چیف جسٹس سے دو سو ارب ڈالرز کی اپیل

الیکشن کے دنوں میں لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے کمرے میں بیٹھے محمد مالک اور عامر متین کے ساتھ بات چھڑ گئی۔ محمد مالک نے میرا کالم ”دو سو ارب ڈالرز کی کہانی‘‘ پڑھا ہوا تھا‘وہ بار بار حیرانی میں سر ہلا رہا تھا۔ یار کوئی کیسے یہ کرسکتا ہے کہ دو سو ارب ڈالرز کی ڈیل کو خراب کرے‘ مالک نے کہا :ہم اس پر پروگرام کریں گے اور گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ سے بھی بات کریں گے کہ وہ اس پروگرام میں شریک ہوں۔ میں نے کہا: طارق باجوہ شریک نہیں ہوں گے‘ الٹا وہ آپ کو سفارش کرائیں گے کہ یہ پروگرام نہ کریں۔ مالک بولے: تمھیں کیسے پتا؟ میں نے کہا: خوشامد اور سیاسی لیڈروں کو خوش کر کے اعلیٰ عہدے پر پہنچنے والے افسر یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ رپورٹر کا سامنا کریں‘ جس کے پاس ثبوتوں کے انبار لگے ہوں۔ مالک کہنے لگے کہ تم نے اس پروگرام میں شریک ہونا ہے‘ کیوں کہ تمھارے پاس ان دو سو ارب ڈالرز کے لیے سوئس بینک سے معاہدے نہ ہونے کی پوری تفصیل ہے۔ میں نے کہا: مالک جی میں تو حاضر ہوجاوں گا لیکن گورنر اسٹیٹ بنک باجوہ نہیں آئے گا۔

وہی ہوا کہ جب مالک نے ٹی وی پروگرام کیا تو باجوہ صاحب کو فون کیا گیا‘ مالک نے کہا: آپ پروگرام میں آجائیں‘ بولے کہ وہ نہیں آئیں گے۔ وہ اپنا موقف کیا دیتے‘ اُلٹا محمد مالک کو قریبی لوگوں سے سفارشیں آنا شروع ہوگئیں۔ محمد مالک نے ان سفارشیوں کو بتایا کہ دو تین سو روپے کی بات ہو تو بندہ مان لیتا ہے کہ کیا فرق پڑتا ہے‘ خدا کا خوف کریں یہ دو سو ارب ڈالرز کی بات ہے۔ مان لیتے ہیں دو سو ارب ڈالرز نہ سہی‘ اگر سوئس بینکوں میں سے دس بارہ ارب ڈالرز بھی ہم ان پاکستانیوں سے واپس لے سکتے‘ جنھوں نے وہ پیسا وہاں رکھا ہوا ہے تو آج ہم آئی ایم ایف کی شرائط نہ مان رہے ہوتے۔

خیر ہم نے کبھی سرکاری بابوؤں سے یہ توقع تو نہیں رکھی کہ وہ اس ریاست اور عوام کے مفاد میں کام کریں گے‘ اگر چہ چند سر پھرے بیورو کریٹس اب بھی موجود ہیں جو اپنی نوکریاں رسک پر ڈال کر ڈٹ جاتے ہیں۔ تاہم ایف بی آر نے ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے جس میں سابق چیئرمین ایف بی آر اور موجودہ گورنر اسٹیٹ بنک طارق باجوہ کا بھونڈا دفاع کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ کہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہورہا تھا جس میں سوئس بنکوں سے دو سو ارب ڈالرز واپس آنے تھے یا سوئس حکام نے واپس کردینے کی یقین دہانی کرائی ہو۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ نہ دو سو ارب ڈالرز وہاں موجود تھے اور نہ ہی سوئس حکومت نے واپس کرنے کی ہامی بھری تھی۔
حیران ہوتا ہوں کس طرح کے لوگ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھ گئے ہیں۔کیا ان بابوؤں کا خیال ہے وہ بہت چالاک اور سمجھ دار ہیں اور وہ کسی کو بھی بے وقوف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ اور وہ جو لکھ کر بھیج دیں گے اسے من و عن مان لیا جائے گا؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ دو سو ارب ڈالرز کی بات طارق باجوہ نے اپنی سمری میں لکھ کر کابینہ کو بھیجی تھی‘ جس کی کاپی میرے پاس موجود ہے۔ سوئس حکام کے ساتھ معاہدے کے مذاکرات دو ہزار چودہ کے آخر میں ہوئے تھے اور سوئس حکام نے جنوری دو ہزار پندرہ تک اس معاہدے کو فائنل کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی‘ جس کے تحت سوئس بنکوں نے پاکستانی اکاونٹس ہولڈرز کے ڈیٹا تک رسائی دینی تھی۔ طارق باجوہ نے خود ٹیم بنا کر مذاکرات کے لیے بھیجی اور جب ٹیم لوٹی تو خود ہی اعتراض جڑ دیا کہ جونیئر افسران نے مذاکرات کیے تھے لہٰذا اس پرعمل کرنے کی ضرورت نہیں۔ طارق باجوہ خود مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات مان چکے ہیں کہ انھی نے وہ ٹیم بنائی تھی جس نے مذاکرات کیے‘ جب کہ سربراہی طارق باجوہ ہی نے کرنی تھی‘ لیکن آخری لمحے کسی اور کو بھیج دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ جونیئر افسران کی ٹیم باجوہ نے کیوں بھیجی اور ملک اور قوم کا اس پر پیسا اور وقت کیوں ضائع کیا؟میرے پاس تو یہ بھی انفارمیشن ہے کہ جو ٹیم سوئس حکام سے معاہدہ فائنل کر کے لوٹی تھی اور محض اس پر دست خط باقی تھے‘ اس میں شامل دو افسران کو باقاعدہ سزائیں دی گئیں کہ تمھیں کیوں جرات ہوئی کہ تم نے سوئس حکام سے پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالرز کے اکاونٹس تک رسائی کے معاہدے کی ہامی بھری۔ دونوں کا پہلے ایف بی آر سے تبادلہ کیا گیا اور بعد میں چارج شیٹ کر دیاگیا۔ کمال دیکھیں ایف بی آر کے دو سینئر افسران کو کہا گیا کہ وہ ان افسران کے خلاف انکوائری کریں‘ انکوائری افسران بھی کوئی قصور تلاش نہ کرسکے تو ان پر دباو ڈالا گیا کہ وہ اسحاق ڈار کی مرضی کی انکوائری رپورٹ دیں اور ٹیم پر ملبہ ڈالیں ۔ ان دو افسران کو داد دینی بنتی ہے کہ انھوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ بے شک ان کا تبادلہ کر دیا جائے‘ وہ دو سو ارب ڈالرز کے معاہدے پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔



یوں دو سال تک اس معاہدے کو روکا گیا‘ مقصد ایک ہی تھا کہ پاکستان کے سیاست دان‘ بیورو کریٹس یا کاروباری جن کا پیسا بنکوں میں پڑا تھا‘ وہ کہیں اور شفٹ کر سکیں۔ اب جو معاہدہ سوئس حکام کے ساتھ کیا گیا ہے اس کے مطابق پاکستان کو اس سال کے آخر سے صرف نئے بنک اکاونٹس کی تفصیل مل سکے گی۔ پرانے اکاونٹس کے بارے وہ بتانے کے پابند نہیں‘ یوں اسحاق ڈار نے طارق باجوہ کے ساتھ مل کر وہ مقصد پورا کیا جس کے لیے یہ ڈیل خراب کی گئی۔

اب سب کو پتا ہے کہ سوئس بینکوں میں پیسا نہیں رکھنا۔ ڈار اور باجوہ نے پاکستان کو جو نقصان پہنچانا تھا‘ پہنچا چکے۔ ڈار مفرور ہے‘ جب کہ اس کا لگایا ہوا گورنر اسٹیٹ بنک باجوہ ابھی تک عہدے پر قائم ہے اور اسکینڈل کی خبریں رکوانے کے لیے سفارشیں کرارہا ہے۔ ایف بی آر حکام فرماتے ہیں سوئس پیسے واپس آنے مشکل تھے‘ نہ ہی انھوں نے کوئی وعدہ کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب اسحاق ڈار اور طارق باجوہ نے معاہدہ ہونے ہی نہیں دیا تو پیسے کیسے آتے؟ اگر معاہدہ ہوتا تو آپ کو سوئس بنکوں کے پاکستانی کھاتے داروں تک رسائی دی جاتی‘ آپ ان پاکستانی کھاتے داروں کو براہ راست پکڑتے کہ کہاں سے اتنا پیسا آیا اور سوئس بنکوں میں جمع کروایا۔ پھر آپ اس خفیہ رقم پر تیس فی صد ٹیکس لگاتے اور تیس فی صد جرمانہ‘ یوں ساٹھ فی صد رقم آپ کو ملتی۔

ٹیکس ایشوز کے ماہر اور سپریم کورٹ کے وکیل ڈاکٹر اکرام الحق کئی بار لکھ اور بول چکے ہیں کہ آپ سوئس حکام سے معاہدے کے بعد براہ راست وہ ساٹھ فی صد ان کھاتا داروں کے اکاونٹس سے پاکستان ٹرانسفر کراسکتے تھے۔

جہاں تک بات ہے سوئس حکام کی‘ تو جناب وہ تیار تھے‘ آپ کی نیت خراب تھی‘ جن ملکوں کی نیت ٹھیک تھی‘ باقی کو چھوڑیں فلپائن نے سوئس بنکوں سے مارکوس کے 600 ملین ڈالرز واپس لیے‘ جب کہ سوئس حکومت نے مصر کے لیڈروں کے 570 ملین ڈالرز‘ تیونس کے 60 ملین ڈالرز‘ یوکرائن کے 70 ملین ڈالرز فریز کیے ہوئے ہیں‘ جب کہ سوئس بنک نائجیریا کو اس کے 321 ملیں ڈالرز واپس کررہا ہے‘ جو اس ملک کے صدر نے لوٹ کر وہاں رکھے ہوئے تھے۔

نائجیریا پہلے ہی امریکا میں ان کے سابق صدر کے فریز کیے گئے 480 ملین ڈالرز کے اثاثے واپس لینے کی کوشش کررہا ہے۔ سوئس حکام اس وقت تک اربوں ڈٖالرز دنیا کے مختلف ملکوں کو واپس کرچکے ہیں‘ جو اپنی عوام کو لوٹ کر وہاں جمع کروائے گئے تھے۔ ایف بی آر حکام کی اپنے سابق چیف طارق باجوہ کو بچانے کی کوششوں کے بعد آخری امید چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب ہی رہ جاتے ہیں۔ وہ اس اسکینڈل پر سو موٹو لیں‘ اچھی شہرت کے حامل سابق ٹیکس محتسب شعیب سڈل کو انکوائری افسر مقرر کریں اور ایک ماہ کا وقت دیں‘ سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

چیف جسٹس صاحب آپ ہی کو اس ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کی کوششوں کو ناکام بنانے والے اعلیٰ افسران کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سزا دلوانا ہوگی‘ چاہے آپ کو اپنی پرانی دوستیاں ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑیں۔ جب آپ نے اپنے داماد کو عدالت میں بلا لیا‘ تو باقی کون بچ جاتا ہے۔ انصاف کریں۔ انصاف!
(بشکریہ روزنامہ دُنیا)

کالم شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں