نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی شیرخوار بیٹی کے ہمراہ اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی 3 ماہ کی بیٹی کے ہمراہ شرکت کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جہاں تمام ممالک کی اعلیٰ شخصیات اہم موضوع پر تقاریر کر رہے تھے وہیں پہلی مرتبہ اسمبلی ہال ایک 3 ماہ کے بچے کی کلکاریوں سے بھی گونجتا رہا۔یہ مسحور کن آوازیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی 3 ماہ کی بیٹی کی تھیں۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی 3 ماہ کی بیٹی نیوی تے آروہ جس کے معنی روشنی اور منور کے ہیں، اجلاس کی کارروائی کے دوران زیادہ تر ماں کی گود میں کھیلتی رہی تو کبھی اپنی معصوم حرکتوں سے شرکاء کو متوجہ کرتی رہی اور کبھی اجلاس میں ہونے والی تقاریر کو بغور سنتی رہی جیسے اسے معلوم ہو کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں اس کے مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔

جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس تاریخ ساز حیثیت اختیار کر گیا ہے کیوں کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی 3 ماہ کے بچے نے جنرل اسمبلی ہال میں بیٹھ کر اجلاس کی کارروائی میں شرکت کی ہو۔ اجلاس کے دوران نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جہاں ملکی ذمہ داریوں کو نہایت احسن طریقے سے نبھا رہی تھیں وہیں ایک ماں کے فرائض سے بھی غافل نہیں رہیں۔

اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے 3 ماہ کی بچی کو کارڈ بھی جاری کیا تھا جس میں پیدائش کے بعد لی گئی پہلی تصویر چسپاں کی گئی تھی۔ گلے میں ’یو این کارڈ‘ ڈالے بچی کو کبھی ماں سنبھالتی تو ماں کی تقریر کے دوران بچی باپ کی گود میں کھیلتی رہی۔ وہ بھی اس اجلاس میں ’مہمان خاندان‘ کے رکن کے طور پر شریک تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں