کوٹ لکھپت جیل میں سپرنٹنڈنٹ کی ملی بھگت سے رشوت ستانی کا انکشاف

صوبائی وزیرجیل خانہ جات زوارحسین نے انکشاف کیا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں ناقص انتظامات کے علاوہ سپریٹنڈنٹ کی ملی بھگت سے رشوت ستانی ہوتی ہے۔

صوبائی وزیرجیل خانہ جات زوار حسین نے کوٹ لکھپت جیل سے متعلق اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو بھجوا دی ہے۔ رپورٹ میں صوبائی وزیرجیل خانہ جات نے انکشاف کیا ہے کہ جیل میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کے علاوہ سپرنٹنڈنٹ جیل کی ملی بھگت سے رشوت ستانی بھی جاری ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جیل میں قیدیوں کو ادویات کی قلت کا بھی سامنا ہے، جب کہ قیدیوں کے لئے بنائی جانے والی روٹی کا پیڑا 150 گرام تھا جس کا قانون کے مطابق وزن 200 گرام ہوناچاہیے۔ اور قیدیوں نے بتایا کہ انہیں 3 ٹائم کے کھانے میں سبزی کی بجائے صرف آلو دئیے جاتےہیں۔

زوارحسین وڑائچ کے مطابق انہوں نے مشاہدہ کیا کہ موبائل فون سروس رات 2 بج کر 55 منٹ پر چلرہی تھی جبکہ قانوناً موبائل سروس جیل میں 24 گھنٹے بند رہنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں