Orya-Maqbool-Jan

عمران خان۔ یکساں نظامِ تعلیم کا نفاذ

دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں سے لے کر آج کے جدید ترین ترقی یافتہ تہذیبی خدوخال کا مطالعہ کیا جائے تو معاشروں کے عروج کی داستانیں ہمیشہ علم کی روشنائی سے تحریر ہوئیں ہیں۔ کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جس نے اپنی جہالت پر اکتفا کر لیا ہو، علم کے دروازے اپنے پر بند کر لیے ہوں اور ترقی کی ہو۔ فاتحانہ پیش قدمی بھی کبھی مستحکم نہ ہوسکی، اگر اس کے ہمرکاب ان کی علمی ترقی موجود نہ تھی۔ چین، مصر، بابل، ایران، یونان، روم کی قدیم تہذیبیں ہوں، قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کی لاکھوں مربع میل پر پھیلی حکمرانی ہو یا گزشتہ دو صدیوں میں یورپ و امریکہ کا عروج، سب کا سب علم کی اساس پر کھڑا ہے۔ دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ،اس لئے کہ تاریخ مرتب ہونے کا فن اتنا ہی پرانا ہے، ورنہ انسان تو اس دھرتی پر لاکھوں سال سے آباد ہے، اس پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک قوم ایسی نہیں جس نے علم کے حصول کے لیے جدوجہد نہ کی ہو اور ترقی کی ہو اور نہ ہی کوئی ایک قوم ایسی ہے جس سے کسی دوسرے کی زبان میں علم حاصل کیا اور ترقی کی ہو۔ علم کا حصول صرف کتابی دنیا تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک سسٹم کو وجود میں لاتا ہے جس کے سانچے میں ڈھل کر ایک ’’تہذیبی انسان‘‘ برآمد ہوتا ہے تو لفظ ’’تعلیم و تربیت‘‘استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں کے مجموعے کو ’’نظامِ تعلیم‘‘ کہتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں اب تک تقریباً تئیس نظام ہائے تعلیم کا سراغ ملتا ہے۔ ہر قوم نے اپنے افراد کو ایک ’’تہذیبی انسان‘‘ بنانے کے لیے تعلیم و تربیت کے مختلف ادارے بنائے، طریقے ترتیب دیے اور رنگ ڈھنگ سیکھے اور سکھائے۔ آج کا جدید نظامِ تعلیم ایک وسیع دنیا ہے۔ یوں تو یہ قدیم نظام ہائے تعلیم کی طرح پہلے دن سے بچے کی انگلی پکڑ کر سکھانا شروع کرتا ہے اور مرتے دم تک اس اہم ذمہ داری کو نبھاتا رہتا ہے، لیکن آج کے نظام تعلیم وتربیت میں بے شمار ایسی ذمہ داریاں جو گھر کے افراد اٹھاتے یا جو اساتذہ کے ذمہ ہوتی تھیں اس کے لیے کئی مربوط ادارے قائم کر دیئے ہیں۔ مثلا کہانیوں کے منصب پر بیٹھی بڑی بوڑھیوں کی جگہ کارٹون، اینیمیٹڈ فلم، کومک، ویڈیو گیم وغیرہ نے لے لی ہے اور کسی بھی بنیادی تعلیمی ادارے میں داخلے سے پہلے ہی بچے کی شخصیت ایک مخصوص نہج پر ترتیب پا چکی ہوتی ہے۔ بچے کا ذہن اپنی پیدائش کے وقت ایک ایسی خالی سکرین ہوتا ہے جس پر وقت اور ماحول نے اپنے نقش و نگار بنانے ہوئے ہیں۔ بارہ سال کی عمر تک اس سکرین پر بنائے گئے نقش نگار اس کا زندگی بھر کا مستقل حوالہ بن جاتے ہیں، وہ انہیں میں زندہ رہتا ہے، انہی کہ حوالے سے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور ایسی ہی خوبیوں خرابیوں کو اپنے دامن میں سمیٹے بوڑھا ہو جاتا ہے۔ قدیم زبانوں میں اس اسکرین پر رنگ بھرنے کا کام گھروں میں کہانیاں سنانے والی بوڑھی دادی، نانی اور سکول میں اساتذہ کیا کرتے تھے۔ وہ ان کہانیوں میں تعمیرِ کردار کی منزلیں طے کرواتے تھے۔ لیکن اب جدید دنیا نے بچوں کی تعمیرِ سیرت اور تعمیرِ کردار کی ذمہ داری بھی یونیورسل کر دی ہے۔ تمام کہانیاں، کارٹون، فلمیں اور کومکس وغیرہ ان کرداروں کے گرد گھومتے ہیں جو مغرب میں پلے بڑھے اور جوان ہوئے۔ سنڈریلا سے لے کر لٹل مرمڈ تک کرداروں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان کا لباس، کھانا، پینا، نشست و برخاست یہاں تک کہ تمام اخلاقیات بھی جدید مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہیں۔ اسی لیے ایک عام بچے کے ذہن کی اسکرین پر پہلے دن سے ان کہانیوں اور کرداروں کے رنگ پھیل جاتے ہیں اور ذہن کی وادیوں میں یہ کردار عمر بھر رقص کرتے رہتے ہیں۔ ساری زندگی انہی کہانیوں اور کرداروں کے حوالے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگر اس رنگین دنیا کو سکول میں رائج نظامِ تعلیم کا بھی ساتھ مل جائے تو پھر محب وطن بچے کا بھی رشتہ اپنی زمین سے متزلزل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم دنیا بھر سے سیلاب کی طرح آنے والے ان کارٹونوں، فلموں اور کہانیوں کو روک نہیں سکتے تھے لیکن ہم نے نظام تعلیم بھی ساتھ ہی برآمد کرلیا۔ یوں بچے کے ذہن پر نقش ایک اجنبی غیر ملکی ماحول کے ساتھ او لیول، اے لیول، نرسری اور مونٹیسری نے دینا شروع کر دیا۔ ایسے میں ایک بچہ جس نے اس ملک کے اس نظام تعلیم میں بارہ سال گزارے ہوں گے وہ ایک ایسی مرعوب شخصیت بن کر باہر نکلتا ہے جس کے سامنے دو ماحول ہوتے ہیں۔ ایک ماحول جس میں وہ رہتا ہے اسے ’’پاکستان‘‘ کہتے ہیں۔ جس کی اپنی روایات ہیں جبکہ ایک اس کی خوابوں کی دنیا ہے، اور وہ مغرب ہے جس کی کہانیاں اس نے پہلے دن سے پڑھیں اور فلموں میں دیکھی ہوتی ہیں۔ خواب ہمیشہ منزل کا راستہ دکھاتے ہیں، اسی لیے وہ اگر تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھی مغرب جاتا ہے تو وہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کا خوابوں کا ماحول اسے میسر آگیا۔ دنیا بھر میں قومیں تباہ ہوئیں، جنگوں نے ان کے پورے شہر کے شہر برباد کر دیے لیکن کوئی اپنے ملک اور علاقے کو چھوڑنے کے خواب نہیں دیکھتا تھا۔ جرمنی، فرانس، بیلجیئم، جاپان وغیرہ جنگِ عظیم دوم میں ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے لیکن ان تمام ممالک کی تعمیر نو اس کے عوام نے روکھی سوکھی کھا کر کی۔ وطن اور زمین سے محبت ایک پیدائشی جذبہ نہیں ہے، اسے ماحول اور تعلیم و تربیت کا نظام انسان میں آہستہ آہستہ پروان چڑھاتا ہے۔ پاکستان میں دہرے بلکہ تہرے نظام تعلیم کا المیہ اور تاریخ اتنی پرانی نہیں ہے۔ پاکستان کا وہ دور جسے دنیا ترقی کی علامت سمجھتی تھی اور دنیا کی ترقیاتی معاشیات کی نصابی کتب میں اس کو بحیثیت ایک ماڈل پڑھایا، اس دور میں یہاں دوہرا نصابِ تعلیم رائج نہ تھا۔ صرف چند ایک ادارے ایسے تھے جہاں مغربی نظامِ تعلیم کے تحت پڑھایا جاتا تھا۔ لیکن ان طلبہ میں بھی چند سو ایسے ہوں گے جنہیں او لیول وغیرہ میں امتحان کی اجازت دی جاتی تھی۔ اس دور کے تمام اعلیٰ افسران، ڈاکٹر، انجینئر، پلانر وغیرہ سب کے سب اسی نظام تعلیم سے پڑھے ہوتے تھے جس میں کالج کی سطح تک انگریزی صرف ایک مضمون کی طور پر پڑھائی جاتی تھی جبکہ باقی ایسے تمام مضامین اردو میں تھے جن میں تدریس ممکن تھی۔ سائنس مضامین کا معاملہ بھی الجھا ہوا تھا، لیکن زیادہ تر انگریزی میں تھے کیونکہ حکومتی سطح پر ان کے ترجمے کا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ ضیاء الحق کی آمریت نے جہاں اور بہت سے تحفے اس قوم کو دیئے، وہاں ایک تحفہ انگریزی میڈیم سکولوں کی بہتات اور انگلش نظام ہائے تعلیم کے اداروں کو پاکستان میں امتحان منعقد کرنے کی اجازت۔ 1978ء میں لاہور گلبرگ مین بلیوارڈ میں ایک سکول کھلا، لاہور شہر میں جس کسی کے گھر انگریز بیوی یا بہو تھی اس کو وہاں ملازم رکھا گیا تاکہ ماحول ذرا ’’انگریز انگریز‘‘ محسوس ہو۔ لیکن 1988 تک پورے ملک میں اس سکول اور اس کے ایک سکول سسٹم کی برانچیں پھیل چکی تھیں۔ انکی دیکھا دیکھی ہر گلی محلے میں کاروباری افراد کود پڑے، گھروں، بنگلوں، یہاں تک کہ دکانوں تک میں انگلش میڈیم سکول کھل گئے۔ ایسے سکول جن کا نام معیار سے کوئی رشتہ تھا اور نہ ہی بچوں کی تربیت سے۔ پورا ملک ایک پیسے بنانے والی فیکٹری میں تبدیل کر دیا گیا جس میں روپے چھن چھن کر سکول مالکان کی تجوریوں میں گرنے لگے۔ (جاری ہے)

کالم شئیرکرکے دوستوں تک پہنچائیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں