چیف جسٹس بنام ایف آئی اے، نیب

چیف جسٹس، جناب جسٹس ثاقب نثار نے جمعہ کے روز نیب کی بدترین کارکردگی اور اس کے نااہل افسران کے بارے میں جو سخت ریمارکس دیے، ان کے پیچھے پوری ایک کہانی بلکہ فلم ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے نیب کے معیار اور تفتیش پر کڑی تنقید کی، جو درست ہے۔ نیب نے اس ملک کو ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اہم عہدوں پر بیٹھے افسران کا اس میں بڑا ہاتھ ہے۔ نیب اور ایف آئی اے، دونوں ادارے ایسے ہیں جنہوں نے کرپٹ اور کرپشن، دونوں کو فروغ دیا ہے۔ ان اداروں کو سپریم کورٹ سے بھی ڈر تک نہیں لگتا۔ ایف آئی اے بھی وہ کام کر رہی ہے کہ بندے کو حیرت ہوتی ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ نیب کی صرف آنیاں جانیاں دیکھتے جائیں، کام کچھ نہیں کرتے۔

میرے سامنے ایک سرکاری فائل موجود ہے، جس میں ایسی مستند دستاویزات ہیں، جنہیں پڑھ کر میں حیرت زدہ ہوں کہ ایف آئی اے اور نیب اس ملک کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب اگر یہ فائل پڑھ لیں تو انہیں بھی اندازہ ہو گا کہ یہ آنیاں جانیاں اس وقت ہوتی ہیں، جب نیب اور ایف آئی اے یا نادرا نے مل کر اپنے کسی بڑے افسر کو بچانا ہو۔ اس سرکاری فائل کے مطابق دو ہزار چودہ میں نادرا کی شکایت پر سابق چیئرمین امتیاز تاجور کے خلاف ایف آئی اے نے ایک ایف آئی آر درج کی۔ جب ایف آئی آر درج ہوئی اس وقت امتیاز تاجور نادرا سے تبدیل ہو کر ڈپٹی چیئرمین نیب اسلام آباد لگ چکے تھے۔ اس ایف آئی آر میں بہت سے سنگین الزامات امتیاز تاجور پر لگائے گئے کہ انہوں نے چیئرمین نادرا ہو کر ساٹھ لاکھ روپے سے خاندان سمیت عمرے کی ٹکٹیں خریدیں، بیوی بچوں کے امریکی ویزے کی فیس نادرا بجٹ سے ادا کی، نئے مہنگے موبائل فون خریدے، لیپ ٹاپس، ٹیلی فون کارڈز کے علاوہ گھر کی آرائش، صدقے کے بکرے بھی نادرا کے پیسوں سے خریدے گئے۔ لاکھوں روپے سے ڈرائی فروٹ خریدے گئے۔ کل ساٹھ لاکھ روپے سے زیادہ اخراجات کئے گئے جو ذاتی نوعیت کے تھے۔ ایف آئی اے نے اس ایف آئی آر میں جو دفعات لگائیں ان میں دفعہ 409 بھی شامل تھی۔ اس دفعہ کے تحت سرکاری ملازم نے اس پیسے اور جائیداد کے ساتھ فراڈ کیا جو اس کی نگرانی میں تھی۔ اس نے ملک اور قوم کو مجرمانہ دھوکہ دیا۔ سزا عمر قید ہے۔ جبکہ دفعہ 109 بھی لگائی گئی۔ یہ وہ شق ہے، جس کے تحت بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔

جونہی یہ ایف آئی آر درج ہوئی، بڑے بڑے لوگ ملزم امتیاز تاجور کو بچانے کیلئے میدان میں کود پڑے۔ پہلے تو نادرا کو سنبھالا گیا اور فوری طور پر انہیں کہا گیا کون سا آسمان گر پڑا ہے؟ چیئرمین عثمان مبین نے بھی مہربانی فرمائی۔ یوں امتیاز تاجور نے فوری طور پر دس لاکھ روپے نادرا کو جمع کرا دیے۔ اس کے بعد ایف آئی اے میں انکوائری کا فریضہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کاکڑ نامی ایک افسر کو سونپ دیا، جو خود پشاور میں چار ارب روپے کے اسلحہ سکینڈل میں ملوث تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایف آئی اے کا افسر خود نیب کے ساتھ ساٹھ لاکھ روپے کی پلی بارگین کرکے چھوٹا تھا، اور اُس وقت ایف آئی اے کا ڈائریکٹر امیگریشن ایئرپورٹ تھا، جو سب سے زیادہ پیسے کمانے والی سیٹ سمجھی جاتی ہے۔

اب سوال یہ تھا کہ نیب کے ڈپٹی چیئرمین امتیاز تاجور، جن پر انکوائری میں تمام الزامات ثابت ہو چکے تھے، کو کیسے عمر قید سے بچایا جائے؟ اس دوران پتہ چلا امتیاز تاجور نے نادرا کی عمارت کرائے پر لینے میں بھی کافی گھپلے کئے اور پھر نادرا کی عمارت کرائے پر لینے کے حوالے سے بھی ان پر سنگین الزامات لگے۔ اس سے پہلے انکوائری نمبر RE 2016 کے دوران انکشاف ہوا کہ معاملہ صرف کرائے کی عمارت میں مال بنانے کا نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ساٹھ لاکھ روپے کے ذاتی اخراجات بھی امتیاز تاجور نے کئے تھے۔ انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ دراصل امتیاز تاجور نے وہ رقم خورد برد کر لی تھی۔ امتیاز تاجور کے ساتھ ساتھ طاہر اکرم اور عامر حیات خان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی کہ انہوں نے امتیاز تاجور کی ان تمام فراڈز میں مدد کی تھی۔ امتیاز تاجور اور باقی ملزمان نے فوری طور پر ضمانت کرا لی۔ ایف آئی اے نے لیٹر نمبر FIA/CCC/ISB/RE-34/2016/1302 مورخہ نومبر دو ہزار سترہ کو نادرا کو بھیجا۔ اس کے جواب میں نادرا نے امتیاز تاجور کے ان تمام اخراجات کی تفصیل بھیجی جو انہوں نے سرکاری فنڈز سے نکال کر اپنی ذات اور اپنے خاندان پر خرچ کیے تھے، جن میں عمرے کی ٹکٹیں، ویزے کی ادائیگی، امریکی ویزا فیس، بکرے کے صدقے سب کچھ شامل تھے۔

اشتہار


مزے کی بات یہ ہے کہ چیئرمین کے پاس اپنا فون ہوتا ہے جس کی ادائیگی سرکاری بجٹ سے ہوتی ہے لیکن سرکاری دستاویزات کے مطابق چیئرمین کے حکم پر ہزاروں روپے کے کالنگ کارڈز خریدے گئے، ہزاروں روپوں کی دوائیاں بھی خریدی گئیں، صدقے کے بکرے نادرا کے بجٹ سے خریدے گئے، جوتوں کے لیے پیسے بھی نادرا نے دیے، امتیاز تاجور نے اسلام آباد کلب کھانا کھایا تو بھی بل نادرا نے ادا کیا، کھیل کا سامان خریدنا تھا تو بھی امتیاز تاجور نے نادرا کی جیب پر ڈاکہ مارا، بچوں کی کتابیں بھی نادرا نے خرید کر دیں۔ نادرا نے نیب کو لکھا کہ وہ امتیاز تاجور کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ یہ ایک سنگین جرم ہے کہ آپ سرکاری فنڈز سے گھر کے اخراجات اور دیگر عیاشیاں پوری کریں۔ جب ایف آئی اے کا مقدمہ درج ہو چکا اور امتیاز تاجور کو پتہ چلا کہ اب وہ کہیں نہیں بھاگ سکتے تو انہوں نے ایف آئی اے اور نادرا کے ساتھ ایک ٖڈیل کی۔ امتیاز تاجور نے اپنا جرم قبول کیا کہ جو بھی اخراجات انہوں نے سرکاری پیسے سے کیے تھے، جن میں اپنے اور خاندان کے لیے عمرے کے ٹکٹ شامل بھی تھے، سب کچھ غیر قانونی تھا اور وہ یہ سب پیسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ نادرا اور ایف آئی اے نے نیب کے ڈپٹی چیئرمین امتیاز تاجور سے ایک پلی بارگین کی تاکہ انہیں عمر قید کی سزا نہ ہو۔ اپنا جرم مانتے ہوئے امتیاز تاجور نے نادرا کے پاس پیسے جمع کرا دیے۔ یوں ایف آئی اے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا کہ اس نے عدالت کو لکھ کر دیا کہ امتیاز تاجور کے خلاف مقدمے کو ختم کر دیا جائے، کیونکہ ملزم نے وہ سب پیسے واپس کر دیے ہیں۔

ایف آئی اے کے کسی قانون میں نہیں لکھا کہ جب کسی افسر کے خلاف ایف آئی آر درج ہو کہ اس نے فراڈ کیا اور دھوکہ دیا ہے تو وہ پلی بارگین کے تحت ختم کر سکتے ہیں۔ جب ملزم نے اپنا جرم مان لیا تھا اور اس سے پیسوں کی ریکوری ہو گئی تھی تو پھر اس کو ایف آئی آر کے تحت عمر قید کی سزا بنتی تھی۔ لیکن ایف آئی اے، نادرا اور نیب حکام نے مل کر یہ سب کھیل کھیلا اور امتیاز تاجور کو بڑے آرام اور عزت کے ساتھ دوبارہ نیب کے دفتر چھوڑ کر آئے، اور وہ آج کل نیب میں بیٹھے انصاف کر رہے ہیں۔ یہ ہے پاکستان اور اس کا قانون۔ اب ذرا اندازہ کریں امتیاز تاجور کی جگہ ایک عام سرکاری ملازم پر ساٹھ لاکھ روپے سے ویزا فیسیں، بچوں کی فیسیں، بکرے کے صدقے، لاکھوں کے ڈرائی فروٹ کا بل، لاہور میں گھر کی تزئین و آرائش، کالنگ کارڈز سرکاری فنڈ سے خریدنے کا الزام ثابت ہو جاتا تو کیا نادرا کلیئرنس دے دیتا؟ نیب اسے دوبارہ ملازمت پر رکھ لیتا؟ یا پھر ایف آئی اے کے ڈی جی اتنے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے، جتنے بڑے دل کا مظاہرہ امتیاز تاجور کے کیس میں کیا گیا؟

یہ ملک بڑے لوگوں کے لیے بنا ہے۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار درست نیب پر برہم ہوتے ہیں، جہاں ڈپٹی چیئرمین امتیاز تاجور فراڈ ثابت ہونے اور جرم تسلیم کرنے کے باوجود ایف آئی اے اور نادرا سے کلیئرنس لے کر دوبارہ انصاف کے عہدے پر فائز ہو جاتا ہے۔ چیف جسٹس اگر چاہیں تو اس مقدمے کو دوبارہ کھولیں۔ وہ چیئرمین نادرا سے لے کر ڈی جی ایف آئی اے اور نیب کے امتیاز تاجور تک سب کے کردار کو ذرا قریب سے دیکھیں گے تو پتہ چلے گا اس ملک کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے ایک اہم بینک سے اپنی بیٹی کے لیے بی ایم ڈبلیو گاڑی کمرشل کی بجائے رعایتی ریٹ پر لیز کرانے کے لیے جو دبائو ہمارے امیتاز تاجور نے اپنے لاہور والے گھر بلا کر بینک افسران پر ڈالا، اس کی حیران کن دستاویزات پر مبنی کہانی پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں