کراچی کے مختلف علاقوں سے لاپتا مزید 8 افراد کئی ماہ بعد گھر واپس آگئے

کراچی پولیس کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کو بتایا گیا ہے کہ مختلف علاقوں سے لاپتا مزید 8 افراد کئی ماہ بعد گھر واپس آگئے۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی، اس موقع پر پولیس کی جانب سے رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے 8 افراد گھر واپس پہنچ گئے جب کہ واپس آنے والوں میں سے بیشتر افراد عدالت میں بھی پیش ہوئے۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی کوشش سے لاپتا افراد کے اہلخانہ کو حوصلہ ملا جب کہ عدالت نے واپس آنے والوں کی گمشدگی کی درخواستوں کو نمٹا دیا۔

لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے 6 سال سے لاپتا سیف اللہ کی عدم بازیابی پر پولیس حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس نعمت اللہ نے کہا کہ ایک آدمی 2012 سے لاپتا ہے اور پولیس کو کوئی فکر ہی نہیں، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جیز کیا کام کررہے ہیں، پولیس اور ذمہ داران کان کھول کر سن لیں بندے بازیاب نا ہوئے تو سخت ایکشن لیں گے۔

فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ لاپتا افراد کا معاملہ تشویشناک اور خطرناک ہے، تفتیشی افسران اور فوکل پرسن کاغذی کارروائی کرتے ہیں اور نتیجہ صفر ہے۔

عدالت نے ہدایت دی کہ آئی جی سندھ خود لاپتا افراد کا معاملہ دیکھیں، تفتیشی افسران کچھ نہیں کرسکتے۔

لاپتا شہری فرقان خان کے بھائی عمران نے عدالت کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرایا جس کے بعد عدالت نے لاپتا شہریوں کو بازیاب کرا کر تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں