ریاست مدینہ نہ سہی قائداعظم کا پاکستان ہی دے دو

تبدیلی جرات، مستقل مزاجی اور خلوص نیت مانگتی ہے کیونکہ دہائیوں کے رائج نظام، روایات اور انداز کو بدلنا آسان کام نہیں ہوتا۔ تبدیلی کی خواہش صرف اس لیڈر کو زیب دیتی ہے جو بہادر، پرعزم اور مستحکم شخصیت کا مالک ہو ورنہ ہم نے اپنی آنکھوں سے پاکستان کی تاریخ میں کئی سیاستدان اور حکمران آتے جاتے دیکھے ہیں جو تبدیلی اور انقلاب کے وعدے پر ووٹ لے کر برسراقتدار آتے رہے اور پھر روایتی حکمران بن کر جاتے رہے۔ حکمرانوں کو سیکورٹی، بین الاقوامی خطرات، عہدے کے تقاضوں وغیرہ وغیرہ سے ڈرانے والے بہت ہوتے ہیں۔ چنانچہ جو حکمران ان خطرات سے سہم جائیں وہ تبدیلی یا روایت سے انحراف کا خیال ترک کردیتے ہیں اور جو بہادری سے ان کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں وہ کچھ نہ کچھ تبدیلی لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حکومت میں سادگی اور کفایت شعاری لائیں گے، خود وزیراعظم ہائوس میں نہیں رہیں گے، غیر ضروری پروٹوکول سے اجتناب کریں گے اور شان و شوکت کے دیرینہ کلچر کو بدلیں گے۔ ان وعدوں پر ووٹ لینے اور انتخابات میں سرخرو ہونے کے بعد یہ وعدے قومی امانت بن چکے ہیں اور نئے حکمرانوں کے لئے ان پر عمل لازمی ہو چکا ہے۔ ماضی میں جن حکمرانوں نے اپنے انتخابی وعدوں سے انحراف کیا وہ امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے اور ان کا معاملہ تاریخ کے سپرد ہو چکا ہے۔ عمران خان کے وزیراعظم ہائوس میں رہائش رکھنے کے انکار پر بہت سے کالم لکھے جا چکے ہیں اور کچھ تجزیہ نگاروں نے ایسے ایسے دلائل دیے ہیں کہ قاری ان کی حکومتی معاملات سے عدم واقفیت کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اول تو ان وعدوں پر ووٹ لینے کے بعد ان پر عمل نئے حکمرانوں پر فرض بن چکا ہے۔ دوم سمجھنے کی بات فقط اتنی سی ہے کہ لیڈر جو مثال قائم کرتا ہے اس کے اثرات ساری حکومتی مشینری پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس وقت وزیراعظم ہائوس کا خرچہ سوا ارب روپے سالانہ سے لے کر ڈیڑھ ارب روپے تک ہے اور اس میں تقریباً ساڑھے پانچ سو ملازمین وزیراعظم کی خدمت پر مامور ہیں۔ اگر عمران خان سادگی کی مثال بن کر یہ خرچہ چند کروڑ روپے تک لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو سمجھیں اس نے ایک وعدہ پورا کر دکھایا۔ حسن ظن ہمہ وقت منفی سوچ سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ حسن ظن رکھنے میں کیا حرج

اشتہار


ہے کہ عمران وزیراعظم ہائوس کی شان و شوکت، مغلیہ انداز حکمرانی، فضول خرچی اور وسائل کے زیاں پر قابو پائے گا اور سادگی کی مثال قائم کرے گا۔ یاد رکھئے قیادت کے ایسے فیصلے ایک ایسی علامت ہوتے ہیں جن کی پیروی وزراء، سرکاری افسران، گورنرز اور صوبائی وزرائے اعلیٰ پر بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ اگر نئی حکومت ایثار کر کے ایسا کلچر فروغ دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقین رکھئے کہ اس سے اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں جو تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں پر صرف کئے جاسکتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا انداز جس قدر شاہانہ رہا ہے اس کی مثال نہ امریکہ کے صدارتی طرز حکومت میں ملتی ہے نہ یورپی ممالک کی پارلیمانی جمہوریتوں میں۔ ریاست مدینہ کی پیروی تو ہمارے حکمرانوں کے بس کا روگ نہیں وہ اگر قائداعظم جیسی سادگی اور اصول پرستی ہی اپنا لیں تو تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔ گورنر جنرل ہائوس کے خرچ پر قائداعظم کڑی نگاہ رکھتے تھے، چند روپوں کی فضول خرچی کا بھی تصور موجود نہیں تھا، بقول اصفہانی قائداعظم راتوں کو غیر ضروری بتیاں خود بجھاتے تھے، اسٹاف اتنا کم کہ آج آپ اس کا تصور بھی نہ کرسکیں۔ کابینہ کی میٹنگ میں صرف سادہ چائے پیش کی جاتی تھی جب قائداعظم کہیں جاتے تو گورنر جنرل کی سرکاری کار کے پیچھے صرف ایک کار ہوتی تھی جس میں سیکورٹی آفیسر ہوتا تھا۔ نہ کوئی ہوٹر، نہ ہٹو بچو، نہ روٹ پر پولیس کی ڈیوٹی اور نہ ہی شان و شوکت کے لئے موٹر سائیکلوں اور کاروں کا کارواں۔ شاید آج کے دور میں سیکورٹی مسائل کے سبب اتنی سادگی ممکن نہ ہو لیکن ماضی کی مانند پچاس ساٹھ کاروں کا کارواں تو ختم کیا جاسکتا ہے اور فضول خرچی کو لگام دی جاسکتی ہے۔ غیر ضروری ملکی و بین الاقوامی دورے، چارٹرڈ جہاز، مہنگے ہوٹلوں میں قیام، لمبے چوڑے وفد، حکومتی وسائل پر شاپنگ وغیرہ کو سادگی کے سانچے میں ڈھال کر خزانے پر غیر ضروری بوجھ بہت کم کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان قائداعظم کے پاکستان کا وعدہ کرتے ہیں تو یاد رکھیں کہ قائداعظم کے پاکستان میں گورنر جنرل اور وزیراعظم ہائوس کا خرچہ اتنا کم تھا کہ انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ وزیراعظم ہائوس میں چینی کا ماہانہ کوٹہ مقرر تھا اور جب وہ کوٹہ ختم ہو جاتا تو وزیراعظم کے خاندان اور مہمانوں کو پھیکی چائے ملتی تھی۔ گورنر جنرل قائداعظم نے اپنی جمع پونجی ساری کی ساری وصیت کر کے قومی اداروں کو دے دی اور کچھ حصہ بہن اور بیٹی کے لئے مختص کردیا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنا دہلی والا قیمتی گھر حکومت پاکستان کو گفٹ کردیا اور جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے پاس گھر تھانہ چند ہزار سے زیادہ بینک بیلنس۔ تاریخ اٹھا کے دیکھ لو کہ تاریخ کے صفحات میں کس کا ’’مکان‘‘ او رمقام بلند ہے؟ ان لیڈروں کا جنہوں نے اربوں کے اثاثے بنائے یا ان قائدین کا جنہوں نے سب کچھ قوم پر نچھاور کردیا اور حکمرانی میں ایثار اور سادگی کی مثالیں قائم کیں۔ عمران خان قائداعظم کے پاکستان کی بات کرتے ہیں تو قائداعظم کی تقاریر پڑھ لیں۔ قائداعظم کے پاکستان میں فضول خرچی، شاہانہ شان و شوکت، اقربا پروری، سفارش، میرٹ اور اصول کی خلاف ورزی، بے ایمانی اور وقت کے ضیاع ، سیاسی خرید و فروخت اور دوست نوازی کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ قائداعظم کے پاکستان کی بنیاد قانون کی حکمرانی، انسانی مساوات، سادگی و کفایت شعاری، سماجی و معاشی عدل، آزادانہ خارجہ پالیسی، غیر سیاسی ایماندار بیورو کریسی، میرٹ اور منصفانہ اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ قائداعظم کے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نامی کسی شے کا عمل دخل نہیں تھا اور انہوں نے کوئٹہ اسٹاف کالج میں خطاب کے دوران فوجی افسران کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی تھی۔ اسی حوالے سے یہ لکھنا ضروری ہے کہ ہمارے حکومتی کلچر میں پابندی وقت کا اصول پامال ہو چکا ہے۔ وقت کا زیاں قومی جرم ہے لیکن بدقسمتی سے اسے پروان چڑھانے میں ہمارے قائدین نے اہم کردار سرانجام دیا ہے جو کبھی وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ مارچ 1948ء میں قائداعظم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تقریب میں وقت مقررہ پر پہنچے تو تقریب شروع ہوتے ہی دیکھا کہ اسٹیج پر ان کے ساتھ رکھی گئی وزیراعظم کی کرسی خالی پڑی ہے۔ انہوں نے وہ کرسی اٹھوا دی۔ وزیراعظم لیاقت علی تھوڑی سی تاخیر سے پہنچے تو حاضرین کے ساتھ کھڑے رہے۔ اس سے پابندی وقت کا ایسا پیغام پھیلا جس نے ساری حکومتی مشینری پر اثرات مرتب کئے۔ نیت نیک ہو، قوم کی خدمت اور ذاتی ایثار کا سچا جذبہ موجود ہو، قوت ارادی اور مستقل مزاجی کا وصف حاصل ہو تو حالات کا رخ موڑنا اور تبدیلی لانا ہرگز مشکل نہیں کیونکہ تبدیلی کو عوامی حمایت حاصل ہے اور عوامی حمایت ہی حکمران کی اصلی طاقت ہوتی ہے۔

عمران خان ریاست مدینہ نہ سہی تم ہمیں قائداعظم کا پاکستان ہی دے دو تو تاریخ تمہارا ذکر سنہرے الفاظ میں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں