پرویز مشرف غداری کیس: پراسیکیوٹر اکرم شیخ مستعفی

اسلام آباد: پرویز مشرف غداری کیس کے وکیل استغاثہ اکرم شیخ مستعفی ہوگئے۔

پرویز مشرف غداری کیس میں پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا استعفیٰ وزارت داخلہ کو موصول ہوگیا ہے۔ انہوں نے ذاتی وجوہات کی وجہ سے کیس سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ وزارت داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو پراسیکیوٹر کے استعفیٰ سے آگاہ کردیا ہے۔ نئی حکومت نئے پراسیکیوٹر کا تقرر کرے گی۔ اکرم شیخ کو ن لیگ کی حکومت نے کیس میں استغاثہ کی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت 20 اگست کو ہوگی۔ آئین کے تحت عدالت عالیہ کی سربراہی میں قائم بینچ پر مشتمل خصوصی عدالت کیس کی سماعت کرے گی۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد یاور علی کی سربراہی میں قائم بینچ میں بلوچستان ہائی کورٹ کی سینئر ترین جج جسٹس طاہرہ صفدر اور سندھ ہائی کورٹ جسٹس نذر اکبر بھی شامل ہیں۔

سابق صدر و آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے آئین معطل کردیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013 میں برسراقتدار آنے کے بعد پرویز مشرف پر مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالت میں درخواست دائر کی۔ پرویز مشرف کے خلاف ماورائے آئین اقدامات کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی فوجی آمر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ ہے تاہم کئی برس گزر جانے کے باوجود اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں