اصل امتحان اپوزیشن کا ہے

javed-ch

آپ دنیا جہاں کے لباس دیکھ لیجیے آپ کو ان میں آزار بند ضرور ملے گا‘ یہ آزار بند ناڑے‘ پٹکے اور رسی کی شکل میں ہوگا یا پھر یہ بیلٹ یا پیٹی کوٹ کی صورت میں ہو گا لیکن یہ ہوگا ضرور‘یہ بیلٹ یا یہ آزاربندکیوں ضروری ہے؟

ہمیں اس کیوں کے جواب کے لیے ماضی میں جانا ہوگا‘ انسان قدیم دور سے کپڑے کو بدن کے ساتھ چپکانا چاہتا تھا‘کیوں؟ کیونکہ جب تک لباس بدن کا حصہ نہیں بنتا تھا انسان اس وقت تک کام نہیں کر سکتا تھا اور کام کے بغیرزندگی کا پہیہ نہیں چل سکتا تھا چنانچہ یہ وہ ضرورت تھی جس کی وجہ سے انسان دنیا میں دو قسم کے لباس بناتا ہے‘ کام کے کپڑے اور آرام کا لباس‘ ان دونوں کے درمیان ایک تیسرا لباس یعنی پارٹی ڈریس بھی ہوتا ہے‘ یہ تقریبات کے کپڑے ہوتے ہیں‘ یہ بھی پوری دنیا میں موجود ہوتے ہیں۔

آپ دنیا بھر میں کام کے لباس کو دیکھ لیجیے‘ یہ آپ کو ہمیشہ جسم کے ساتھ چپکا ملے گاتا کہ کارکن آسانی کے ساتھ کام کر سکیں اور یہ بیلٹ‘ آزار بند یا زپ کے بغیر ممکن نہیں ہوتا‘ قدیم فارسی زبان میں لباس کے پٹکے‘ آزار بند یا بیلٹ کو رشتہ کہا جاتا تھا‘یہ لفظ رشتہ آزار بند کے معنوں میں استعمال ہوتا ہوتا عزیزوں کے معنی میں آ گیا‘ ہم جس طرح آزار بند کے بغیر لباس کو جسم کے ساتھ نہیں باندھ سکتے بالکل اسی طرح ہم رشتوں اور رشتے داروں کے بغیر ننگے ہوتے ہیں‘ رشتے دار لباس کی طرح ہمارے عیب ڈھانپتے ہیں‘ یہ ہمیں چھپا کر ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔

ہم اگر جمہوریت کو بھی بدن سمجھ لیں تو پھر حکومت اس بدن کا لباس ہو گی اور اپوزیشن آزار بند یا پھر رشتہ چنانچہ اگر اپوزیشن ڈھیلی ہو گی تو حکومت نرم ہو جائے گی‘ اگر اپوزیشن سخت ہوگی تو حکومت تنگ ہو جائے گی اور اگر اپوزیشن مثبت ہو گی تو حکومت بھی پرفارم کرے گی‘ یہ بھی دھڑا دھڑ ڈیلیور کرے گی۔عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف جب سے منتخب ہوئی ہے ملک میں اس وقت سے بے شمار خدشات گردش کر رہے ہیں‘ ملکی اور غیر ملکی تجزیہ کاروں کا خیال ہے پاکستان تحریک انصاف قوم کی توقعات کو آسمان تک لے گئی ہے‘ توقعات کی یہ فہرست پوری کرنا شاید اب ممکن نہ ہو‘ حکومت شاید اب ایک کروڑ نوکریاں پیدا نہ کر سکے‘ یہ 50 لاکھ گھر بھی نہ بنا سکے‘ یہ آٹھ ہزار ارب روپے کا ٹیکس بھی جمع نہ کر سکے۔
اشتہار



یہ ملک میں کرپشن‘ اقرباء پروری اور مہنگائی بھی کنٹرول نہ کر سکے‘ یہ شاید میرٹ اور ’’رائیٹ پرسن فار دی رائیٹ جاب‘‘ کے اصول کی مکمل پابندی بھی نہ کر سکے‘ یہ شاید سرمایہ کاری‘ صنعت کاری‘ سیاحت اور تجارت بھی نہ بڑھا سکے اور یہ شاید پولیس اور عدل کے نظام کو بھی فوری طور پر یورپین اسٹینڈرڈ پر نہ لا سکے‘یہ خدشات اپنی جگہ لیکن میں سمجھتا ہوں حکومت بنانا اور حکومت کرنا اب پاکستان تحریک انصاف کا حق ہے‘ ہمیں اسے پورا پورا موقع دینا چاہیے‘ یہ اگر اپنے ایجنڈے اور منشور کا پچاس فیصد بھی پورا کر جاتے ہیں تو ملک واقعی تبدیل ہو جائے گا‘ یہ ٹریک پر آ جائے گا۔

کیا آنے والے دن عمران خان کا امتحان ہیں؟ جی ہاں 2018ء کے چار مہینے عمران خان کی ایمانداری‘ معاملہ فہمی‘وژن اور ٹیم اسپرٹ کا امتحان ثابت ہوں گے‘ یہ قوم کو اس گلے سڑے نظام سے کتنا جلد چھٹکارا دلاتے ہیں‘ یہ آنے والے چار ماہ میں طے ہو جائے گا‘ یہ کابینہ میں کس کو کیا پوزیشن دیتے ہیں اور یہ پنجاب اور کے پی کے میں کس قسم کی حکومت بناتے ہیں‘ یہ فیصلے حکومت کی سمت طے کر دیں گے‘ یہ حقیقت اپنی جگہ لیکن میں دل سے سمجھتا ہوں مستقبل کے چار مہینے عمران خان کا کم اور اپوزیشن کا زیادہ امتحان ثابت ہوں گے۔

یہ ملک اب ترقی کرے گا یا پھر یہ اسی طرح پسماندگی کی دلدل میں لت پت رہے گا‘ یہ فیصلہ اب حکومت کے بجائے اپوزیشن کرے گی‘ آپ نے پچھلے چار برسوں میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں کے منہ سے بار بار سنا ہوگا ہمیں اپوزیشن (عمران خان) نے کام نہیں کرنے دیا‘ ہم جون 2013ء میں حکومت میں آئے اور 2014ء کے شروع میں دھرنے شروع ہو گئے‘ ہمارا گھیراؤ کر لیا گیا‘ ہمیں اگر اپوزیشن کی طرف سے سپورٹ مل جاتی تو ہم وقت سے پہلے بجلی پوری کر لیتے‘ ہم پی آئی اے‘ اسٹیل مل اور ریلوے کا پہیہ چلا دیتے‘ اورنج لائین ٹرین مکمل ہو جاتی‘ موٹر ویز بن جاتیں‘ سی پیک میں پیش رفت ہو جاتی‘ ڈیم مکمل ہو جاتے اور غربت کم ہو جاتی وغیرہ وغیرہ‘ میاں برادران پورے چار سال عمران خان کو ترقی میں رکاوٹ اور اسپیڈ بریکر ثابت کرتے رہے‘ آج وقت انھیں عمران خان اور عمران خان کو ان کی جگہ لے آیا ہے۔

کل کی حکومت آج اپوزیشن اور کل کی عوامی اپوزیشن آج حکومت ہے‘ اپوزیشن کی 8پارٹیاں جمہوریت کا رشتہ (آزار بند) بن چکی ہیں‘ یہ رشتہ اگر مثبت رہا‘ اپوزیشن نے اگر حکومت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کیں‘ یہ اگر کنٹینر لے کر سڑکوں پر نہ آئے‘ یہ اگر ریڈ زون میں خیمہ زن نہ ہوئے‘ یہ اگر پارلیمنٹ‘ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے راستے میں نہ بیٹھے‘ یہ اگر لاک ڈاون نہ کرتے رہے‘ یہ اگر جوڈیشل کمیشن نہ بنواتے رہے اور یہ اگر عمران خان کو بار بار عدالتوں‘ نیب اور جے آئی ٹی میں نہ گھسیٹتے رہے تو یہ ملک ترقی کی پٹڑی پر آ جائے گا‘ یہ چل پڑے گا لیکن اگر انھوں نے بھی وہی کام شروع کر دیا جو عمران خان چار سال کرتے رہے تو پھر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا‘ یہ ملک سال دو سال بعد حکمرانی کے قابل نہیں رہے گا چنانچہ میرا خیال ہے عمران خان کی حکومت اصل میں اپوزیشن کا امتحان ثابت ہو گی۔

اپوزیشن جتنی مثبت‘ اچھی اور قانونی ہو گی عمران خان پر اتنا دباؤ بڑھتا رہے گا اور ملک آگے بڑھتا رہے گا لہٰذامیری اپوزیشن سے درخواست ہے آپ ماضی میں عمران خان سے جن جن معاملات میں تعاون مانگتے رہے اور عمران خان انکار کرتے رہے آپ آج انھیں ان تمام معاملات میں تعاون کی پیش کش کر دیں‘آپ گیند عمران خان کی کورٹ میں پھینک دیں‘ میاں نواز شریف عمران خان کے ساتھ بیس سال پر مشتمل میثاق کرنا چاہتے تھے‘ یہ چاہتے تھے حکومت اور اپوزیشن مل کر معیشت کو بیس سال کے لیے لاک کر دیں‘ حکومتیں آتی اور جاتی رہیں لیکن معاشی پالیسیاں جاری رہیں‘ سرمایہ کاری‘ انفرا اسٹرکچر اور ترقی کا پہیہ چلتا رہے‘ آج اپوزیشن کو چاہیے یہ عمران خان کو میثاق معیشت کی پیش کش کر دے‘ حکومت اور اپوزیشن اکٹھے بیٹھیں‘ معاشی پالیسی بنائیں اور اسے بیس سال کے لیے لاک کر دیں۔
اشتہار



میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری نیب کے موجودہ قوانین تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر عمران خان نہیں مان رہے تھے‘ آپ اب حکومت کو احتساب کے غیر سیاسی اور غیر جانبدارانہ نظام کی پیش کش کر دیں‘ آپ حکومت کے ساتھ بیٹھیں اور فیصلہ کریں آیندہ بے گناہی کی ذمے داری ملزم پر عائد نہیں ہوگی‘ نیب اس کا ذمے دار ہو گا‘ یہ جب تک کسی شخص کے خلاف تفتیش مکمل نہیں کر لے گا‘ یہ جب تک ناقابل تردید ثبوت اکٹھے نہیں کرلے گا یہ اس وقت تک ملزم کو گرفتار نہیں کرے گا‘ ملک میں احتساب کے 22 ادارے ہیں‘ اپوزیشن حکومت کے ساتھ مل کر ان تمام اداروں کو اکٹھا کر دے‘ عمران خان الیکشن کمیشن کی ہیت بدلنا چاہتے تھے‘ یہ بائیو میٹرک سسٹم بھی لانا چاہتے تھے اور یہ ووٹروں کو سہولتیں بھی دینا چاہتے تھے لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی نہیں مانی‘ آپ آج عمران خان کی تمام تجاویز کو الیکشن ریفارمز 2017ء کا حصہ بنا دیں‘ یہ نظام بہتر ہو جائے گا اور 2023ء کے الیکشنز میں دھاندلی دھاندلی کا شور نہیں ہو گا‘ میاں برادران انفرااسٹرکچر کو ملک کی ترقی سمجھتے ہیں اور عمران خان ہیومن ریسورس کو اہمیت دیتے ہیں۔

اپوزیشن حکومت کو پیشکش کر دے آئیے ہم مل کر ترقی کے ’’پیرا میٹرز‘‘ طے کرتے ہیں‘ ملک کی کوئی جماعت آیندہ تعلیم‘ صحت‘ صاف پانی اور ماحولیات پر سیاست نہیں کر یگی‘ حکومت ایجوکیشن ریفارمز لے کر آئے‘ یہ چار کے بجائے ایک نظام تعلیم وضع کرے‘ یہ ملک کے ہر ڈویژن میں ایک بڑا اور جدید اسپتال بنائے‘ یہ پورے ملک کو صاف پانی دے اوریہ ماحولیات کے لیے کام کرے‘ دس ارب درخت لگائے‘ تین ہزار جھیلیں بنائے اور دس بڑے ڈیم تعمیر کرے‘ اپوزیشن اسمبلی کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پرحکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔

میاں برادران اور آصف علی زرداری دونوں انصاف کے نظام سے مطمئن نہیں ہیں‘ یہ مقدمات کی ڈیڈ لائین طے کرنا چاہتے تھے‘ یہ جیل ریفارمز بھی کرنا چاہتے تھے اور یہ آئین سے 62 اور 63 بھی ختم کرنا چاہتے تھے‘ اپوزیشن ان کے لیے بھی حکومت کو تعاون کی پیشکش کرے‘ آپ 62 اور 63 بھی ختم کرا دیں اور ججوں کو چھ ماہ کے اندر اندر فیصلے کا پابند بھی بنا دیں اور آپ ٹیکس کا دائرہ بھی بڑھانا چاہتے تھے‘ ترقیاتی کاموں کے راستے میں سرکاری رکاوٹیں بھی ختم کرنا چاہتے تھے‘ آپ فارن پالیسی کو بھی آزاد دیکھنا چاہتے تھے اور آپ افواج پاکستان کے بجٹ کو بھی پارلیمنٹ میں لانا چاہتے تھے‘ آپ عمران خان کو پیشکش کریں یہ ان میں سے جو ریفارمز کرنا چاہیں اپوزیشن انھیں پوری سپورٹ دے گی۔

میرا خیال ہے اگر اپوزیشن مثبت ثابت ہوئی‘ یہ اگر عمران خان کو تعاون دیتی رہی تو وہ تمام آئینی کام ہو جائیں گے جو پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے ادوار میں نہیں کر سکیں یوں ملک کی سمت بھی درست ہو جائے گی‘ ملک کی دونوں جماعتوں کو مستقبل میں فائدہ بھی ہوگا اور عمران خان کے پاس بھی یہ جواز نہیں بچے گا کہ اپوزیشن نے مجھے کام نہیں کرنے دیا ورنہ میں ملک کو واقعی بدل دیتا‘ میرا خیال ہے اپوزیشن کو کم از کم عمران خان کو یہ کہنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔

اپوزیشن کو حکومت کویہ آفر کر دینی چاہیے آپ جہاں جہاں تیر مارنا چاہتے ہیں آپ ماریں‘ ہمارے تیر بھی حاضر ہیں‘ عمران خان کامیاب ہو گئے توکریڈٹ اپوزیشن کو مل جائے گا‘ یہ جمہوریت کا رشتہ ثابت ہو جائے گی اور اگر یہ ناکام ہو گئے تو پھر اپوزیشن سچی ثابت ہو جائے گی‘ یہ ثابت ہو جائے گا عمران خان کے دعوے اور مینڈیٹ دونوں جھوٹے تھے لیکن یہ جھوٹ ثابت ہونے سے پہلے عمران خان کو پورا پورا موقع ملنا چاہیے‘ اپوزیشن کو اسے سپورٹ دینی چاہیے‘ یہ اس کا حق ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں