یمن کی جنگ اور ’’زمینی حقائق‘‘

ایک اپوزیشن جماعت کے رہنما نے پوچھا ہے کہ بتایا جائے‘ سعودی عرب سے کیا معاملہ طے ہوا ہے۔ چند دن پہلے ایک دوسری اپوزیشن جماعت کے رہنما اور سابق وزیر نے اس پر سوال اٹھایا تھا کہ سعودی عرب گوادر میں آئل سٹی بنا رہا ہے۔ اس پر چین کی رضا مندی لے لی گئی ہے۔ ایک تبصرہ نگار نے فرمایا ہے کہ وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب پراسرار کے پردے پڑے ہیں کیونکہ نہ تو اس موقع پر حسب روایت کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا نہ سعودیہ کی طرف سے کوئی بیان آیا۔ یہ سب‘ سچ پوچھئے تو‘ اندیشہ ہائے دور دراز ہیں۔ سچائی ہائے قرب و جوار یہ ہے کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں جو بتایا جائے۔ چین کی رضا مندی کا سوال اٹھتا ہی نہیں کیونکہ ابھی تک آئل سٹی کے بارے میں جو بھی فرمایا ہے وہ ہمارے خارجہ والوں نے فرمایا ہے اور سعودی عرب نے ابھی تک اس بارے میں کچھ بھی نہیں فرمایا ہے اور اسرار کے پردے تب پراسرار ہوتے ہیں جب پردے کے پیچھے کچھ ہو‘ جب کچھ نہ ہو تو اسرار کے نہیں‘ آرائش کے پردے ہوا کرتے ہیں۔ سعودی عرب سے شارٹ ٹرم توقع چار یا پانچ بلکہ چھ ارب ڈالر نقد ملنے کی تھی۔ لیکن گئے عشاق‘ پلٹے وعدہ فروا لے کر۔ فی الحال جو معاملہ بندی زمان سابق میں طے ہوئی تھی۔ وہی چلے گی۔ آئل سٹی کے بارے میں ہمارے خارجہ والوں کی اطلاع درست ہو۔ یہ دعا کرنی چاہیے۔ ایسا سٹی بننا چاہیے بھلے سے سعودیہ بنائے یا چائنہ۔ سابق وزیر کو اندیشہ ہے کہ کہیں چین ناراض نہ ہو جائے۔ کتنا بے جا اندیشہ ہے۔ اسے ہم پہلے ہی کماحقہ‘ ناراض کر چکے ہیں۔ غنیمت ہے کہ وزیر خزانہ نے مان لیا۔ سرمایہ کاری کی بات ابھی محض ابتدائی بات ہے(اعلانات قبل از وقت ہیں) ٭٭٭٭٭ وزیر اعظم نے البتہ اس دورے میں زمینی حقائق کو تسلیم کر لیا اور حوثیوں سے جنگ نہیں سعودی عرب کی کھل کر حمایت کر دی۔ یہ زمینی حقائق بڑے دقیق الفہم ہوتے ہیں۔ زمین والوں کو آسانی سے سمجھ نہیں آتے‘ بس اسی کو سمجھ میں آتے ہیں جسے آسمانی ہدایت نصیب ہو جائے اور آسمانی ہدایت جب آنے پر آتی ہے تو وٹس ایپ پر بھی آ جاتی ہے۔ اگرچہ بہت سے ’’میڈیم‘‘ دستیاب ہیں۔ یاد ہو گا‘ موجودہ وزیر اعظم نے ان دنوں جب رقیب وزیر اعظم ہوا کرتا تھا‘ ملک بھر میں یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کی مہم چلائی تھی اور ہر طرح کے دلائل کبریٰ و صغریٰ دیئے تھے۔ پارلیمنٹ میں یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کے لیے ایک قرار داد بھی منظور ہوئی تھی جس میں ایک اضافی پیرا سعودی عرب کی ’’شان‘‘ میں کہے گئے کچھ نامطلوب جملوں والا بھی شامل کر دیا تھا۔ اور وہ تو کئی برس پہلے کی بات ہے۔ وزیر اعظم بنتے ہی6ستمبر کو خطاب میں یہ اعلان بھی فرمایا کہ دوسروں کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ یہ سارا قصہ زمینی حقائق کی تفہیم سے پہلے کا ہے۔ اب یہ تفہیم ہو گئی اور یہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ یمن کی جنگ دوسروں کی جنگ نہیں ہے‘ یہ بھی ہماری جنگ کا حصہ ہے۔ ٭٭٭٭٭ بہرحال یہ یمن کی جنگ بھی خوب ہے۔ پانچ سال ہوتے ہیں کہ حوثی قبائل شمال کے صوبے صعدہ سے نکلے اور اس سارے علاقے پر قبضہ کر لیا جو ماضی میں شمالی یمن کے نام سے الگ ملک ہوا کرتا تھا۔ یہی نہیں‘ سابق مملکت جنوبی یمن کے صوبے عدن پر بھی قبضہ کر لیا۔ یمنی حکومت کے قبضے میں بس مشرق کے صحرا رہ گئے۔ لنڈوری حکومت بھاگ کر جدہ میں پناہ گزین ہو گئی۔
اشتہار


پھر سعودی عرب نے دیر سے ہی سہی‘ حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی فوج کچھ کم تھی‘ کچھ سوڈان سے لی۔ کچھ عرب امارات سے اور عدن کے باقی ماندہ ساحل سے جوابی کارروائی شروع کی۔ شروع میں اندازہ ان کا یہ تھا کہ سال چھ مہینے میں صعدہ والوں کو واپس صعدہ میں بھیج کر حصار بند کر دیں گے لیکن جنگ وہ شے ہے کہ اس میں وہ اندازہ ہی کیا جو صحیح ثابت ہو جائے۔ پانچ برس گزر گئے اور جنوبی یمن کے عدن کے علاوہ شمالی یمن کا محض 25فیصد بلکہ شاید اس سے بھی کم رقبہ واپس لیا گیا۔ باقی سب جوں کا توں حوثیوں کے پاس ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ جو علاقہ انہوںنے چھڑایا ہے‘ وہ بہت اہم ہے۔ مثلاً عدن ہی کو لے لیجیے۔ یہ بحیرہ قلزم کا ناکہ ہے۔ اسے نہ چھڑاتے تو ایران‘ یہاں ایسا مورچہ لگاتا کہ یورپ عربستان اور شمالی افریقہ‘ سبھی کے طوطے اڑ جاتے۔ سعودی افواج نے یمنی قبائل کے ساتھ مل کر اسے واپس لیا اور یوں جلاوطن حکومت کو پھر سے وطن میں آنے کا موقع ملا۔ دارالحکومت میں نہ سہی‘ ملک کے سب سے اہم شہر اور سب سے بڑی بین الاقوامی بندرگاہ میں ہی سہی۔ حوثیوں کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ شمالی یمن کا سارا ساحل بھی ان کے پاس تھا جو بحیرہ احمر (ریڈ سی۔ یا۔بحرہ قلزم) سے ملتا ہے۔ یہ مستطیل سمندر دراصل ایک بند سمندر ہے جس کے ہر طرف خشکی ہے‘ بس دو ’’دروازے‘‘ ہیں جو اسے دونوں طرف سے عالمی سمندروں کے ساتھ ملاتے ہیں۔ ایک نہر سویز ‘ دوسرا باب المندب ۔ یورپ ‘ امریکہ ‘ شمالی افریقہ انہی دو دروازوں کے ذریعے عربستان‘ وسطی اور مشرقی افریقہ اور ایشیا بھر سے تجارت کرتے ہیں۔باب المندب تو سعودی عرب نے چھڑا لیا لیکن باقی ساحل پر بیٹھے حوثی جب چاہیں‘ سمندری ٹریفک کو بند نہ سہی‘ درہم برہم ضرور کر سکتے تھے۔ سعودی عرب نے چنانچہ پہلی ترجیح اسی ساحل کو چھڑانے پر دی۔ چیونٹی کی چال سے اسے واپس لینا شروع کیا۔ پہلے المخا کی بڑی بندرگاہ کا قبضہ لیا۔ پھر آگے بڑھ کر خوخاکی بندرگاہ چھڑائی اور اب اس برس الحدیدہ کی بندرگاہ تک جا پہنچے۔ اس کے ایئر پورٹ پر سعودی اتحاد کا قبضہ ہے اور شہر کے جنوب اور مشرق میں محاصرہ بھی ہے لیکن شہر بدستور حوثیوں کے پاس ہے۔ اگرچہ دو طرفہ محاصرے اور ایئر پورٹ چھن جانے سے وہ بہت مشکل میں ہیں۔ یوں شمالی یمن کا آدھے سے زیادہ ساحل یمنی حکومت کے پاس آ گیا ہے اور بحیرہ احمر میں سمندری ٹریفک کو لاحق خطرات آدھے سے بھی زیادہ کم ہو گئے ہیںلیکن جنگ کی رفتار اتنی آہستہ ہے کہ شاید باقی ساحل واپس لینے میں دو سال لگ جائیں۔ کیا پتہ اور ساحل چھن جانے سے‘ بلکہ محض الحدیدہ کی بندرگاہ واگزار ہو جانے سے ہی حوثی قوت بے قوتی میں بدل جائے گی۔ اس جنگ سے یمن کے دونوں علاقوں میں ‘ یعنی جس پر حکومت کا قبضہ ہے وہاں بھی اور جہاں حوثی قابض ہیں وہاں بھی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ حوثیوں والے علاقے میں تو قحط کی سی کیفیت بھی ہے۔ جنگ اور بمباری سے لوگ الگ مر رہے ہیں اور بارودی سرنگیں پھٹنے سے الگ۔ قحط اور دوائیں نہ ملنے سے لاکھوں بچوں کی زندگی الگ خطرے میں ہے۔ یا تو کوئی صلح صفائی کرا دے یا پھر جنگی مدد کر کے یمنی حکومت کی پورے علاقے پر رٹ بحال کرا دے لیکن دونوں میں سے کوئی کام بھی نہیں ہورہا۔ مرغوں کی لڑائی صرف دیکھی جاتی ہے‘ چھڑائی نہیں جاتی۔ ٭٭٭٭٭ جنوب میں یمن کی جنگ کو پانچ سال ہو گئے تو شمال میں شام کی خونریزی کو سات سال پورے ہو گئے اور اب شام کی جنگ کے شعلے ایران کو بھی جھلسا رہے ہیں۔ اس ہفتے شام کے جنوب مغربی شہر الاھواز میں فوجی پریڈ پر حملہ ہوا‘ چودہ فوجیوں سمیت 29افراد ہلاک ہو گئے۔ ایران نے کہا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل اور امریکہ نے کرایا۔ انہی نے کرایا ہو گا لیکن کیا کس نے؟ شام کے باغی یا کرد کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ سال بھر سے ایران کے اندر‘ بالخصوص مغربی اور جنوب مغربی صوبوں میں ایسی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ مرنے والے کبھی کرد ہوتے ہیں تو کبھی عرب۔ الاھواز عرب اکثریت کے صوبے خوزستان کا دارالحکومت ہے اور یہاں کے لوگ خود کو ایران کا حصہ نہیں مانتے۔ الاھواز کی ’’آزادی‘‘ کے لیے ایک تحریک کچھ عرصے سے سرگرم ہے۔یہ پہلے عراق کا حصہ تھا‘1922ء میں ایران نے اس پر قبضہ کیا۔ شام جنگ کے منفی ثمرات ا ب ایران کو قدرے تیزی سے موصول ہو رہے ہیں۔

کالم نگار: عبداللہ طارق سہیل

اپنا تبصرہ بھیجیں