Orya-Maqbool-Jan

تاریخ اور وقت بدل چکا ہے

امریکہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ طاقت کی دنیا پر جلوہ گر تھا، اسی آسمان پر روس کا سورج بھی ابھی نصف النہار پر تھا۔ یہ دونوں طاقتیں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ تھیں۔ مشرقی پاکستان میں پندرہ سالوں سے جو نفرت بوئی گئی تھی، اس کی فصل کاٹنے کے دن آ چکے تھے۔ اس حقیقت سے کوئی آج تک انکار نہیں کرسکتا کہ ریاستی قوت کے مقابلے میں چلنے والی بڑی سے بڑی آزادی کی تحریک بھی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک اس کی پشت پر بیرونی طاقت، حکومت یا ریاست موجود نہ ہو۔ بھارت کی پشت پر امریکہ اور روس دونوں موجود تھے۔ 15 دسمبر 1971ء کا دن سفارتی دنیا میں دھمکیوں اور ان کے جواب کا دن تھا۔ سکیورٹی کونسل کا اجلاس جاری تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کسنجر نے ذوالفقار علی بھٹو کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: “Pakistan would not be saved by Mock-Tough Rhetoric” ’’پاکستان کو تضحیک آمیز سخت رویہ سے بچایا نہیں جا سکتا۔‘‘ دفتر خارجہ کا طویل تجربہ رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو سازش کا بھی علم تھا اور سفارتی زبان کا بھی اندازہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ عالمی طاقتوں نے مشرقی پاکستان کے مستقبل کا کیا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس نے ایک فیصلہ کیا، تاریخ میں اپنے جذبات کو زندہ رکھنے کا فیصلہ۔ اس فیصلے پر آج تک تنقید کی جاتی ہے۔ لوگ اس تقریر کوبھی سازش کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر سکیورٹی کونسل میں پولینڈ کی جنگ بندی کی قرار داد منظور ہو جاتی یا برطانیہ اور فرانس کی قرارداد ہی مان لی جاتی تو پاکستان اوربھارت کے درمیان جنگ بندی ہو سکتی تھی، اقوام متحدہ کی مداخلت شروع ہو جاتی اور پھر مسئلے کا سیاسی حل نکل سکتا تھا۔ یہ ایسی دور کی کوڑی ہے جسے اس وقت عالمی طاقتوں کے کھیل کو جاننے والا شاید قبول نہ کر سکے۔ پہلی بات تو یہ کہ سکیورٹی کونسل میں قرار داد منظور ہو جاتی، دوسری بات یہ کہ کیا اقوام متحدہ کی قرارداد اس وقت تک جنگ بندی کرا سکتی تھی جب تک بڑی عالمی طاقتیں خبردار نہ کرتیں۔ امریکہ نے ٹھیک اس وقت تمام سفارتی حلقوں میں یہ واضح کردیا تھا کہ امریکہ مغربی پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا دفاع کرے گا لیکن سکیورٹی کونسل میں موجود تمام نمائندوں پر یہ بات بھی واضح کردی گئی تھی کہ اب مشرقی پاکستان کو اسلام آباد کے کنٹرول میں مزید نہیں رکھا جائے گا اور دنیا کی کوئی عالمی طاقت بنگلہ دیش کو معرض وجود میں آنے سے نہیں روک سکتی۔ اس منافقانہ سفارتی فضا میں صرف ایک ہی فیصلہ درست تھا کہ ہنری کسنجر کی ہدایت کو یکسر مسترد کر کے تاریخ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے اور ذوالفقار علی بھٹو نے ایسا ہی کیا۔
اشتہار



اس نے ایک طویل تقریر کی اور کہا Today we are pitted against India and a great power. India is a big country but today it is standing against us on the shoulders of big power to look bigger.” ’’اس وقت ہمیں بھارت اور ایک بڑی عالمی طاقت کے کھردرے پن کا سامنا ہے۔ بھارت ایک بڑا ملک ہے لیکن یہ ایک عالمی طاقت کے کندھے پر سوار ہو کر مزید بڑا دکھائی دینا چاہتا ہے۔‘‘ اس کے بعد بھٹو نے ایک لمبی تقریر کی جس میں اس نے تاریخ کے حوالے دیئے اور کسنجر کی اس نصیحت کو بھول کر ’’تضحیک آمیز سخت رویہ‘‘ اپنایا اور آخر میں اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کے منہ پر ایک طمانچہ مارتے ہوئے وہ حقیقت بیان کردی جس پر سب متفق ہو چکے تھے۔ I am leaving your security council. I find it disgraceful to my person and my country to remain here a moment longer……. legalise aggression. I will not be a party to it… you can take your security council. Here you are. I am going. ’’میں سکیورٹی کونسل چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ میری یہاں ایک لمحہ بھی موجودگی میری ذات اور میرے ملک کی توہین ہے۔ تم جارحیت کو قانونی تحفظ دو۔ لیکن میں اس عمل کا حصہ نہیں بن سکتا۔ تم اپنی سکیورٹی کونسل اپنے پاس رکھو۔ یہ رہے آپ، میں جا رہا ہوں۔‘‘ یہ وہ زمانہ تھا جب تاریخ کے سارے کردار ہمارے مخالف تھے۔ ہم پر دنیا ایسے پل پڑی تھی جیسے بھیڑیئے بکریوں کے گلے پر ٹوٹتے ہیں لیکن اس کے چند برس بعد یہی عالمی طاقتیں افغانستان میں روسی مداخلت کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مدد کی منتظر تھیں۔ مدد دے دی گئی، روس افغانستان سے جب شکست کھانے کے بعد 1987ء میں بھاگ رہا تھا تو پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کو اس امریکی بے وفائی کا بہت رنج تھا۔ اس ہزیمت کے مرحلے میں ضیاء الحق نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر ایک میٹنگ کے دوران درجنوں افراد کی موجودگی میں امریکی سفیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: “You people think that we can not live without your help. Remember Pakistan is a strong and powerfull country, and if we can make russia run away from Afganistan, then we can also cope with USA.” تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ ہم تمہاری مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ یاد رکھو پاکستان ایک مضبوط اور طاقت ور ملک ہے۔ اگر ہم روس کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کرسکتے ہیں تو امریکہ کا بھی مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد ضیاء الحق نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی سفیر جو سر نیچے کئے یہ سن رہا تھا کی ٹھوڑی پکڑ کر منہ اونچا کیا اور کہا: “Tell your Government that you have no option except our friendship.” ’’اپنی حکومت سے بول دو کہ تمہارے پاس ہمارے ساتھ دوستی کے علاوہ کوئی اورراستہ ہی نہیں ہے۔‘‘ ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ سفارتی آداب کی دنیا بھی بدل چکی۔ اب وہ سفارت کار اور حکمران جو ناپ تول کر گفتگو کرتے تھے ٹوئٹر اور فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ اسے آج کے دور میں Twiplomacy، Weiplomacy کہتے ہیں ‘جس کا آغاز 2012ء میں ہوا۔ 6 اکتوبر 2012ء کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پہلا ٹویٹ کرکے اس نئی سفارتی تحریر کا آغاز کیا۔ اس وقت دنیا کے تقریباً تمام سربراہان اپنے جذبات کا اظہار ٹوئٹر سے کرتے ہیں۔ اب سفارتی آداب کا زمانہ گیا کیونکہ کسی بھی سربراہ کا ٹوئٹ ایک دوطرفہ گفتگو نہیں بلکہ اس دنیا میں بسنے والے سات ارب انسانوں کے سامنے کی گئی گفتگو ہوتی ہے۔ اس میں سفارتی آداب سے زیادہ اپنے عوام کی غیرت، حمیت، عزت و وقار اور عظمت کے تحفظ کی ذمہ داری سب سے پہلے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلپائن کے صدر ’’گوریڈو ڈیوٹزے‘‘ نے جب منشیات فروشوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا اور امریکہ نے اسے انسانی حقوق کا مسئلہ بنایا تو اس نے سب سے پہلے سنگاپور کو کہا ’’تم ایک امریکی چھائونی ہو جو ملک کہلاتی ہے۔‘‘ اس نے ایک دفعہ اوباما اور پھر پوپ فرانسس کو “Son of Whore” طوائف کے بچے کہا۔ یہ سب اور اس طرح کے بے شمار ٹوئٹر ریمارکس اب عالمی سفارتی کلچر کا حصہ بن چکے ہیں۔ عمران خان کا ٹوئٹ کچھ دقیانوسی آداب کے قائل افراد کی طبع نازک پر گراں گزرا ہے۔ عمران خان پہلے بائیس کروڑ عوام کا وزیراعظم ہے اور بھارت کا پڑوسی بعد میں ہے۔ اس کا یہ ٹوئٹ ایک قوم کی غیرت و حمیت، عزت و وقار اور عظمت کے تحفظ کی علامت ہے۔ یہ ایک ٹوئٹ ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ اس لیے کہ اب نہ 1971ء کا امریکہ اور روس باقی ہے اور نہ ہی وہ کمزور پاکستان۔ امریکہ گزشتہ کئی سالوں سے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان سے بھیک مانگ رہا ہو، اس افغانستان کی جس میں روزانہ 57 افغان فوجی طالبان کے ہاتھوں مر رہے ہوں۔ اس امریکہ کا کوئی وزیر خارجہ اب ہنری کسنجر بننے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ وقت بدل چکا، تاریخ اب کسی اور طریقے سے رقم ہوگی۔ امریکی سفیر کی ٹھوڑی پکڑ کر کہے جانے والے ضیاء الحق کے الفاظ اب تاریخ نہیں حقیقت ہیں اور عمران خان کا ٹوئٹ بھی حقیقت بن جائے گا ایک دن۔

اپنا تبصرہ بھیجیں