نیویارک ٹائمز کا مضمون، پینس اور پومپیو کی صفائیاں

صدر ٹرمپ کے خلاف نیویارک ٹائمز میں ان کی اپنی انتظامیہ کے کسی اہلکار کی طرف سے گمنام مضمون کی اشاعت کے ایک دن بعد نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو سمیت کئی اعلی اہلکار اپنی اپنی صفائی پیش کرتے نظر آ رہے ہیں۔

نائب صدر مائیک پینس نے اپنے وضاحتی بیان میں اس گمنام مضمون سے لاتعلقی ظاہر کی ہے جس میں صدر ٹرمپ کے طرز حکمرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ مذکورہ مضمون کو ایک بغاوت قرار دے چکے ہیں۔

جنوبی مشرقی کے دورے پر ان دنوں نئی دہلی میں موجود امریکی وزیر خارجہ نے بھی خود کو اس مضمون سے دُور کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایسا کوئی مضمون تحریر نہیں کیا۔

اس مضمون میں جس کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ وائٹ ہاؤس کے کسی اہلکار نے تحریر کیا ہے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے ہی نامزدہ کردہ اہلکاروں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

اس مضمون کی اشاعت کے بعد اس کے گمنام مصنف کے بارے میں شدید قیاس آرائیاں جاری ہیں مائیک پینس اور مائیک پومپیو نے اپنے وضاحتی بیان اسی پس منظر میں جاری کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ خط تحریر کرنے والے کو بزدل اور نیو یارک ٹائمز کو جعلی اخبار قرار دیا۔

نائب صدر کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی چیف آف سٹاف جارن ایگن نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ نائب صدر اپنے مضامین پر اپنا نام تحریر کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کو اس پر شرم آنی چاہیے اور اسی طرح اس شخص کو بھی جس نے یہ بزدلانہ اور غیر منطقی بیان تحریر کیا ہے۔

یہ افواہ کہ نائب صدر نے یہ مضمون تحریر کیا ہو گا اس وجہ سے پھیلی کہ اس میں ایک اصطلاح ’لوڈسٹار‘ جس کے معنی ہیں رہنمائی کرنے والا ستارہ، استعمال کی گئی ہے اور یہ اصطلاح نائب صدر اکثر استعمال کرتے ہیں۔

اس مضمون کا مصنف رپبلکن سینیٹر جان مکین کے لیے لوڈ سٹار کی اصطلاح استعمال کرتا ہے کیونکہ ان کے بارے میں مصنف کا خیال ہے کہ انھوں نے قومی بحث اور عوامی زندگی میں مثبت کردار ادا کیا۔

اس مضمون کے بارے میں جس کا عنوان تھا کہ میں اس ٹرمپ انتظامیہ میں مزاحمت کا حصہ ہوں، اخبار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے کسی اعلی اہلکار نے تحریر کیا تھا۔

اخبار کے مطابق مضمون تحریر کرنے والے نے اس کا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی اور اخبار کے قارئین کی آگاہی کے لیے یہ مضمون شائع کرنا ضروری تھا۔

اس مضمون میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں شامل کئی اعلی اہلکار بڑی شد و مد سے یہ کوششیں کر رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے ایجنڈے اور ان کے منفی میلان کو ذائل کر سکیں۔

گو کہ مصنف کا کہنا ہے کہ وہ لوگ موجودہ انتظامیہ کے مقاصد کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب ہوئی ہے باوجود ایک ایسے صدر کہ جو خواہشات کا طابع، اخلاقیات سے عاری، غیر سنجیدہ ہے اور جس کی منہ زور خواہشات کو امریکہ کے مفاد میں قابو رکھنا ضروری ہے۔

اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے غصے سے بھری ایک ٹوئٹ میں صرف ایک لفظ ’غداری‘ لکھا۔ اس کے بعد ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ریاست کے اندر ریاست، بایاں بازو اور جھوٹا نیوز میڈیا بوکھلا گئے ہیں۔ اور نہیں جانتے کہ انھیں کیا کرنا ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں امریکہ کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت کی طرف اشارہ کیا۔

امریکی خفیہ ادارے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن جو صدر ٹرمپ کے شدید ناقد ہیں انھوں نے اس مضمون کو کھلی حکم عدولی قرار دیا گو کہ انھوں نے کہا کہ یہ مضمون قوم سے وفاداری میں تحریر کیا گیا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اہم نصف مدتی انتخابات سے قبل یہ رپبلکن انتظامیہ کو صدر سے الگ دکھانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں