Naveed-Mukhtar

ڈی جی آئی ایس آئی سمیت 5 جنرلز کی مدت ملازمت کا آج آخری روز

اسلام آباد: انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل نوید مختار سمیت پاک فوج کے 5 تھری اسٹار جنرلز کل (یکم اکتوبر) کو اپنے عہدوں سے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔

آئی ایس آئی سربراہ لفٹننٹ جنرل نوید مختار کے علاوہ جو افسران یکم اکتبور کو ریٹائرڈ ہوں گے ان میں کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ، آرمی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ (اے ایس ایف سی) کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل میاں محمد ہلال حسین، جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ملٹری سیکریٹری لیفٹننٹ جنرل غیور محمود اور انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایوالوایشن جی ایچ کیو، لیفٹننٹ جنرل ہدایت الرحمٰن شامل ہیں۔

پاک فوج کے ان افسران کی مدت ملازمت کی بات کی جائے تو لیفٹننٹ جنرل نوید مختار نے 1983 میں آرمڈ کوپس ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئقہ، نیشنل ڈیفنس یونورسٹی (این ڈی یو) اسلام آباد اور یونائیٹڈ اسٹیٹس آرمی وار کالج سے گریجویٹ کیا۔

انہوں نے میکنائزڈ ڈویژن کی کمانڈ کی اور لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی سے قبل وہ ڈائریکٹر جنرل آف رینجرز بھی رہے، اس کے بعد ستمبر 2014 میں انہیں کور کمانڈر کراچی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

انہوں نے بطور کو کمانڈر کراچی 7 دسمبر 2016 تک فرائض انجام دیے اس کے بعد انہیں ملک کی سب سے اعلیٰ خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی خدمات انجام دینے کے لیے اسلام آباد منتقل کردیا گیا اور 11 دسمبر 2016 سے وہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرر ہوئے۔

لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے 1983 میں فرنٹیئر فورس ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور این ڈی یو اسلام آباد سے گریجویٹ کیا۔

انہوں نے وزیر اعظم کے فوجی سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور امریکا میں پاکستان ڈیفنس اٹاچی بھی رہے۔

اس کے علاوہ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں کمانڈنٹ بھی رہے اور فیڈرل ایڈمنسٹریٹو ٹرائبل ایجنسیز میں انفینٹری ڈویژن کی کمانڈ بھی کی، اس کے بعد دسمبر 2016 میں پشاور کے کور کمانڈر کے طور پر ان کا تقرر کیا گیا۔

اسی طرح لیفٹننٹ جنرل ہدایت الرحمٰن کی بات کی جائے تو انہوں نے بھی 1983 میں آزاد کشمیر ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، این ڈی یو اسلام آباد سے گریجویٹ کیا، بعد ازاں وہاں چیف انسٹرکٹر کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔

لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی سے قبل انہوں نے اینفنٹری ڈویژن کی کمانڈ بھی کی جبکہ انہیں گلگلت بلتستان سے تعلق رکھنے والے پہلے لیفٹننٹ جنرل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

لیفٹننٹ جنرل میاں محمد ہلال حسین کی بات کریں تو انہوں نے 1982 میں آرٹلری میں کمیشن حاصل کیا اور ستمبر 2015 میں آرمی اسٹریٹجک فورس کمانڈ کے کمانڈر کے طور پر ان کا تقرر ہوا۔

انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ کیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کے فوجی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور صدر مملکت کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے۔

اس کے علاوہ جی ایچ کیو میں ڈی جی ملٹری ٹریننگ اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز پنجاب کے طور پر تعیناتی سے قبل انہوں نے فاٹا میں انفینٹری بریگیڈ کی کمانڈ بھی کی۔

پاک فوج کے لیفٹننٹ جنرل غیور محمود نے 1982 میں فرنٹیئر فورس ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور این ڈی یو سے گریجویٹ کیا۔

انہوں نے فاٹا میں انفینٹری ڈویژن کی کمانڈ کی جبکہ وہ آئی جی ایف سی اور وائس چیف آف جنرل اسٹاف بھی رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں