Orya-Maqbool-Jan

افغان کرکٹ ٹیم اور بھارت کی غضبناکی کیوں

Orya-Maqbool-Jan

گزشتہ ہفتے دو چہرے بہت غضبناک نظر آئے‘ ایک کرکٹ میچ میں افغان کھلاڑیوں کا چہرہ اور دوسرا مذاکرات کے انکار پر بھارت کے سفارتکاروں کا چہرہ۔ ان دونوں کی غضبناکی میں ایک ربط اور تعلق ہے۔ بھارت کا یہ چہرہ تو پاکستان کے عوام صدیوں سے جانتے ہیں لیکن افغان چہرہ پاکستانیوں کے لیے بالکل نیا تھا اور سب کے سب حیران تھے کہ یہ وہ قوم ہے جس کے چالیس لاکھ مہاجرین کو پاکستان نے اپنی سرزمین پر پناہ دی۔ جب وہ روس کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے تو کوئٹہ اور پشاور کے ہسپتال ان کے زخمیوں کی تیمارداری کرتے تھے‘ وہ سرسبز و شاداب جنگل جہاں مہاجرین کے کیمپ لگائے گئے‘ بنجروادیوں میں تبدیل ہو گئے‘ پاکستان کی سرزمین پر پہلی دفعہ دھماکے اور بم بلاسٹ شروع ہوئے اور افغان ایجنسی خاد روسی ایجنسی کے جی بی کے تعاون سے پاکستان میں سات ہزار سے زیادہ دھماکے کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ہیروئن اور کلاشنکوف تو اس جنگ کا عطیہ تھیں‘ اس کے بعد جب مجاہدین میں خانہ جنگی شروع ہوئی‘ کابل شہر کے ایک طرف کی پہاڑیوں پر گلبدین حکمت یار اور دوسری سمت کی پہاڑیوں پر احمد شاہ مسعود کی توپیں شعلے اگلتی تھیں تو شاید اس خطے میں واحد پاکستان تھا جو اس جنگ میں بلکہ خانہ جنگی میں غیرجانبدار رہا‘ ورنہ ایران اور بھارت جس طرح کھل کر شمالی اتحاد کی مدد کر رہے تھے‘ وہ ہر کسی کو معلوم تھا۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں سفید پرچم تھامے طالبان برآمد ہوئے اور انہوں نے پانچ سال اس جنگ زدہ اور آفت گرفتہ افغانستان میں امن و انصاف قائم کرکے دکھایا۔ ہم اس وقت بھی ان تین ممالک میں شامل تھے جنہوں نے عالمی سطح پر طالبان کی حکومت کوتسلیم کیا‘ وہ حکومت جسے اقوام متحدہ بھی اپنے تعصب کی بنیاد پر تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی۔ پھر افغان کھلاڑیوں کی آنکھوں میں نفرت اور غصہ کہاں سے آیا۔ کیا یہ ایک احسان فراموش قوم ہے۔ یہ سوال مجھ سے لاتعداد لوگوں نے کیا اور میرا ایک ہی جواب تھا یہ شکست خوردہ لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مدتوں سے پاکستان کے سیکولر‘ لبرل اور قوم پرست لوگوں سے گٹھ جوڑ رہا ہے۔ انہی کی طرح جب سوویت یونین سرخ انقلاب لا رہا تھا تو یہ سرخ سویرے کے پرچم بلند کرتے تھے۔ افغانستان میں دو سیاسی پارٹیاں تھیں‘ ایک ’’خلق اور دوسری ’’پرچم‘‘ اور دونوں کمیونسٹ نظریات کی حامل تھیں۔ دونوں کو افغان عوام ’’شوروی‘‘ کہتے تھے۔ روس ان دونوں کے ساتھ داشتائوں والا کھیل کھیلتا تھا۔ کبھی ایک کو افغانستان کے تخت پر بٹھا دیا اور کبھی دوسرے کو۔ لیکن جیسے ہی سوویت یونین کو ذلت آمیز شکست ہوئی تو جس طرح امریکہ کو ہر وقت گالیاں دینے والے پاکستانی کمیونسٹوں نے امریکی بادشاہت کی چوکھٹ پر سجدہ کردیا اور وہ تمام دانشور سیاسی نابغے ایک دم سیکولر‘ لبرل اور جمہوریت پرست ہو گئے‘ ویسے ہی افغانستان کا گروہ بھی امریکی بالادستی کے سامنے سرتسلیم خم کر بیٹھا۔ افغانستان کا یہ سیاسی گروہ ہمیشہ کابل اور اس ملک کی فارسی بولنے والی اقلیت میں مقبول تھا۔ کابل صدیوں سے پورے افغانستان میں ایک جزیرے کی حیثیت رکھتا رہا ہے۔ افغانستان اپنی تہذیب و تاریخ کے حوالے سے ایک مکمل قبائلی معاشرہ ہے جسے اسلام کے زریں اصولوں نے ایک خاص تہذیبی و اخلاقی رنگ میں رنگ دیا ہے جبکہ کابل ہمیشہ سے ایک جدید‘ مغربی تہذیب سے متاثر اور ایرانی تصورات کے خوشہ چین کے طور پر آباد شہر تھا۔ کس قدر حیران کن تضاد ہے کہ افغانستان کے پہاڑی راستوں میں آباد گائوں میں تو عورتیں برقعہ پوش نظر آتیں لیکن کابل میں آپ کو سڑکوں پر جینز اور سکرٹ میں ملبوس خواتین گھوتی پھرتی نظر آتیں۔ کابل کے شہریوں کا لائف سٹائل باقی افغانستان میں بسنے والی اکثریت سے بالکل مختلف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب افغانستان میں نور محمد ترکئی کی حکومت قائم ہوئی اور اس کے خلاف مسجد و مدرسہ سے آواز اٹھنے لگی تو کابل میں بسنے والا یہ طبقہ فوراً اس کے خلاف ہوگیا۔ افغانستان سے جنگوں کے دوران دو طرح کی ہجرتیں ہوئیں۔ ایک عام افغان جو پاکستان یا کسی حد تک ایران چلے گئے‘ جبکہ دوسری ہجرت ان کابل کے باسیوں کی تھی جو جرمنی‘ فرانس‘ برطانیہ اور امریکہ میں جا کر آباد ہو گئے۔ انہیں بہرصورت اپنے لائف سٹائل کا تحفظ کرنا تھا۔ جیسا لائف سٹائل انہوں نے کابل میں بنا لیا تھا یا وہ جس کے عادی ہو چکے تھے ویسا تو صرف مغرب میں ہی میسر تھا۔
اشتہار


1979ء کے دسمبر سے لے کر 2001ء کے دسمبر تک 22 سال افغانستان میں یہ لائف سٹائل کی جنگ چلتی رہی۔ پہلے یہ طبقہ روس اور اس کے حواریوں کے جیتنے کی امیدیں لگائے ہوئے تھا اور پھر امریکہ ان کی آرزئوں کا مرکز بن گیا۔ گیارہ ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے سے ان کی امیدیں بر آئیں۔ امریکہ اور اڑتالیس دیگر ممالک نے کابل پر قبضہ کیا اور یہ سب کے سب واپس لوٹ آئے۔ قہوہ خانے آباد ہو گئے‘ رقص و سرود کی محفلیں شروع ہو گئیں۔ اب تو معاملہ دوآتشہ تھا۔ ایک تو کابل کو دوبارہ آباد کرنے کا عزم اور دوسرا یورپی تہذیب میں عمر گزارنے کا تجربہ۔ امریکی فوج نے ان سب کو نہ صرف کابل میں دوبارہ آباد کیا بلکہ ان کے سیاسی قائدین کی حکومت بھی اپنی افواج کی مدد سے قائم کردی لیکن یہ حکومت گزشتہ سترہ برس میں کابل اور اس کے گردونواح سے باہر مستحکم نہ ہوسکی۔ کابل کے باہر کا افغانستان طالبان کا تھا اور آج بھی ہے۔ کابل واحد شہر ہے جہاں انتہائی سخت سکیورٹی کے حصار میں یہ لائف سٹائل پروان چڑھتا ہے اور کرکٹ بھی اسی لائف سٹائل اور تہذیب کا حصہ ہے ورنہ امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی سے بننے والی حکومتوں سے قبل افغانستان کرکٹ کے لفظ سے بھی ناآشنا تھا۔ کابل کی افغان حکومت کے اس لائف سٹائل کو تحفظ دینے میں بھارت اور ایران کا بہت بڑا کردار ہے۔ گزشتہ سال بھارت نے تین بڑے معاہدے کئے اور تینوں عسکری نوعیت کے تھے لیکن انہیں سٹریٹجک معاہدوں کا نام دیا گیا۔ ایک افغانستان کے ساتھ‘ دوسرا ایران اور تیسرا امریکہ سے۔ تینوں معاہدوں کا ہدف پاکستان تھا اور اس کا بنیادی مقصد چین کے اس خطے میں بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کو روکنا۔ اسی لیے افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ چاہ بہار کی بندرگاہ کا بھارتی آپریشن اور امریکی ایٹمی ایندھن کی سپلائی‘ یہ سب ایک جال تھا جو پاکستان کے گرد پھیلایاجارہا تھا لیکن گزشتہ دس ماہ میں طالبان کی پیش قدمی اور افغانستان کے ستر فیصد علاقے پر ان کے مکمل اختیار نے بوکھلا دیا۔ امریکہ نے مڑ کر دیکھا تو مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آیا۔ سعودی عرب کا سی پیک میں شامل ہونا‘ امریکی آشیر باد ہی تو ہے۔ یہ بدلتا ہوا موسم ہے جس کی وجہ سے بھارت کا کردار ختم ہوتا نظر آ رہا ہے اور اگر ایک دفعہ یہ راہداری بن گئی تو پاکستان کا تعلق جنوبی ایشیا نہیں بلکہ سنٹرل ایشیا سے مستحکم ہو جائے گا‘ ایسے میں امن کی ضمانت صرف طالبان سے کامیاب مذاکرات ہی دے سکتے ہیں۔ اربوں کھربوں ڈ الروں کا کھیل ہے اور یہ کھیل آگے نہیں بڑھ سکتا اگر پاکستان کا کردار اہم اور بنیادی نہ ہو اور طالبان کا کردار افغانستان میں تسلیم نہ کیا جائے۔ یہ ہے وہ خوف جو بھارت کے سفارتکاروں کو غضبناک کرتا ہے اور افغانستان کی کابل میں رہنے والی ایک فیصد مراعات یافتہ آبادی کو برہم کردیتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے کرکٹ کا میدان ہو یا تجارت‘ عسکری محاذ ہو یا سفارتی‘ ساری جنگ طرز زندگی‘ لائف سٹائل کی ہے اور یہی جنگ ہے جو انبیاء نے فرعون کے مصر اور مشرکین کے مکہ میں لڑی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں