انصاف ہی زندگی ہے

گزشتہ صدی کی تیسری دہائی سے لے کر جب ترکی کی خلافت ختم ہوئی تب سے لے کر آج تک مسلمان کسی خلیفہ کی تلاش میں ہیں ۔ مسلمانوں کو جو تاریخ ورثہ میں ملی ہے اس میں حکمران خلیفہ کا وجود دکھائی دیتا ہے بلکہ مسلمان صرف اسی حکومت کو اسلامی حکومت سمجھتے ہیں جس کا سربراہ کوئی خلیفہ ہو خواہ یہ خلیفہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو ۔صدر اور وزیر اعظم کی اصطلاحیں یورپ سے آئی ہیں، وہی صلیبی جنگوں والا یورپ جس کی طرف سے ان جنگوں کا انتقام اب تک جاری ہے ۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے پوچھا گیا کہ دشمن کی موت کے بعد جس کے لیے یہ فوجی تنظیم قائم ہوئی تھی اب اس کا کیا جواز ہے کہ اسے باقی رکھا جائے ۔سیکریٹری جنرل نے جواب دیا کہ ابھی اسلام باقی ہے ۔ یہ یورپ کے سب سے بڑے فوجی اتحاد کی مسلمان دشمن پالیسی ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔

بات خلافت کی ہو رہی تھی مسلمانوں کی آخری عثمانی خلافت یہودیوں اور عیسائیوں کی مشترکہ سازش سے ختم کی گئی ۔ گئے گزرے آخری خلیفہ نے یہودیوں کے ہاتھوں فلسطین کی زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ عالم اسلام کے اتحاد کی علامت تھا اور مسلمانوں کی زمین کا کوئی بھی حصہ کسی دشمن کے ہاتھ فروخت نہیں کر سکتا تھا ۔

آخری عباسی خلیفہ جس نے بغداد سے بھاگ کر مصر میں عملاً پناہ لی تھی لیکن خلافت کا بھرم پھر بھی قائم رکھا تھا ۔ ترکی کے سلطان سلیمان عالیشان نے اس سے خلافت کی سند حاصل کی اور وہ تبرکات بھی ساتھ لے آیا جو آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین سے منسوب تھے ۔ یہ تبرکات آج بھی استنبول کے توپ کاپی محل کے عجائب خانے میں محفوظ ہیں۔ عثمانی خلفاء اپنی وسیع و عریض سلطنت اور بحر و بر کی ناقابل شکست طاقت پر نہیں ان تبرکات پر فخر کیا کرتے تھے ۔

اشتہار


میں ایک شکست خوردہ مسلمان بات کہیں سے شروع کرتا ہوں اور کہیں اور چلا جاتا ہوں ۔ میں اپنے عظیم ماضی کی گمشدہ یادوں کو تازہ کرتا ہوں اور پھر ان میں کھو جاتا ہوں ۔ میرا ماضی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا شائد اس لیے کہ وہ ایک زندہ و تابندہ ماضی ہے جس پر مسلمان آج بھی فخر کرتے ہیں ۔ میں شاید ان پاگل مسلمانوں کی نسل سے ہوں جن کو اپنی گمشدہ ماضی کی عظمتیں ابھی بھی رلا دیتی ہیں اور مجھے بار بار اپنے ماضی میں لے جاتی ہے۔ اس سے فرار ممکن نہیں اور کم از کم میرے جیسے شخص کے لیے تو بالکل بھی ممکن نہیں جس کی زندگی اسی سہارے سے شروع ہوئی اور اسی سہارے گزر رہی ہے اور اس کا اختتام بھی اسی پر ہو گا۔

خلافت کے ذکر سے دراصل میں ایک اور ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں خلافت کا منصب ہوا کرتا تھا وہاں قاضی القضاۃ کی ایک مسند بھی آراستہ ہوتی تھی۔ عدالت جو اسلام کی بنیاد اور اس کی قوت کا سر چشمہ ہے ۔ عامتہ المسلمین کو ہی نہیں اسلامی ریاست کے غیر مسلموں کو بھی یقین ہوتا تھا کہ ان کے ساتھ جب کوئی زیادتی ہو گی تو وہ قاضی کے پاس پہنچ جائیں گے اور انصاف لے کر لوٹیں گے۔

عدل و انصاف اور قانون کی مساوات کا تصور قرآن سے ملا اور سرور کونین ﷺ نے اس میںغیر معمولی استحکام پیدا کر دیا جو بعد میں بھی طویل مدتوں صدیوں تک باقی رہا۔ ایک وقت میں جاسوسوں نے عثمانی خلیفہ کو رپورٹ دی کہ فلاں علاقے میں بغاوت کا خطرہ ہے ۔خلیفہ نے پوچھا یہ بتائو وہاں کے قاضیوں اور منصفوں کا کیا حال ہے ۔بتایا گیا وہ صحیح کام کر رہے ہیں خلیفہ نے کہا بے فکر رہیں وہاں بغاوت نہیں ہو گی ۔یعنی ان کو اسلام کے انصاف پر اتنا یقین تھا کہ اگر انصاف صحیح ہو رہا ہے تو رعایا مطمئن ہو گی اور کسی کے بہکاوے میں نہیں آئے گی۔

آج یہاں پاکستان میں جب قریب قریب ہر ادارہ زوال پذیر ہے، جو خبریں موصول ہو رہی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری عدلیہ ایک جزیرہ بنی ہوئی ہے اور انصاف عام کر رہی ہے ۔اگرچہ بعض اوقات عدلیہ کے بعض ارکان زیادہ حساس ہو جاتے ہیں اور اس طرح شاید کچھ تجاوز بھی ہو جاتا ہے لیکن میں نے توہین عدالت کی نوعیت کے بعض مقدمات میں دیکھا کہ عدلیہ نے نرم رویہ اختیار کیا اور مصالحت کو ترجیح دی ۔ ویسے توہین عدالت شاید اسلام میں نہیں ہے۔ عدالت قانون سے نہیں انصاف کے وصف سے اپنا احترام کراتی ہے ۔

بہرکیف ہماری عدلیہ کے ارکان بڑی جوانمردی کے ساتھ قانون کی حفاظت کر رہے ہیں اور انھوں نے اپنے اوپر قانون کا احترام لازم قرار دے لیا ہے ۔ جب میں عدلیہ کا یہ بلند مرتبت اور قابل رشک کردار دیکھتا ہوں تو میرا جی چاہتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو میں قاضی القضاۃ کہا کروں ۔ کوئی خلیفہ نہ سہی صدر اور وزیر اعظم ہی سہی لیکن عدالت عظمیٰ اپنے سربراہ کی معیت میں تاریخ رقم کر رہی ہے اور ہم سب یہ تاریخ بنتی دیکھ رہے ہیں ۔

عدالت کے پاس قلم اور ایک قانون اور آئین کی کتاب ہے اس کے فیصلوں کا نفاذ انتظامیہ کا فرض ہے لیکن شکر ہے کہ عدالت کا ہر فیصلہ نافذ ہو رہا ہے ۔ہم پاکستانیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عدالت کی طاقت عوام کے عدلیہ پر اعتماد اور عوام کی حمایت میں مضمر ہے ۔ اس سے عدلیہ کے ارکان کو حوصلہ ملتا ہے اور انصاف کرنے میں انھیں زیادہ قربانی نہیں دینی پڑتی ۔ جب تک انصاف باقی ہے اس قوم کا ملک پر اعتماد باقی رہے گا۔