اس صدی کا طویل ترین چاند گرہن کہاں کہاں دیکھا جا سکے گا؟

جمعے کو دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ چاند گرہن کا نظارہ کر سکیں گے اور یہ کوئی معمولی چاند گرہن نہیں ہو گا۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ یہ 21ویں صدی کا سب سے طویل ترین چاند گرہن ہو گا۔

ناسا کے بعقول اگر آپ خوش قسمت ہیں تو ایک گھنٹہ 43 منٹ تک چاند گرہن کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

مکمل چاند گرہن میں زمین، سورج اور چاند اپنے مدار میں رہتے ہوئے سیدھی لکیر میں آ جاتے ہیں اور چاند، سورج سے زمین کے مخالف جانب آ جاتا ہے۔

جوں جوں پورا چاند ہمارے سیارے کے سائے میں چلا جاتا ہے، اس کی روشنی ڈرامائی طور پر کم ہوتی جاتی ہے لیکن زمین کی فضا سے گزرنے والی سورج کی روشنی کے باعث یہ نظر آتا رہتا ہے۔

مکمل چاند گرہن کے دوران چاند تانبے کے رنگ کا نظر آئے گا جس کی وجہ سے اس کا نام ‘بلڈ مون’ بھی پڑ گیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی فضا نیلگوں روشنی کو سرخ کی نسبت زیادہ طاقت سے بکھیرتی ہے جبکہ اس بار فضا کو نیلے کے بجائے تانبے کے رنگ کی روشنی بکھیرنا ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ چاند کی سطح تک پہنچنے والی روشنی نیلی نہیں بلکہ تانبے کے رنگ کی دکھائی دے گی۔

27 جولائی جمعے کو چاند گرہن کا نظارہ یورپ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، وسطیٰ ایشیا اور آسٹریلیا کے زیادہ تر حصوں میں دکھائی دے گا۔

چاند گرہن کو دیکھنے کے لیے آپ کو ٹیلی سکوپ کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ کے پاس دوربین ہو تو زیادہ اچھا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر آپ نے چاند گرہن دیکھنے کے مقام کا انتخاب کر لیا ہے تو چاند کو گرہن لگنے کے نظارے کو گرینیچ کے معیاری کے وقت کے مطابق آٹھ بج کر 21 منٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں