دوسروں کی لڑائی سے کیسے نکلیں؟

جنرل ہیڈ کوارٹر ( جی ایچ کیو ) راولپنڈی میں یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ایک اہم بات کی ہے ۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جائے تو بحیثیت قوم ہم اپنا ایک نیاعہد شروع کر سکتے ہیں ، جس میں ہم زیادہ خود مختار ہوں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئندہ ہم دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے ۔ ان کا اشارہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی طرف تھا ، جس میں پاکستان نے الجھ کر اپنا بہت کچھ برباد کر دیا ہے اور آج اپنی بقاکے سوال سے دوچار ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے اس جنگ میں شمولیت کے مخالف تھے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی جنگ میں برے طریقے سے الجھ توگئے ہیں مگر اب اس سے کیسے نکل سکتے ہیں جبکہ ایک ایسا مخصوص مفاد پیدا ہو چکا ہے ، جوہمیں اس جنگ سے نکلنے بھی نہیں دیتا ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے ہمیں تاریخ کا جائزہ لینا ہو گا اور ان اسباب کا پتہ چلانا ہو گا ، جنہوں نے ہمیں دوسروں کی لڑائی میں الجھائے رکھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اسی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران ایک واقعہ کا بھی ذکر کیا کہ انہیں 1965ء میں وہ دن بھی یاد ہے ، جب انہوںنے اچانک فائرنگ کی آوازیں سنیں اور 12 سال کی عمر میں اپنے والد کی بندوق لے کر لڑنے کے لئے باہر آ گئے۔ یہ واقعہ ان اسباب کی نشاندہی کرتا ہے ، جو ہمیں دوسروں کی لڑائی میں الجھا گئے ۔ بنیادی سبب بھارتی جارحیت کا خدشہ تھا ۔ 1965 ء میں اس جارحیت کے کامیاب دفاع پر ہم ہر سال 6ستمبر کو یوم دفاع مناتے ہیں لیکن ہم نے سرحد پار کی جارحیت کے خلاف دفاع تو ہمیشہ کیا ہے ۔ سرحدوں کے اندر ہم پر جو جنگ مسلط کی گئی ہے ، اسکے نقصانات کا اندازہ ابھی تک ہم پوری طرح نہیں لگا سکے ۔

اشتہار


حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے فوری بعد ہی بھارتی جارحیت کے خوف سے ہم ابتدائی دنوں میں ہی سرحدوں کی لڑائی میں الجھ گئے اور ہم نے امریکہ پر نہ صرف انحصار کیا بلکہ اپنی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق خود مختار داخلہ اور خارجہ پالیسیاں بھی نہ بنا سکے ۔ امریکی جال میں ہم اس طرح پھنسے کہ ہمارے جس لیڈر نے بھی اس سے نکلنے کی کوشش کی ، اسے ’’ عبرت کی مثال ‘‘ بنا دیا گیا ۔ لیاقت علی خان کا امریکی کیمپ میں جانے کا فیصلہ درست نہیں تھا لیکن اب تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ کی بعض باتوں سے انکار ان کی شہادت کا سبب بنا ۔ اس کے بعد امریکی شکنجہ مضبوط ہوتا گیا ۔ مئی 1954 ءمیں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ’’ باہمی دفاعی تعاون ‘‘ کا پہلا معاہدہ کیا ۔ پھر اسی سال وہ ایک اور دفاعی معاہدے سیٹو (ساؤتھ ایسٹ ایشین ٹریٹی آرگنائزیشن ) کا رکن بنا ۔ اس معاہدے میں امریکہ، برطانیہ ، فرانس ، تھائی لینڈ ، فلپائن اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل تھے ۔ اگلے سال یعنی 1955ء میں پاکستان معاہدہ بغداد کاحصہ بنا ۔ یہ ایک اور دفاعی معاہدہ تھا ۔ اس معاہدے میں برطانیہ کیساتھ ساتھ ترکی ، ایران اورعراق بھی شامل تھے ۔ 1958ء میں عراق نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تو اسے سینٹو ( Cento ) یعنی سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن کا نام دیا گیا ۔ امریکہ اس معاہدے میں اگرچہ شامل نہیں تھا لیکن وہ اس معاہدے کا سب سے بڑا حامی اور محافظ تھا ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ 1959ء میں امریکہ نے پاکستان کیساتھ ایک اور دفاعی معاہدہ کیا ، جس کا مقصد سینٹو کے دفاعی مقاصد کو آگے بڑھانا تھا ۔ اس طرح پاکستان صرف 5سال میں امریکہ کیساتھ ایک نہیں بلکہ چار سیکو رٹی معاہدوں میں منسلک ہو گیا ۔ یہ ایشیا کا واحد ملک تھا ، جو بیک وقت سیٹو اور سینٹو کا رکن تھا ۔ اس عرصے میں پاکستان نے اگرچہ کسی بڑی لڑائی میں حصہ نہیں لیا لیکن وہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکی کیمپ ( جسے سرمایہ دارانہ یا سامراجی کیمپ کا نام دیا جاتا تھا ) کا اہم رکن بن گیا ۔ پاکستان کو اس زمانے میں امریکہ کا ’’ Most Allied Ally ) یعنی سب سے زیادہ قریبی اتحادی کہا جاتا تھا ۔ دراصل ہم اشتراکی اور غیر جانبدارانہ بلاکس کیخلاف ایک بڑی جنگ میں الجھ گئے تھے ۔ روس کی گرم پانیوں تک رسائی کو روکنے کی ذمہ داری ہمیں سونپی گئی ۔ پاکستان کو ایک جمہوری ملک کی بجائے سیکورٹی اسٹیٹ بنا دیاگیا ، جس کا بنیادی جوہر سیاسی اور جمہوری عمل کو روکنا تھا ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی لڑائی میں الجھنے کیخلاف عراق ، ترکی اور ایران میں انقلابات رونما ہوئے یا فوجی بغاوتیں ہوئیں اور 1960 اور 1980 ء کے عشروں کے درمیان وہ اس صورت حال سے نکل تو گئے لیکن وہ اب تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کی اور وہ ’’ عبرت کی مثال ‘‘ بن گئے ۔ پھر وہ مرحلہ شروع ہو گیا ، جس میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی جنگ میں براہ راست شامل ہونے کے سوا پاکستان کے پاس کوئی راستہ نہیںبچا ۔ پہلے افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف جنگ میں پاکستان کو جھونکا گیا ۔ اسکے لئےخصوصی طور پر پاکستان میںضیاء الحق کو اقتدار میں لانے کی راہ ہموار کی گئی ۔ یہ جنگ 1985ء میں افغانستان میں تو ختم ہو گئی اور اس نے سرد جنگ کے عہد کا بھی خاتمہ کرکے دنیا پر نیا امریکی ضابطہ ( نیو ورلڈ آرڈر ) نافذ کیا لیکن پاکستان کے اندر یہ جنگ ختم نہ ہوئی اور دہشت گردی کی صورت میں جاری رہی ۔ اسی دہشت گردی اور خونریزی کی بنیاد پر امریکہ نے 2001 ء میں ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘‘ کے نام پر ایک اور عالمی جنگ شروع کی ۔ اس میں بھی پاکستان کو ایندھن بنا یاگیا ۔ اس کیلئے پرویز مشرف کو اقتدار میں لانے کے حالات پیدا کئے گئے ۔ یہ جنگ مسلم دنیا کے انتہا پسند گروہوں کیخلاف تھی ، جو قبل ازیں سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں امریکہ کے اتحادی تھے ۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کے دوران انتہا پسندی اور دہشت گردی میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوتا گیا ۔ اس جنگ میں انتہائی اہم کردار کی وجہ سے پاکستان کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا سب سے بڑا نان نیٹو اتحادی ( Major Non Nato Ally ) قرار دیا گیا ۔ بہر صورت ہم گزشتہ 4 عشروں یعنی 40 سال سے امریکہ کی لڑائی میں براہ راست ملوث ہیں ۔ اس سے قبل ہم بالواسطہ طور پر ملوث تھے ۔ اس کے جانی و مالی نقصانات اس قدر زیادہ ہیںکہ دنیا کے کسی ملک نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی انفرادی طور پر اتنے نقصانات کا سامنا نہیں کیا ہو گا ۔ سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ پاکستان میں اعتدال اور ترقی پسندانہ سیاسی قوتیں کمزور ہو چکی ہیں ، جو اس جنگ میں شمولیت کے خلاف مزاحمت کر سکتی تھیں ۔

شئیرکرکے اپنے دوستوں تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں