یورپ کی ایک ہزار سالہ تاریخ کی پہلی پسپائی

Orya-Maqbool-Jan

آج دنیا بھر میں رائج سیکولر اور لبرل نظام تعلیم نے گذشتہ تین صدیوں سے بظاہر ایسے غیر متعصب اور آزاد خیال تاریخ دان اور مورخ پیدا کیے جنہوں نے اسلام اور رسول اکرم ؐکے بارے میں بے شمار تحقیق کی اور ان کی کتابوں سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہو اور وہ سید الانبیاء ﷺ کی ذات سے بہت متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مصنفین کی کتابوں کا نہ صرف تمام عالم اسلام میں ترجمہ ہوا بلکہ آج تک ان لوگوں کی کتابوں کے اقتباسات کو اسلام کی حقانیت اور رسول خدا ﷺ کی شخصیت کی ہمہ گیریت کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ وہ بد بخت تھے جنہوں نے اس آزاد خیالی اور عدم تعصب کے لبادے میں ایک خطرناک زہر اپنی تحریروں میں اسلام ،قرآن اور رسول مقبول ﷺکی ذات کے بارے میں دانستہ طور پر گھولا ہے۔ ان مصنفین کی اکثریت گذشتہ دو صدیوں کی پیداوار ہے. یہ آکسفورڈ، کیمبرج، سکول آف اورینٹل سٹڈیز لندن اور ایسی ہی دیگر یونیورسٹیوں کے سیکولر ماحول میں بیٹھ کر صرف اور صرف اسلام اور رسول اکرمؐ کی ذات کے خلاف اسلامی تحقیق کے خوبصورت لبادے میں کتابیں لکھتے تھے۔ تعصب کا یہ عالم ہے کہ یہ لوگ ہندو مذہب کو تو اسکی رنگینی کی وجہ سے داد دیتے، بدھ کو انسان دوستی پر، یہودیوں کو دو ہزار سالہ مظلومیت اور نسل کشی پر اور عیسائیت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر سراہتے نظر آتے ہیں لیکن اسلام کویہ ایک خونخوار اور ظالم مذہب بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان جدید مستشرقین میں اولین نام مار گولیتھ (Margoliouth) کا ہے۔ لندن میں پیدا ہونے والا یہ شخص 1889ء کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں آیا اور مرنے سے تین سال پہلے یعنی 1937ء تک وہیں رہا۔ یہ عربی، عبرانی اور ترکی زبان کا ماہر تھا اور آکسفورڈ میں عربی کا پروفیسر تھا۔ اس نے سب پہلے ’’قصیدہ بردہ‘‘ پر مقالہ لکھا جو تحقیق کے اعلی معیار پر تھا اور مسلمانوں کی نظروں میں بہت مقبول ہوا۔اسی شخص کا ایک اور ہم عصر سر ولیم میور (William Muir) تھا۔یہ برطانوی ہند کی سول سروس میں 1865ء میں خارجہ سیکرٹری بھی رہا اور آج کے صوبہ خیبر پختونخواہ کا اس وقت گورنر بھی۔ یہ دونوں مصنفین آج کے جدید یورپ کے مفکرین کے نزدیک اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کا بنیادی ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں کی تحریروں میں جھوٹ اور غلط تاریخی روایات سے اسلام اور سرکار دو عالم ﷺ کی شخصیت کو مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ ولیم میور کی کتاب “The Life of Mohammed” 1857 ء میں منظر عام پر آئی اور مارگولیتھ کی کتاب “Mohammed and the Rise of Islam” 1905ء میں آئی۔ ولیم میور کی کتاب پر سرسیداحمدخان نے جس رد عمل کا اظہار کیا وہ غیرت ایمانی کا نمونہ تھا۔ انہوں نے اس کے جواب میں اپنی کتاب ’’خطبات احمدیہ‘‘ تحریر کی اور اسے لندن سے چھپوایا۔ ولیم میور کی کتاب اور مارگولیتھ کی کتاب دونوں یہ ثابت کرنے کے لیے لکھی گئیں کہ اسلام دراصل ایک چربہ مذہب ہے، اور رسول اکرم ﷺکی ذات (نعوذ باللہ) ایک اعلی سطح کے شاعر اور غیر مرئی طاقتوں کے زیراثر خیالات رکھنے والی تھی اور ان کے قبائلی مزاج نے انہیں جنگجو بنادیا تھا۔ میں وہ تحریر یہاں نہیں لکھ سکتا کہ اس کے لئے دل پر بہت جبر کرنا پڑے گا اور دوسرا یہ بھی کہ شاید آج کے جدید دور میں بھی ایسی تحریر کوئی مسلمان برداشت نہ کرسکے۔ ان دونوں مصنفین نے مسلمانوں کے اصل ماخذ قرآن، حدیث اور تاریخ کے الفاظ تبدیل کرکے اپنی کتابوں میں لکھے اور ایک منصوبے کے تحت ان خیالات کو آگے بڑھایا جو ایک ہزار سال پہلے عیسائی چرچ کے زیر سایہ لکھی جانے والی کتب میں تحریر کیے گئے تھے۔ مارگولیتھ نے تو رسول اکرم ﷺکی ذات پر بہت جھوٹ بولے۔ یہ سب جھوٹ نہ کسی اسلامی تاریخ میں ملتا ہے اور نہ ہی احادیث میں۔ لیکن ان کی کتابوں میں ڈھٹائی سے بولا گیا اور آج پوری دنیا میں یہ کتابیں ماخذ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ مارگولیتھ کی کتاب کے جواب میں ایک عرب عالم ڈاکٹر مصطفی ہدارہ نے ایک طویل مقالہ تحریر کیا جو کتابی صورت میں شایع ہوا۔ لیکن آج آپ یورپ تو دور کی بات ہے، مسلم دنیا کی یونیورسٹیوں کالجوں اور عام لائبریریوں میں جا کر دیکھ لیں آپ کو سرسید کی ’’خطبات احمدیہ‘‘یا مصطفی ہدارہ کی کتاب کہیں نہیں ملے گی۔ جبکہ ان یورپی مفکرین کی کتابیں نظرآئیں گی۔ ان کے بعد ایک طویل فہرست ان تمام مغربی یورپی مصنفین کی ہے جنہوں نے اسلام اور رسول اکرم ؐ کے مداحین بن کر ایسی کتب لکھیں جن میں سرکار دو عالم کی شخصیت کو غیرمحسوس طریقے سے مجروح کرنے، اور ان کا درجہ ایک پیغمبر سے گرا کر مصلح، سیاسی حکمران اور مفکر کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح انہوں نے اسلام کو بھی ایک الہامی دین کی بجائے فتوحات کرنے اور دوسری قوموں پر غلبہ حاصل کرنے اور جنگیں جیتنے کے لیے بنایا گیا ایک مذہب بتایا اور قرآن پاک کو (نعوذباللہ) فوجی حکمت عملی کی ایک خود ساختہ کتاب کے طور پر پیش کیا۔ ان لوگوں میں منٹگمری واٹ، میکس ویبر ، ٹائن بی، ڈاکٹر سپرنگر، گولڈ زہیر اور ول ڈیورانٹ جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب آج دنیا کی ہر یونیورسٹی میں پڑھائے جاتے ہیں اور اسلام اور اسلامی تاریخ پر اتھارٹی مانے جاتے ہیں۔
اشتہار


یورپ اور مغرب تو خیر ان سے متاثر ہے کہ ان بیچاروں کے پاس ان کی زبانوں میں اسلام رسول اکرمؐ پر اصل مآخذ کی بنیاد پر لکھی جانے والی کتابوں کا فقدان ہے۔ لیکن پاکستان کا جعلی مفکر، اور محدود علمی استعداد والا دانشور، ادیب اور آج کے دور کا مقبول کالم نگار، جب اسلام پر بحث کرتا ہے تو قرآن و حدیث یا مسلمانوں کی تاریخی کتابوں کے حوالوں کی بجائے انہی لوگوں کے حوالے دیتا ہے اور پھر دلیل یہ دیتا ہے کہ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنوں کو بھی نہیں بخشا، اس لئے یہ زیادہ قابل اعتبار ہیں۔ دنیا کی کسی یونیورسٹی میں چلے جائیں، نصاب کی کوئی کتاب اٹھا لیں، آپکو اگر اسلام، قرآن اور پیغمبر خدا کے بارے میں پڑھنا ہے تو یہی مستشرقین نظر آئیں گے۔ ان تمام لکھاریوں نے مل کر یورپ اور مسلمان سیکولر طبقے کا ایک مزاج بنا دیا ہے۔ ایسا مزاج جس میں ان کو رسول اکرمﷺ کی توہین آزادی اظہار لگتی ہے ،یا پھر ایک معمول کا واقعہ نظر آتی ہے۔ گذشتہ چودہ سو سال سے یہ لوگ ایسا کچھ کرتے آئے ہیں اور مسلمان غیرت ایمانی کا ثبوت دے کر ان کے ناپاک وجود سے دھرتی کو پاک کرتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے اسی رویے کو انہوں نے شدت پسندی سے تعبیر کیا اور اپنے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکٹھا کر لیا۔ لیکن ایسا کیا ہوا کہ یورپ نے پہلی دفعہ پسپائی اختیار کی۔ خاکوں کا مقابلہ روک دیا۔ دراصل وہ اپنے ہی بنائے ہوئے ایک قانون کے جال میں آگئے ہیں اور انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر اس قانون کے اطلاق کو توہین رسالت کے معاملے میں عالمی سطح پر معاملہ اٹھایا گیا تو ان کے لیے مسئلہ بن جائے گا۔ گذشتہ ستر سالوں میں ایک معاملے پر بہت زور دیا گیا ہے جسے نفرت کی زبان “Hate speech” کہتے ہیں۔ اسی قانون کی بنیاد پر یہودیوں نے ہولوکاسٹ پر بات کرنے پر پابندی لگوائی اور ہٹلر کی تعریف پر پابندی لگوائی ، اور نفرت کی زبان کے قانون کے اطلاق کا یہ عالم ہے کہ اگر ایک خاص تعداد سوشل میڈیا کی کسی ویب سائٹ یا پیج کے بارے میں یہ رپورٹ کرے کہ اس سے نفرت پھیلتی ہے تو اس کی انتظامیہ اس پر پابندی لگا دیتی ہے ۔ مسلمان اس وقت دنیا میں ایک ارب پچاس کروڑ ہیں۔ اگر ان تمام ستاون ممالک کی حکومتیں اقوام متحدہ کے زیر سایہ بننے والی اسلامی کانفرنس تنظیم میں یہ معاملہ اٹھاتی ہیں اور ایک ارب پچاس کروڑ مسلمانوں کی جانب سے اسے نفرت کی زبان “Hate speech” قرار دے دیا جاتاہے اور یہ معاملہ اقوام متحدہ تک بھی پہنچ جاتا ہے تو اقوام متحدہ کے نزدیک نفرت کی زبان کی بس ایک ہی تعریف ہے کہ وہ ایک کثیر تعداد کے دلوں کو دکھائے یا ان کے جذبات مجروح کرے، اور ایک ارب پچاس کروڑ کم تعداد نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کی طرف سے پسپائی اختیار کی گئی۔ لیکن پاکستان کی حکومت اور عمران خان کو یہ معاملہ اپنے وعدے کے مطابق اسلامی کانفرنس تنظیم اور اقوام متحدہ میں لے جانا چاہیے۔ اور اقوام متحدہ سے اسے اسکی نفرت کی زبان “Hate speech”کے طور پر “زمرہ بندی” (classify) کروانا چاہیے، اگر ایسا ہو گیا تو پھر یہ پسپائی ایک مستقل پسپائی بن جائے گی ورنہ یہ لوگ پھر سر اٹھا لیں گے۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں