بھولے عوام، بدتر حکمران اور ریڈیو پاکستان

نئے الیکشن ‘ ایم این ایز کے حلف‘ وزیراعظم کے چنائو‘ صدر کے انتخاب اورصدر کی تقریر کے بعد قومی اسمبلی کا یہ پہلا اجلاس تھا ۔ شہباز شریف کو نئی حکومت کو لتاڑتے ہوئے پانچ برس پہلے کا دن یاد آیا جب عمران خان‘ وزیراعظم نواز شریف کو لتاڑرہے تھے۔ وہی ملتے جلتے الزامات ۔

جس دن عمران خان کو ہاؤس میں ہونا چاہیے تھا وہ موجود نہیں تھے۔ اچھی بات یہ تھی کہ وزیر موجود تھے۔ ماضی میں نواز شریف خود پارلیمنٹ آتے اور نہ ہی ان کے وزیر ۔ نواز شریف تو آٹھ ماہ تک پارلیمنٹ نہیں آئے تھے۔ جس دن پارلیمنٹ آنا ہوتا ‘ اس سے چوبیس گھنٹے پہلے سب ٹی وی چینلز کو یہ خبر بریک کی جاتی تھی کہ بادشاہ سلامت پارلیمنٹ تشریف لائیں گے۔

یوں یہ بھی بڑی خبر بنتی کہ ملک کا وزیراعظم آج پارلیمنٹ جائے گا۔ عمران خان کا بھی مزاج یہی رہا ہے۔ وہ بھی پارلیمنٹ پچھلے پانچ برس نہیں آئے۔ جس دن منی بجٹ پر بحث شروع ہونی تھی اور شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر تقریر کرنی تھی ‘عمران خان ہاؤس میں نہیں آئے۔لیکن اس دن ہاؤس میں یہ نئی ترمیم ضرور آئی کہ عمران خان ہر سیشن میں بدھ کے روزارکان کے سوالات کے خود جوابات دیا کریں گے۔

شہباز شریف اور اسد عمر کی تقریریں سن کر احساس ہوا کہ پاکستان میں اتنی خبریں روزانہ بنتی ہیں کہ شام تک بندہ بھول جاتا ہے دن کس بڑی خبر سے شروع ہوا تھا۔ اربوں کھربوں کے نقصانات کا ذکر ایسے کیا جاتا ہے جیسے چند ہزار روپے تھے جو ضائع ہو گئے۔ ہم بڑی خبر سن کر ایک لمحے کے لیے تھوڑی سی حیرت کا اظہار کرتے ہیں لیکن دوسرے لمحے دنیا میں گم ۔

ویسے داد بنتی ہے شہباز شریف کی‘ جنہوں نے پاکستان کی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ اگر ایک ماہ پرانی حکومت پر ڈال دیا تو اسد عمر کی تعریف بھی بنتی ہے کہ انہوں نے بھی اپنی وزارت فنانس کے ایشوز پر تقریر کو چھوڑ کر مسئلہ کشمیر پر ایک دھواں دھار تقریر کر ڈالی ۔

ان کی نئے ٹیکسوں کی وضاحت پر اتنی تالیاں نہیں بجیں جتنی کشمیر پر بھارت کو سبق سکھانے کی تقریر پر بجیں ۔ اسد عمر کا اندازہ درست نکلا‘ لوگوں کی جیب سے 183 ارب روپے کے نئے ٹیکس نکلوانے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ قوم کو کشمیر کی طرف لگایا جائے۔

خیر جب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور اسد عمر کے درمیان تقریری مقابلہ جاری تھا تو اس دوران پندرہ منٹ کا وقفہ ہوا تو عامر متین‘ نصرت جاوید اور میں پارلیمنٹ کیفے میں کافی‘ چائے پینے جا بیٹھے۔

اشتہار


نصرت جاوید کمال آدمی ہیں ۔ دوست انہیں شاہ جی کہتے ہیں۔ شاہ جی اگر موڈ میں ہوں تو کیا خوبصورت گفتگو کرتے ہیں ۔ موڈ خراب ہو تو پھر اگلے کی دھلائی بھی شاندار کرتے ہیں ۔ سیاست اور سیاستدانوں ‘ہر ایک کے بارے انہیں کچھ نہ کچھ پتہ ہے۔

اس شہر میں وہ ستر ‘اسی کی دہائی میں آئے تھے۔ ان کے سامنے ہی کتنے وزیراعظم‘ فوجی آمر ابھرے اور ڈوب گئے۔ اب انہیں کوئی بات نئی نہیں لگتی۔ میں ان پر رشک کرتا ہوں۔ وہ ہماری طرح جذبات کا شکار ہوئے بغیر” جیسے ہے جہاں ہے‘‘ کی بنیاد پر سیاسی تجزیہ کرسکتے ہیں ۔ نصرت جاوید کو عامر متین اور میرے والی بیماری نہیں لگی جسے ہم سیاسی آئیڈیلزم کہتے ہیں ۔

اگر شاہ جی کا موڈ خراب ہو تو بہتر ہے باتیں چپ کر کے سن لیں ورنہ بہت ڈانٹ پڑتی ہے۔اوپر سے عامر متین کو تڑکا لگانا آتا ہے۔ دونوں روایتی لاہوری ہیں ۔نصرت جاوید اور عامر متین کے درمیان جب جملوں کاتبادلہ ہورہا تھا تو میں لطف اٹھا رہا تھا ۔
عامر متین کہنے لگے: شاہ جی رؤف کا خیال ہے ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ خالی کرانے کے پیچھے یہ مقصد ہے کہ شاہراہ پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کے افتتاح کے بعد شاید وکیلوں کو چیمبر بنانے کے لیے دے دی جائے۔ وکیلوں کے چیمبرز کے لیے اس سے بہتر جگہ کیا ہوسکتی ہے اور ریڈیو پاکستان کو کسی ڈربے میں بند کر دیا جائے۔ (بعد میں مجھے ایک سورس نے بتایا کہ دبئی سے ایک ٹی وی چینل کا مالک پہلے ہی عمران خان سے ملاقات کے بعد ریڈیو پاکستان کی عمارت کا دورہ کر بھی چکا ہے اور ڈیل ہونے والی ہے )۔

نصرت جاوید کو عامر متین نے بتایا کہ پارلیمنٹ والی اس ایک ڈیڑھ کلومیٹر روڈ پر جہاں پہلے ہی سپریم کورٹ‘ قومی اسمبلی‘ سینیٹ ‘ ڈپلومیٹک انکلیو‘ فارن آفس ‘ سپریم کورٹ‘ آڈیٹر جنرل‘ ایف بی آر‘ ایوان صدر‘ کابینہ ڈویژن‘ پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر‘ وزیراعظم ہاؤس اور وفاقی سیکرٹریٹ واقع ہیں ‘ اب اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی بلڈنگ بھی تعمیر کی جارہی ہے۔

نصرت جاوید کچھ سنجیدہ ہوئے اور بولے: ویسے یہ اتنی غلط تھیوری بھی نہیں ہوسکتی ۔ پھر کہنے لگے: اس روڈ پر جہاں سے پورے ملک پر حکومت کی جاتی ہے‘ جلد سینکڑوں کی تعداد میں وکلاء کے چیمبرز بنیں گے۔ ہزاروں سائل ہوں گے۔

پہلے چیمبرز پھر یہاں چائے کے کھوکھے کھلنا شروع ہوں گے‘ پھر کھانے کے ڈھابے کھلیں گے۔ عامر متین ہنس کر بولے: اور شام کو جاتے ہوئے وہ چیمبرز کی چیزوں کو لوہے کی طویل چین سے باندھ کر جائیں گے۔ وہی حال ہوگا اس جگہ کا جو اس وقت اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹس کا ہوچکا ہے۔

وہاں جائیں تو لگتا ہے عجیب سی دنیا میں آپ داخل ہوچکے ہیں۔ عامر متین کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ کی کیا ضرورت آن پڑی تھی؟ چند کلومیٹر کے فاصلے پر پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ کا پنڈی بینچ موجود ہے ۔

مجھے اپنے پروگرام پروڈیوسر کی بات یاد آئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیادہ تر دو ہی کام ہوتے ہیں‘ سرکاری ملازمین کے کیسز سنیں ‘جن کی پروموشن یا پوسٹنگ کے ایشوز ہیں یا پھر وہ سٹے آرڈر دے دیں ۔ سروس معاملات کے لیے پہلے ہی سروس ٹربیونلز کام کررہے ہیں تو پھر کیا ضرورت تھی؟

نصرت جاوید کچھ حیران تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی بلڈنگ بالکل سپریم کورٹ کے سامنے تعمیر کرنے سے یہاں رش بڑھنے والا ہے۔ پہلے ہی سپریم کورٹ کی پارکنگ میں جگہ نہیں ملتی۔ پارلیمنٹ میں نہیں ملتی۔ صبح سویرے ہزاروں سرکاری ملازمین جارہے ہوتے ہیں‘ وہیں وکلا بھی سپریم کورٹ پہنچتے ہیں۔ اب اسلام آباد ہائی کورٹ کو وہاں شفٹ کرنے سے نیا شغل ہوگا ۔

لوگوں کو اندازہ نہیں اسلام آباد کتنی بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ اس شہر کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صرف اسلام آباد میں 120سے زائد تو ہاؤسنگ سوسائٹیز بن چکی ہیں ۔ کچھ سال پہلے شہر کی سڑکیں خالی ملتی تھیں ۔ اب ہر شاہراہ پر ٹریفک جام ہونا شروع ہوگیا ہے۔

سی ڈی اے سمیت کسی ادارے کو پروا نہیں ۔ یہ شہر جو پورے ملک پر حکومت کرتا ہے ‘دراصل یتیم ہے کیونکہ یہاں کے ایم این ایز اسد عمر کی طرح یہاں سے تعلق نہیں رکھتے اور اکثر سینیٹرز بھی باہر سے لائے جاتے رہے ہیں۔ نہ یہاں کا بیوروکریٹ اس شہر کو اپنا سمجھتا ہے اور نہ ہی سیاستدان ۔

اشتہار


یہ خوبصورت شہر دھیرے دھیرے دم توڑ رہا ہے۔ ہر طرف گندگی ہے۔ یہ اب لاہور اور کراچی طرز کا شہر بنتا جارہا ہے۔ خبیر پختونخوا اور سرائیکی علاقوں سے غریب اور بیروزگار اس شہر کا رخ کررہے ہیں‘بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے قریب ہونے کی وجہ سے ان علاقوں سے زیادہ تعداد میں لوگ نوکریوں کی تلاش میں پنڈی‘ اسلام آباد سیٹل ہورہے ہیں۔

یوں اس شہر پر آبادی کا دبائو بڑھ گیا ہے۔ حکمرانوں اور بابوز نے ہمیشہ کی طرح اپنے لیے اچھی اچھی رہائش اور پروٹوکول رکھ کر باقی شہر کو اپنی مدد آپ پر چھوڑ دیا ہے۔

اگلے دس برسوں میں اسلام آباد کی آبادی تیس لاکھ ہوچکی ہوگی اور بیس برس بعد چالیس لاکھ ۔ پھر یہ شہر نہیں سنبھالا جائے گا ۔ بیس سالوں میں ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ جو سیاستدان اس شہر پر حکمرانی کرنے کا خواب دیکھتے ہیں وہ اس شہر کو خود قتل کرتے ہیں۔

اسد عمر اور شہباز شریف کے درمیان جاری مقابلے میں ایک بات سمجھ آئی کہ ہر حکمران اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی پہلے سے بدترین حالت میں چھوڑ کر جاتا ہے اور اپنا جرم ماننے سے بھی انکاری ہوتا ہے ۔ قصور آخر میں عوام کا ہی نکلتا ہے جو حکمرانوں کے خاندان کے کاروباری فوائد‘ کاروباری دوستوں‘ سرکاری بابوز کی نااہلی اور کرپشن کا ہرجانہ بھاری ٹیکسوں کی شکل میں جرمانے ادا کرتے رہتے ہیں اور مزے کی بات ہے یہی عوام خوش بھی رہتے ہیں۔

تاہم اس کے بدلے بھولے عوام کی بھی ایک شرط ہے۔ اربوں روپے کے نت نئے ٹیکس لگانے والے حکمران ‘ اعلیٰ عہدوں پر حکمرانوں کے فائز ذاتی دوستوں اور ملازموں میں وزارتوں کی بندر بانٹ اور مال بٹورنے والے سب حواری ہر پانچ سال بعد عوام کی مرضی کے ہونے ۔

بشکریہ: روزنامہ دنیا

اپنا تبصرہ بھیجیں