منی لانڈرنگ اسکینڈل: شرم تم کو مگر نہیں آتی!


یہ کیسا ملک بن گیا ہے جہاں ہر شخص لوٹ مار کو ذریعہ معاش بنا کر ملک کو کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔ چوری چکاری، کمیشن، بھتہ خوری، آف شور چوریاں، قرض معافیاںاور منی لانڈرنگ کا دھندہ … ابھی پاناما کیس کے اثرات ختم نہیں ہوئے تھے کہ اُس سے بڑا منی لانڈرنگ کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا جب شریف خاندان کو پاناما کیس میں سزا سنائی گئی اور وہ جمعہ کو ملک میں آرہے ہیں۔

ایک سزا یافتہ مجرم جب جیل جائے گا تو اس قوم کو حقیقت میں خوش ہونا چاہیے مگر… مگر اس سے پہلے ملک کے لیے ایک اور مصیبت کھڑی ہوگئی ہے اور وہ ہے منی لانڈرنگ کا ایک بڑا اسکینڈل… ایف آئی اے کی رپورٹس کے مطابق یہ 2014ء کی بات ہے کہ 7 لوگوں کے اکاؤنٹ نجی بینک میں کھولے گئے۔ اور اگلے دس دنوں میں اُن اکائونٹس سے 35 بلین روپے ملک سے باہر ٹرانسفر کیے گئے۔ اور اکائونٹس بند کر دیے گئے۔ اسٹیٹ بینک اتنی بڑی ٹرانسفر پر حیران ہوا۔ اورFIA کو تحقیقات کا حکم دیا۔

تحقیقات سے پتہ چلا ساتوں لوگ انتہائی غریب ہیں۔ اور بلین تو کیا ہزاروںروپے بھی اکھٹا نہیں کر سکتے۔FIA نے زرداری کے قریبی ساتھ حسین لوائی (ڈائریکٹر نجی بینک) کو شامل تفتیش کرلیا۔ اور کھرا زرداری اور فریال تالپورتک جانے لگا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق انھی دنوں نواز شریف اور زرداری میں ملاقات ہوئی اور ایک اہم حکومتی وزیر جو آج کل ن لیگ سے سخت نالاں ہیں نے تحقیقات روکوا دی۔
اب جب FIA کو سپریم کورٹ کی طرف سے فری ہینڈ ملا ہے تو پھر زرداری اور فریال سمیت 20سے زائد شخصیات کے خلاف دوبارہ انکوائری شروع کردی گئی ہے ۔ اسٹیٹ بینک کو اسیکنڈل میں ملوث ایک بینک کی7 ارب روپے کی زرضمانت بھی منجمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم عدالت کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جعلی بینک اکائونٹس اور ان کے ذریعے ہونے والی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے پاناما لیکس کیس کی طرز پر جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں مالیاتی ماہرین بھی شامل ہوں۔

بین الاقوامی سطح پر اس کیس کے حوالے سے پاکستان کو مزید شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، اور جو پاکستان پہلے ہی گرے لسٹ میں شامل ہے اسے یہ لوگ مزید بلیک لسٹ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ حقیقت میں ’’کچھ لوگ‘‘ہی ملک کے اصل مالک ہیں۔ یہی’’کچھ لوگ‘‘ ہیں جنہوں نے جنت نظیر ملک کو عوام کے لیے جہنم بنایا ہوا ہے۔

یہی ’’کچھ لوگ‘‘ ہیں جو سوئس بینکوں میں پڑے اربوں ڈالر پاکستان سے منتقل کرتے رہے ہیں۔ جو آف شور کمپنیاں بناتے رہے اور ٹیکس چوری کرتے رہے ہیں۔ لندن کے پوش ایریا میں عوام کے پیسوں سے فلیٹ خریدتے رہے ہیں۔ جن کے کاروبار دبئی سے امریکا اور امریکا سے برطانیہ و بھارت تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی ’’کچھ لوگ‘‘ ہیںجو رائو انوار، عزیر بلوچ اور چھوٹوگینگ جیسے لوگوں کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وقت آنے پر اُن کی درگت بھی بنوا دیتے ہیں۔ بقول شاعر

کردار ہی کی بات ہے وگرنہ عارفؔ
قد میں تو سایہ بھی انساں سے بڑا ہوتا ہے

لیکن یہ فراڈ اب دور تک چلتا دکھائی نہیں دیتا۔یہ ضمیروں کی منڈیاں لگائیں، انسانوں کو گھوڑے بنائیں تو ٹھیک ہے۔یہ سیاسی مافیاز کی طرح اوپریٹ کریں، یہ ٹھیک ہے۔یہ اسٹیٹ بینک سے لے کر ایک چھوٹے نجی بینک تک کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کریں تو ٹھیک اور اگر ان کو سزا ملے تو یہ لوگ ’’ٹھوکنے‘‘ کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ ہر قانون، اصول، قاعدے، ضابطے کی دھجیاں اڑا کر ہر رول’’ریلیکس‘‘ کردیں تو درست ہے۔یہ اداروں کو گھن کی طرح چاٹ جائیں وہ صحیح ہے۔یہ سرکاری ملازموں کو ذاتی ملازم بنالیں تو حق ہے۔اپنی سیکیورٹی کے نام ایک ارب روپے سالانہ خرچ کریں وہ جائز ہے۔
اشتہارات



ان کے سرے محل سے پارک لین تک سب کچھ پاکیزہ، عوام کی کچی آبادیاں ناپاک تجاوزات۔ یہ ’’کچھ لوگ‘‘ اپنے ہی آئین کے ساتھ کھلواڑ کریں تو درست، کوئی ا ور ان کے ننگے چٹے جرائم کے سامنے بند باندھنا چاہے تو وہ باطل۔ یہی وہ ’’کچھ لوگ‘‘ ہیں جنہوں نے کروڑوں انسانوں کو جاہل اور بدحال بنا کر یرغمال رکھا ہوا ہے اور انھیں دکھا کر قرضے بھی اینٹھتے ہیں۔ یہی وہ ’’کچھ لوگ‘‘ ہیں جن کے ’’پانامے‘‘ بھی پاک، جن کی جمہوریت بھی پاک، چھانگے مانگے بھی پاک، سوئٹزر لینڈ کے اکائونٹس بھی پاک، ان کے کمیشن ، کک بیک، ٹھیکے بھی پاک، ان کی منی لانڈرنگ بھی پاک، مڈل ایسٹ کے محلات بھی پاک ہیں۔ باقی سب ناپاک، صرف یہی’’پاکستان‘‘ ہیں۔یہی وہ ’’کچھ لوگ‘‘ہیں کہ دامن نچوڑ دیں تو بقول شاعر فرشتے وضو کریں۔

رہی بات زرداری کی تو پیپلز پارٹی و ن لیگ تو پہلے ہی منی لانڈرنگ کے چیمپئن ہیں اعلیٰ قیادت تو اس میں ملوث ہے ہی ان کے کڑچھے چمچے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے باز نہیں رہتے۔ چند برس قبل سندھ کے سابق وزیر شرجیل میمن سے اربوں روپے برآمد ہوئے۔ یہ خبر بھی پڑھنے کو ملی کہ سندھ کے ساحلی علاقوں سے لانچوں میں روپے بھر کر دوبئی بھیجے جا رہے تھے۔ ایک ماڈل ایان علی لاکھوں ڈالر بیرون ملک لے جاتے ہوئے پکڑی گئی۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے غیر معمولی دلچسپی لی۔ سابق وزیر قانون فاروق نائیک اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ ایان علی کے وکیل بنے۔

ایان علی کے سہولت کار کے طور پر ایک سابق وفاقی وزیر کا نام لیا جاتا رہا۔ یہ مقدمہ حکمران طبقات کی ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا۔ بعد میں مقدمہ کے تفتیشی افیسر کا قتل ہو گیا۔ ایان علی ضمانت پر ہے اور یہ مقدمہ ابھی تک نامعلوم وجوہات کی بنا پر انتہائی سست رفتار سے چلایا جا رہا ہے۔ منی لانڈرنگ کا ایک مشہور معاملہ ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف تھا۔ لندن پولیس نے ایک قانونی معاملے میں جب ایم کیو ایم کے بانی کے مکان پر چھاپہ مارا تو بھاری رقم برآمد ہوئی۔

بتایا گیا کہ یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ان کے گھر پہنچی تھی۔ اس معاملے میں کئی سال مقدمہ چلا،6 افراد کو گرفتار کیا گیا، 28 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ایک سو گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے اور 9 مقامات کی تلاشی لی گئی۔ پاکستان نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو اس سلسلے میں ٹھوس ثبوت فراہم کیے۔2016ء میں برطانیہ نے اس مقدمے کو ختم کر دیا۔

بہرکیف آج تک کسی سیاسی جماعت کے سربراہ یا اس کے قریبی شخص کے خلاف ہمارے ادارے تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ سیاسی جماعتوں کو معلوم ہے کہ ان کے اکثر رہنما بیرون ملک رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے مالیاتی ریکارڈ میں ہیر پھیر کرتے رہتے ہیں۔ بیرون ملک اپنی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے معمول کے بینکنگ طریقہ کار کو استعمال کرنے کے بجائے خفیہ اور غیر قانونی تسلیم کیے جانے والے ذرایع سے قومی دولت بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی نظام اگر ایسے سیاستدانوں کو مسترد کر دے جن کے کاروبار اور اثاثے دوسرے ملکوں میں ہیںتو یقینی طور پر منی لانڈرنگ کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔ منی لانڈرنگ پوری دنیا میں تسلیم شدہ جرم ہے۔

پاکستان بھی ایسے بین الاقوامی کنونشنوں کا حصے دار ہے جو منی لانڈرنگ کے خلاف مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں قانون کی بالادستی کو چیلنج کرنے والے سیاستدان اپنے عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے اسے سیاسی انتقام کا نام دے کر اداروں کو دبائو میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کل احتساب سب کا ہو رہا ہے۔ مشرف کو بھی بچوں سمیت طلب کر لیا گیا ہے۔ متعدد سیاستدانوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اللہ کرے یہ احتساب کسی ملاوٹ کے بغیر ہو۔ اور ہر کیس کا ایون فیلڈ ریفرنس کی طرز پر فیصلہ بھی آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں