسلے میں ملک بھر میں 85 ہزار 307 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، جو 48 ہزار 500 عمارتوں میں بنائے گئے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے افواجِ پاکستان کو 3 لاکھ 71 ہزار 388 اہلکار درکار ہیں۔ عوام جسے ووٹ دیتے ہیں اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم ہوگا اور ہم سے زیادہ میڈیا صاف شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کر سکتے اور کسی کو ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کرا سکتے لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ خوشی کی بات نہیں ہوسکتی کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتیں جمہوری عمل کو آگے لے کر جارہے ہیں اور 25 جولائی کو عوام ملک کو ایک اور جمہوری دور کی جانب لے کر جائیں گے۔ دھاندلی سے متعلق سوالات کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ ماضی میں انتخابات سے پہلے اور بعد میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔انہوں نے کہاکہ مسلح افواج گزشتہ پندرہ سالوں سے پاکستان کی بقا کی جنگ لڑرہی ہیں اور وہ سیکورٹی اور دفاع کے بنیادی مسائل سے توجہ نہیں ہٹاسکتیں۔مختلف امیدواروں کو جیپ کا انتخابی نشان دینے کے سوال سے متعلق انہوں نے کہا کہ امیدواروں کو انتخابی نشان الیکشن کمیشن تفویض کرتا ہے اور مسلح افواج کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم کسی بھی سائبر خطرے سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں سوشل میڈیا پر پاکستان کے سیاسی استحکام ک خلاف سرگرم ہیں انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی قومی سلامتی کے خلاف کوئی اقدام ہوا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کیلئے آگاہی پیدا کرنے کی غرض سے اپنا کردار ادا کرے۔پس پردہ قوتوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام کی طرف سے منتخب کیا گیا کوئی بھی شخص مسلح افواج کو قابل قبول ہوگا۔فوج کے ترجمان نے ڈیموں کی تعمیر کیلئے قائم فنڈ میں عطیات سے متعلق کہا کہ آرمی چیف نے اس مقصد کے لئے ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔جیو نیوز کے مطابق ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ جو آپ بوئیں گے پورے پانچ سال وہی کاٹیں گے، آپ نے بونا ہے اور آپ نے کاٹنا ہے۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کہ میڈیا بھی اس عمل کو ٹھیک سے لے کر چلے، میڈیا الیکشن میں شفافیت پر ہم سے زیادہ تعاون کرسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ووٹر سمجھتے ہیں یہ ان کا نمائندہ ہے تو ووٹ ڈالیں، یہ کیسے ممکن ہے ساڑھے تین لاکھ فوج کو کان میں کہہ دیں ایسا کرنا ہے، فوج کی ایک عزت ہے، سپاہی ہمارے حکم پر جان دینے کے لیے تیار ہوتا ہے اسے غلط حکم نہیں دے سکتے، اس سیاسی عمل کو سیاسی رہنے دیں، ہم 25 جولائی تک اور برداشت کریں گے، آپ دیکھیں گے جیسے باقی الزام غلط ثابت ہوئے یہ بھی ہوں گے۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان میں ایسا کون سا الیکشن تھا جس میں کسی جماعت یا سیاستدان نے یہ نہ کہا ہو کہ دھاندلی ہورہی ہے، کوئی ایک ایسا الیکشن بتایا جائے جس سے پہلے مختلف جماعتوں کے لوگوں نے پارٹی تبدیل نہ کی ہو، بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں دوسری جماعتوں کو نیچا دکھا کر الیکشن لڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حساس پولنگ سٹیشن میں دو جوان اندر اور دو باہر اور نارمل میں باہر کم ہو سکتے ہیں اس کے ساتھ سول انتظامیہ بھی ہو گی،پولنگ سٹیشن کے اندر کے جوان کی ڈیوٹی صاف، شفاف الیکشن یقینی بنانا ہے اور غیرمتعلقہ فرد کو اندر نہیں آنے دے گا،ووٹر کے ساتھ زبردستی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ الیکشن ڈیوٹی کے لیے ہم ریگولر فوج سے فوج نہیں نکال سکتے ہیں اس لئے سویلین اور ریٹائرڈ ملازمین کو شامل کررہے ہیں۔ نیوی اور فضائیہ کے اہلکار بھی شامل ہونگے۔الیکشن ڈیوٹی دینے کے لیے فوج کو ٹریننگ دینے کے لئے بھی کام ہورہاہے۔ افواج پاکستان کوالیکشن کمیشن کی غیرسیاسی اور غیرجانبدار ہو کر مدد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔21 جولائی تک پرنٹنگ کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ غیرمتعلقہ شخص پرنٹنگ پریس کے اندارنہ جا سکتا ہے اور نہ ہی مواد لے جاسکتا ہے۔ زیادہ تر ترسیل سڑکوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ 25 جولائی سے تین دن قبل الیکشن سٹیشن پرسکیورٹی لگا دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جوسپاہی جان دینے کے لئے تیار ہوتا ہے اگر اس کو غلط آرڈر دینگے تو کل صحیح آرڈر بھی نہیں مانے گا۔ 50 ہزار خط گئے اور صرف دو خطوں پر اعتراض ہوا ہے اور ہم نے غلطی قبول بھی کی ہے۔ملتان کے امیدوار پر ڈیڑھ سال سے مقدمات محکمہ زراعت نے کئے ہیں اس واقعہ میں کوئی ISI کا نمائندہ ملوث نہیں ہے۔ محکمہ زراعت اس کی تصدیق کرے گا ہم نے قصور میں خود آرمی چیف کا پوسٹر اتارا ہے اور الیکشن کمیشن نے اس کا نوٹس بھی لیا ہے۔ انتخابی نشان نہ ISI اور نہ ہی افواج پاکستان ایشو کرتے ہیں جوجیپ کا نشان الیکشن کمیشن نے جاری کیا ہے اس طرح جیپ فوج نہیں امیدوار استعمال کرتے ہیں۔ میڈیا ووٹر کو باہر نکالنے کے لئے کردار ادا کریں۔عمران خان کے حوالے سے آپ نے آرمی پر الزام لگایا ہے۔ کل ڈیم کے لئے افواج پاکستان نے حصہ ڈالا ہے جو اس میں حصہ ڈالنا چاہے ڈال سکتا ہے۔ آرمی چیف ایک مہینے کی تنخواہ ڈیم کے لئے دینگے۔فاٹا میں الیکشن کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فاٹا کا انضمام ہوچکا ہے وہاں الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں بھی درخواستیں گئیں، اب اس معاملے پر جو ریاست کا فیصلہ ہے وہی سب کا ہوگا، وہاں باقی الیکشن ابھی عام انتخابات کے مطابق ہوں گے۔

جیپ کو جو رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ ہمارا رنگ نہیں،سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آزادانہ ماحول میں ہونی چاہیے،بیلٹ باکس میں 100 ووٹ ڈلیں تو 100 ہی نکلنے چاہئیں نہ کہ ایک سو سے زائد،الیکشن کی بے ضابطگی دور کرنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں ، کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے اور جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،ایف آئی اے بہت اچھا کام کر رہی ہے،ملتان کے واقعے سے آئی ایس آئی کا تعلق نہیں۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں