twenty-million-people-starving-UNO

اقوام متحدہ ناکام ہوگئی ؟

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کے بڑے حکمرانوں کو یہ خیال آیا کہ جنگوں کو روکنے کے لیے ایک ادارہ بنانے کی ضرورت ہے سو ان حکمرانوں نے اقوام متحدہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے ملکوں کو نمایندگی دی گئی اور سلامتی کونسل کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا جو سینیٹ جیسا کردار ادا کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کو قائم ہوئے اب پون صدی ہو رہی ہے۔ اس دوران کوریا کی جنگ ہوئی، ویتنام کی خوفناک جنگ ہوئی، عراق اور افغانستان کی جنگیں ہوئی، بھارت اور پاکستان کی جنگیں ہوئیں اور اقوام متحدہ ان جنگوں کو نہ روک سکی، اس میں بڑی طاقتوں کے مفادات تھے۔ اقوام متحدہ عملاً امریکا کی خادمہ بنی رہی، فلسطین میں برسہا برس سے بے گناہ عوام کا خون بہہ رہا ہے، کشمیر میں اب تک 70 ہزار کشمیری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی لاکھوں عوام جان سے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ جنگوں کو تو نہ روک سکی البتہ جنگوں سے تباہ ہونے والے ملکوں پر فاتحہ ضرور پڑھتی رہی۔

اقوام متحدہ پر کالم لکھنا اس لیے پڑ رہا ہے کہ دنیا کی سپر پاور اور جنگجو ذہنیت کے مالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرمایا ہے کہ ’’اقوام متحدہ دنیا کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔‘‘ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے حوالے سے یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں بہت صلاحیت موجود ہے لیکن مگر وہ اس صلاحیت کو استعمال نہیں کرتی۔ ٹرمپ نے کہاہے کہ بہت حیرانی ہوتی ہے جب اقوام متحدہ میں بہت سارے مسائل حل نہیں ہوپاتے ،ٹرمپ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اقوام متحدہ دنیا کے بہت سارے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ لیکن اگر ٹرمپ یہ بتانے کی زحمت بھی کرلیتے کہ اقوام متحدہ دنیا کے بہت سارے مسائل حل کرنے میں کیوں ناکام رہی۔
ہم اس حوالے سے صرف دنیا کے دو بڑے مسائل کا حوالہ دیںگے جو نہ صرف دنیا کے امن کے لیے خطرناک بنے ہوئے ہیںبلکہ لاکھوں بے گناہ انسان ان دو تنازعات کی نذر ہوچکے ہیں۔ ان میں ایک تنازعہ فلسطین کا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کو پتہ چلا کہ ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ بہت ظلم کیے ہیں اور ہٹلر کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے یہودی دنیا کے مختلف ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ یہودیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم سے نجات دلانے کے لیے مغربی ملکوں نے جن میں امریکا اور برطانیہ پیش پیش ہے یہودیوں کی آبادکاری کے لیے انھیں ایک وطن بناکر دینے کا ارادہ کرلیا اور ان کا یہ ارادہ اسرائیل کی شکل میں وجود میں آیا۔ یہودی بے وطن تھے، ان کے لیے وطن ضروری تھا لیکن یہ وطن یعنی اسرائیل فلسطینیوں کو بے وطن کرکے بنایا گیا۔

چونکہ اسرائیل کے قیام میں امریکا برطانیہ جیسے ملک پیش پیش تھے لہٰذا اقوام متحدہ یہودیوں کو آباد ہوتے اور فلسطینیوں کو برباد ہوتے دیکھتی رہی۔ کل تک یہودی بے وطن تھے آج فلسطینیوں کو بے وطن کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اسرائیل نے عرب ملکوں سے جنگ میں عربوں کے بڑے علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے جس میں جولان کے پہاڑی علاقے شامل ہیں یہی نہیں بلکہ اسرائیل جب چاہتا ہے فلسطینیوں کا قتل عام کرتا ہے ۔اس ظلم کے خلاف جب اقوام متحدہ میں فریاد کی جاتی ہے تو امریکا اس قسم کی قراردادوں کو ویٹو کردیتا ہے۔

امریکا کے مسلسل ویٹو کی وجہ سے اور بڑی طاقتوں کی اسرائیلی حمایت کی وجہ سے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ 71 سالوں میں حل نہ کرسکی۔ فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کے خلاف کوئی قرارداد پیش کی جاتی ہے تو امریکا اسے ویٹو کردیتا ہے اس لیے اقوام متحدہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کو نہیں روک سکتی، کیا حضرت ٹرمپ کی سمجھ میں آیا کہ اقوام متحدہ دنیا کے مسائل حل کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

امریکا نے عالمی اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عراق پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا یہ ایک کھلی جارحیت تھی لیکن اقوام متحدہ اس جارحیت کو اس لیے نہ روک سکی کہ جارح ملک امریکا تھا، امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کے نام پر بندوق کی نوک پر پاکستان کو اس مہم میں شامل کیا اس ظلم کو اقوام متحدہ اس لیے نہ روک سکی کہ ظلم کرنے والا امریکا تھا۔

کشمیر کا مسئلہ 71 سال سے سلگ رہا ہے۔ کشمیر میں اب تک بھارتی فوج کے ہاتھوں 70 ہزار کشمیری مارے جا چکے ہیں اور ہر روز مارے جا رہے ہیں۔ 1947ء میں ہندوستان نے اپنی فوج کشمیر بھیج کر قبضہ کر لیا۔ اقوام متحدہ اس سانحے پر اس لیے خاموش رہی کہ بھارت کو امریکا کی حمایت حاصل تھی۔ کشمیر کشمیریوں کا ہے، کشمیریوں کو ملنا چاہیے لیکن امریکا 70 ہزار کشمیریوں کو قتل ہوتا دیکھتا رہا لیکن اس قتل عام کو نہیں رکوا سکا کہ بھارت سے اس کے سیاسی مفادات وابستہ ہیں۔

امریکا، چین کو اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے، بھارت کے چین کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔ چین سے اگر خدانخواستہ امریکا کی کوئی مڈبھیڑ ہوتی ہے تو امریکا بھارت کو استعمال کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ کشمیر کے مسئلے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ امریکا کی حمایت کی وجہ سے مسئلہ کشمیر آج تک حل نہ ہو سکا، کیا ٹرمپ کی سمجھ میں آئے گا کہ اقوام متحدہ عالمی مسائل حل کرنے میں کیوں ناکام ہے اور اپنی صلاحیتیں کیوں استعمال نہیں کر پاتی؟

اقوام متحدہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ایجنٹ بنی ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر دنیا کے ملکوں کے زیر نگرانی ایک نئی اقوام متحدہ بنانے کی ضرورت ہے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے دباؤ سے آزاد ہو اور جس کا صدر دفترکسی ایشیائی ملک میں قائم کیا جائے، اگر ایسا ہوا تو ٹرمپ کو یہ کہنا نہیں پڑے گا کہ اقوام متحدہ ناکام ہوگئی ہے۔

ظہیراختربیدری

اپنا تبصرہ بھیجیں