کیا جنرل شجاع پاشا نے میمو گیٹ اسکینڈل پر آصف علی زرداری سے معافی مانگی؟

یکم اور دو مئی 2011ء کی درمیانی رات ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور اس حملے میں امریکی فوج کا پاکستان کی حدود میں آ کر کامیابی سے کارروائی کر کے نکل جانا پاکستان کی ریاست بالخصوص فوج کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوبامہ نے پاکستانی وقت کے مطابق قریب صبح آٹھ بجے اسامہ کی موت کا علان کیا ۔ اس کے فوراً بعد اس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی طرف سے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا گیا لیکن پھر پاکستان میں پراسرار خاموشی چھا گئی۔

پاکستان ستمبر 2001 سے دعویٰ کر رہا تھا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں ہے۔ اب ناقابل تردید شواہد سامنے آ گئے تھے کہ پاکستانی ریاست کا دعویٰ غلط تھا۔ دوسری طرف عوامی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ پاکستانی حدود میں تقریباً 150 میل گھس آنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں کو روکا کیوں نہ جا سکا۔ اس سے دو ہی نتائج برآمد ہوتے تھے۔ یا تو پاکستانی سلامتی کے ادارے اس معاملے میں شریک تھے یا ان سے پیشہ وارانہ غفلت ہوئی تھی۔

مئی 2011ء کی صورت حال بڑی حد تک جولائی 1999ء سے ملتی جلتی تھی جب کارگل کی مہم جوئی ناکام ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اس ناکامی کا ملبہ اس وقت کی منتخب حکومت اور اس کے وزیر اعظم پر ڈالتے ہوئے اکتوبر 1999ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

مئی 2011ء کے واقعات کا ردعمل بھی اکتوبر میں سامنے آنا شروع ہوا۔ 10 اکتوبر 2011 کو برطانوی اخبار فناناشل ٹائمز میں مشتبہ کردار منصور اعجاز کا مضمون شائع ہوا جس میں صاحب تحریر نے الزام لگایا تھا کہ امریکہ میں مقیم ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے ان (منصور اعجاز) کی وساطت سے امریکی چیئرمیں آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیک مولن کو ایک میمورنڈم بھجوایا تھا جس میں امریکی حکومت سے درخواست کی گئی تھی کہ پاکستانی فوج کی ممکنہ بغاوت کے خلاف حکومت پاکستان کا ساتھ دیا جائے۔ مائیک مولن نے موقف اختیار کیا کہ انہیں ایسا میمورنڈم موسول ہوا تھا لیکن اس پر پاکستان حکومت کی مہر نہیں تھی اور نہ ہی منصور اعجاز نے حسین حقانی کا کوئی ذکر کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس میمورنڈم پر کوئی توجہ نہیں دی۔

بعد ازاں انکشاف ہوا کہ 21 اکتوبر کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل شجاع پاشا نے لندن کا دورہ کرکے منصور اعجاز سے ملاقات کی تھی اور اس معاملے کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔ 30 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور کے مینار پاکستان میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا۔ اس جلسے کو پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی ابھار کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

اس جلسے میں کئے گئے خطاب کے دوران عمران خان کا اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ انہوں نے منصور اعجاز کے مضمون سے حوالے سے میمو گیٹ کی اصطلاح استعمال کی اور امریکہ میں مقیم اعلیٰ پاکستانی عہدے دار کے طور پر پاکستانی سفیر حسین حقانی کا نام لیا۔

19 نومبر کو مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف نے کہا کہ امریکی فوج کےسابق سربراہ مائیک مولن کو لکھے جانے والے خفیہ خط کی تحقیقات نہ کروائی گئیں تو ان کی جماعت اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ 20 نومبر کو حسین حقانی واپس پاکستان طلب کیا گیا۔ 23 نومبر کو انہوں نے سفیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اسی روز مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت عظمیٰ میں رٹ پیٹیشن دائر کی کہ اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے اس درخواست میں دستور کی شق 184 (3) کا سہارا لیا تھا۔ ٹھیک چھ برس بعد سپریم کورٹ نے دستور کی اسی شق کو استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے برطرف کیا۔ اس دوران حسین حقانی کے ملک چھوڑنے پر پابندی بھی عائد کی گئی۔ سپریم کورٹ میں عاصمہ جہانگیر نے حسین حقانی کا دفاع کیا۔

اس دوران حکومت اور فوج کے درمیان معاملات اس قدر بگڑ گئے کہ آصف زرداری کو دسمبر کے اوائل میں عارضی طور پر دبئی منتقل ہونا پڑا۔ سرکاری طور پر ان کی علالت کو ملک سے غیرحاضری کی وجہ بیان کیا گیا لیکن ملک میں عام طور پر لوگ جانتے تھے کہ زرداری صاحب کیوں ملک سے باہر ہیں۔ صدر آصف علی زرداری 19 دسمبر 2011 کو پاکستان واپس آئے۔ 25 دسمبر 2011 کو وزیر اعظم گیلانی دو مختلف مواقع پر زوردار تقاریر کیں جن میں سخت سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پارلیمنٹ میں وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ریاست کے اندر ریاست برداشت نہیں کی جائے گی۔ بالآخر 30 جنوری 2012 کو عدالت نے حسین حقانی کے بیرون ملک سفر پر پابندی اٹھا لی اور وہ فوراً امریکا روانہ ہوگئے۔ 20 نومبر سے 30 جنوری تک وہ عملی طور پر پاکستانی کی طاقتور اسٹئبلشنٹ کے قیدی تھے۔

26 اپریل 2012 کو سپریم کورٹ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے الزام میں وزارت عظمیٰ کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ اس دوران مارچ 2012 میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر شجاع پاشا بھی ریٹائر ہو چکے تھے۔ اکتوبر 2011 سے مارچ 2012 تک پورا ملک میمو گیٹ میں الجھا رہا جب کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے اور حکومت عملی طور پر مفلوج ہو چکی تھی۔

سیاسی صف بندی سے واضح تھا کہ پیپلز پارٹی کے انتخاب جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔ جب کہ اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں ہو گا۔ مسلم لیگ 2013 میں انتخاب جیت گئی لیکن ایک طویل اعصابی کشمکش کے بعد 2018 میں اسے اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔
اشتہار



مئی 2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی شکست نوشتہ دیوار تھی۔ ستمبر 2013ء میں عہدہ صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد آصف علی زرداری نے 4 اپریل 2014 کو لاڑکانہ میں بھٹو صاحب کی برسی کے موقع پر سینئر صحافیوں کو بتایا کہ جنرل (ر) شجاع پاشا نے انہیں معافی کا پیغام بھجواتے ہوئے معذرت کی ہے کہ انہوں نے اپنے کمانڈر جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ہدایت پر میموگیٹ اسکینڈل کا تانا بانا بنا تھا۔ ملک کے ممتاز صحافی حامد میر نے 8 اپریل 2014 کو ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ انکشاف کیا۔

28 جولائی کو 2017ء کو دستور کی شق 184 (3) کے تحت پانامہ اسکینڈل کی تحقیقات کے بعد نواز شریف کو بھی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد 27 مار چ 2018ء کو نواز شریف نے 2011 کے میمو گیٹ کے حوالے سے اپنی غلطی کا عتراف کوتے ہوئے کہا کہ انھیں اس وقت صدر زرداری کے مخالفین کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا۔ کیس کسی پر بھی بنائے جا سکتے ہیں بنتے رہے ہیں اور بن رہے ہیں۔

نواز شریف کے اعتراف کے چھ مہینے بعد حامد میر 5 ستمبر 2018 کو انکشاف کیا ہے کہ 2011 کے میمو گیٹ اسکینڈل میں جنرل کیانی، جنرل پاشا، چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ نواز شریف بھی سازش کا حصہ تھے۔ اگست 2018ء میں حکومت نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا ہے کہ قانونی طور پر حسین حقانی کو ملک میں واپس نہیں لایا جا سکتا۔ میمو گیٹ اسکینڈل سے پانامہ اسکینڈل تک کا دائرہ مکمل ہو چکا ہے۔

نواز شریف اور ان کے اہل خانہ جیل میں ہیں۔ آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے خلاف احتساب کا شکنجہ تنگ کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ امر واضح ہے کہ ان تنازعات کا حقیقی تعلق بدعنوانی یا دوسرے جرائم سے نہیں بلکہ یہ تمام واقعات پاکستان میں اقتدار اور اختیار کی بالادستی کی طویل کشمکش کا حصہ ہیں۔

بشکریہ: وجاہت مسعود

اپنا تبصرہ بھیجیں