نوازشریف، عمران خان اور نیا پاکستان

نوازشریف نے الیکشن جیت لیا لیکن اس جیت نے انہیں اپنی زندگی کی مشکل ترین آزمائش کی طرف دھکیل دیا ہے۔ مخالفین اپنے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجا کر نوازشریف کو الیکشن جیتنے پر مبارکبادیں دے رہے ہیں اور سرگوشیوں میں ہمیں کہہ رہے ہیں دیکھتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ اور بم دھماکے شیر کو کھاتے ہیں یا شیر انہیں کھاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی اور صاف صاف کہا ہے کہ صرف چھ ماہ کے بعد عوام کو ہماری یاد آئے گی۔ شاہ جی کو اتنی جلدی ایسی بری بری باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ لوڈشیڈنگ اور بم دھماکے ایک سیاسی جماعت کا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اگر سب سیاسی جماعتیں مل کر ہمیں لوڈشیڈنگ اور بم دھماکوں سے نجات دلا دیں تو ہمارے باقی مسائل بھی خود بخود حل ہو جائیں گے۔ الیکشن 2013ء کے انتخابی نتائج پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گیارہ مئی کو 4 کروڑ 64 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے گئے۔ اگر یہ سب ووٹ اصلی تھے تو تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو سوچنا چاہئے کہ پاکستانی مسلمانوں کی اتنی بڑی اکثریت جمہوریت کو کفر کیوں نہیں سمجھتی؟ کیا وہ 4 کروڑ 62 لاکھ مسلمانوں کو کافر قرار دیکر قتل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ 48 لاکھ ووٹ حاصل کئے ہیں اور تحریک انصاف نے 76 لاکھ ووٹ حاصل کئے۔ یہ دونوں جماعتیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہیں۔ اکثریتی جماعتیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کررہی ہیں تو باقی جماعتوں کو بھی نتیجہ خیز مذاکرات کی حمایت کرنی چاہئے لیکن مذاکرات کی خواہش کو سیاسی قیادت کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ طالبان بھلے جمہوریت کو کفر قرار دیتے رہیں لیکن انہیں پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہوئے ایک جمہوری حکومت سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ فی الحال ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہئے کہ نئے وزیراعظم نوازشریف کی سوچ اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سوچ میں کتنا فرق ہے؟ جمہوری حکومت جو فیصلہ کریگی جنرل کیانی اس فیصلے پر عمل درآمد کے پابند ہیں اور خدانحواستہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو پھر جمہوری حکومت کے پاس طالبان کے ساتھ اسی زبان میں بات کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ ہوگا جس زبان میں وہ کئی سالوں سے نہتے پاکستانیوں کو اپنا پیغام دے رہے ہیں۔

2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو 2008ء کی نسبت 80 لاکھ ووٹ زیادہ ملے جبکہ پیپلز پارٹی کو 98 لاکھ کم ووٹ ملے۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کے ووٹ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ تھے جو 2013ء میں 68 لاکھ رہ گئے۔ مسلم لیگ (ن) کو چاروں صوبوں سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں ملی ہیں اور یہ ایک قومی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہوگئی۔ غور کیا جائے تو مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ تینوں جماعتیں پرانے چہروں سے بھری ہوئی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کو زیادہ نقصان اس لئے ہوا کیونکہ یہ جماعت لوڈشیڈنگ کو کم نہ کرسکی۔ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ عدلیہ اور میڈیا نے ہمیں سانس ہی نہیں لینے دیا اور پیپلز پارٹی کے وزیر عدالتوں کے چکر لگاتے رہے۔ لوڈشیڈنگ پر توجہ کیسے دیتے؟ حیرت ہے کہ این آر او عمل درآمد کیس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سوئس حکومت کو ایک خط لکھنے سے انکار کرتے رہے اور نااہل ہو گئے۔ نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے یہ خط لکھنے میں کوئی دیر نہ لگائی اورہمیں آج تک سمجھ نہ آئی کہ پیپلز پارٹی بلاوجہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کیوں کرتی رہی؟ بہرحال عوام نے جمہوریت کے ذریعہ پیپلز پارٹی سے انتقام لیا اور نوازشریف کو اس انتقام سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی والے ہمیشہ یہ سمجھتے رہے کہ تحریک انصاف دراصل مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک توڑے گی لیکن اس حقیقت سے بے خبر رہی کہ مسلم لیگ (ن) اس کا اپنا ووٹ بنک کھینچ رہی تھی۔ 2013ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے پرانے حامیوں کی بڑی اکثریت نے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کو ووٹ دیئے۔ الیکشن سے کچھ دن پہلے جیو نیوز پر کیپٹیل ٹاک میں گیلپ پاکستان کے اعجاز شفیع گیلانی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اکثریتی پارٹی بنے گی، پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر آئے گی اور سندھ میں حکومت بنائے گی تحریک انصاف تیسرے نمبر پر آئے گی اور خیبر پختونخوا میں اکثریت حاصل کریگی۔ انتخابات کے نتائج نے انہیں درست ثابت کردیا کیونکہ قومی اسمبلی کی نشستوں کے اعتبار سے پیپلز پارٹی کا دوسرا اور تحریک انصاف کا تیسرا نمبر ہے لیکن جب گیلانی صاحب نے یہ باتیں کیپٹیل ٹاک میں کیں تو سوشل میڈیا پر تحریک انصاف والوں نے ناصرف ان کے خلاف بلکہ اس ناچیز کے خلاف بھی ایک ہنگامہ برپا کردیا۔
اشتہار



عمران خان نے مجھے فون کر کے کہا کہ گیلپ والے جھوٹ بولتے ہیں آئی آر اے کا سروے زیادہ سچا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی مقبولیت برابر برابر تھی۔ اگلے دن ڈاکٹر شیریں مزاری صاحبہ اپنی پسند کے سروے کے ساتھ کیپٹیل ٹاک میں آئیں لیکن جب میں نے برطانوی جریدے اکانومسٹ کے سروے کا ذکر کیا تو تحریک انصاف والے ناراض ہوگئے کیونکہ اکانومسٹ نے نوازشریف کو وزیراعظم بنا دیا تھا۔ یہ پہلا الیکشن تھا جو صرف پاکستان کے گلی محلوں اور جلسہ گاہوں تک نہیں بلکہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی پھیلا ہوا تھا۔ 7 مئی کو عمران خان لاہور میں زخمی ہوگئے تو میں نے 8 مئی کی شام شوکت خانم ہسپتال لاہور سے لائیو پروگرام کیا جس میں عمران خان کی بہن علیمہ خانم کے علاوہ تحریک انصاف کے دیگر رہنما شریک تھے۔ اس پروگرام پر مسلم لیگ (ن) کے حامی سیخ پا ہوئے کیونکہ حاضرین وزیراعظم عمران خان کے نعرے لگا رہے تھے۔ 9 مئی انتخابی مہم کا آخری دن تھا۔ اس روز کیپٹیل ٹاک میں نوازشریف کا انٹرویو نشر ہوا تو فیس بک اور ٹوئٹر پر تحریک انصاف والوں نے اپنی گالیوں کے بلے سے مجھے خوب پھینٹا لگایا۔ 10 مئی کو جیو الیکشن سیل کی ٹرانسمیشن میں ایک ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین جلوہ افروز ہوئیں انہوں نے عمران خان کی تصویر والا اسکارف پہن رکھا تھا۔ انہیں بلانے کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ عمران خان کی حمایت کس قسم کا طبقہ کررہا ہے لیکن ہمارے پرانے دوست اسحاق ڈار ناراض ہوگئے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو میرے خلاف خط لکھ دیا تاہم کسی بھی مرحلے پر مسلم لیگ (ن) والوں نے سوشل میڈیا پر ہماری چیرپھاڑ نہیں کی۔ اس دوران مجھے کچھ خیر خواہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف والے ایک طرف تو گالی گلوچ کرتے ہیں دوسری طرف میرے نام سے فیس بک اور ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر نوازشریف اور الطاف حسین کے خلاف پراپیگنڈہ کررہے ہیں۔ الطاف حسین کے خلاف کسی کو پراپیگنڈہ کرنے کی ضرورت نہیں ایم کیو ایم کو ان کے سوا کوئی دوسرا ختم نہیں کرسکتا لیکن میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حامد میر کے نام سے میری کوئی فیس بک نہیں ہے۔ میں صرف facebook.com/capitaltalk کا ذمہ دار ہوں جسے سوا تین لاکھ سے زائد لوگ فالو کررہے ہیں اور میں صرف ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ استعمال کرتا ہوں جس کا ایڈریس @hamidmirgeo ہے۔ باقی سب جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیاست اور میڈیا سے جھوٹ ختم کرنے کی ہمت دے۔ آخر میں صرف یہ گزارش کروں گا کہ ہم سب کو مل جل کر واقعی ایک نیا پاکستان بنانے کی ضرورت ہے، نیا پاکستان جھوٹے الزامات اور گالیوں سے نہیں بنے گا۔ نئے پاکستان کے عملبردار اور کچھ کریں نہ کریں کم از کم سوشل میڈیا پر ہی خود کو ایک مہذب نیا پاکستان بن کر دکھا دیں تو بہت اچھا ہوگا۔

جاوید چوہدری کالم

اپنا تبصرہ بھیجیں