Orya-Maqbool-Jan

تبدیلی اور خوشحالی کے جمہوری دعویدار

جمہوریت، جمہوری نظام اور آئین کی حکمرانی، ان تینوں کی وکالت سکہ رائج الوقت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر مولانا فضل الرحمن تک ہر ایک کی زبان پر اس کے تحفظ کے ترانے ہیں اور اس کی بالادستی اور تسلسل کے خواب ان کی آنکھوں میں بسیرا کئے ہوئے ہیں۔ کون ہے جو دنیا میں جمہوری نظام کی حمایت میں اپنی تمام صلاحیتیں صرف نہیں کررہا۔ صاحبان قلم کی تحریریں، اہل دانش کے تبصرے، اہل علم کے مقالے اور فقیہان ممبر و محراب کے فتوے سب کے سب اس سکہ رائج الوقت کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں۔ سیاست دان تو چونکہ اس عالمی طور پر مسلط کئے گئے نظام میں زندہ رہنا چاہتے ہیں، اس لیے یہ ان کی مجبوری ہے لیکن اہل علم و دانش اس نظام کے بارے میں دو حیران کن مغالطوں کا شکار ہیں۔ پہلا یہ کہ جمہوریت دراصل ایک ایسا نظام ہے جسے انسان نے پانچ ہزار سال ٹھوکریں کھا کر اپنے تجربے کی کوکھ سے جنم دیا ہے۔ جب سے انسان نے بستیاں آباد کرکے زندگی بسر کرنا شروع کی تو اس نے قبائلی زندگی سے لے کر بادشاہت تک لاتعداد سماجی منازل طے کیں اور بالآخر جمہوریت کو اپنے لیے بہترین پایا۔ دوسرا مغالطہ جدید دور کا سب سے بڑا سراب ہے وہ یہ کہ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی یا انقلاب جمہوریت کے ذریعے لایا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں منزل بے شک جدا ہو لیکن عمران خان کی ’’تبدیلی‘‘ اور سراج الحق صاحب کا ’’اسلامی انقلاب‘‘ ایک ہی راستے کے مسافر ہیں۔ ایک ہی جمہوری بس میں سفر کر رہے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ان دونوں کے پرچم اٹھانے والوں کو بھی یقین ہے کہ وہ اسی بس میں سوار ہو کر، اسی راستے کے مسافر بنتے ہوئے اپنی اپنی منزل حاصل کرلیں گے۔ دونوں کے انقلاب میں ایک لفظ ’’خوشحالی‘‘ مشترک ہے۔ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جدید دور کے مروجہ سرمایہ دارانہ نظام کی کوکھ سے جنم لینے اور اس نظام کی بالادستی و تحفظ کے لیے سرگرم جمہوریت اگر مستحکم ہو گئی تو ان کے پاس ایسے شاندار نسخے ہیں جن سے پاکستان دنوں میں خوشحال ہو جائے گا۔ حیران کن بات یہ بھی ہو چکی ہے۔ آہستہ آہستہ عمران خان پر شدت سے چڑھنے والے مذہبی رنگ نے ایسے لگتا ہے منزل میں بھی مماثلث پیدا کرنا شروع کردی ہے۔ یہ بحث کہ کیا اسلام یا پیغمبر اسلامؐ کی تعلیمات صرف اور صرف معاشی و معاشرتی خوشحالی کا پیغام لے کر آئیں تھیں، ایک طویل مضمون ہے۔ کیا سیدالانبیاء ﷺ نے مکہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ایسی تبدیلی کے خواب دکھائے تھے کہ اگر تم نے میری دعوت کو قبول کرلیا تو تم پر خوشحالی کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اللہ قرآن میں رسول رحمت سیدنا محمد ﷺ کو انبیاء کی دعوت کا ایک واضح اصول بیان فرماتا ہے: ’’اور ہم نے تجھ سے پہلے بہت سی امتوں کے ہاں رسول بھیجے، پھر ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں پکڑا تاکہ وہ عاجزی کریں، پھر کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہماری جانب سے ایسی سختی و تکلیف آئی تو وہ عاجزی کرتے۔ مگران کے دل سخت ہو گئے اور جو کام وہ پہلے سے کر رہے تھے شیطان نے انہیں مزید خوبصورت اور آراستہ کرکے دکھایا۔ پھر اس کے بعد جب وہ اس پیغام اور نصیحت کو بھول گئے جو رسول کے ذریعے ان تک پہنچائی گئی تھی تو پھر ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک وہ ان چیزوں پر بہت خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھیں۔ تو پھر ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا، تب وہ ناامید ہو کر رہ گئے۔‘‘ (الانعام: 42-44) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ایک سنت بیان کی ہے کہ وہ خوشحالی اور اشیاء کی فراوانی اس وقت بے شمار کردیتا ہے جب لوگ رسولوں کی دعوت سے انکار کرتے ہیں اور انہیں ان کے اس حال میں مست کردیتا ہے۔ انبیاء اور ان کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے والوں کا کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں رہا کہ اگر تم اس پیغام کو قبول کرلو گے تو تم پر معاشی، معاشرتی خوشحالی کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ آئو اس دین کی جانب تاکہ تمہاری دنیا باقی لوگوں سے زیادہ خوشحال ہو جائے۔ وہ تو اس دنیا کی کھیتی میں آخرت میں کاٹی جانے والی فصل کی بات کرتے تھے۔ دوسری جانب جمہوریت کو ’’تبدیلی‘‘ کاراستہ بتایا جاتا ہے۔ ایک ایسا نظام جس کی بنیاد ہی تبدیلی روکنے کے لیے رکھی گئی تھی، اسے تبدیلی کا علمبردار کہا جاتا ہے۔ 21 فروری 1848ء کو جرمن فلسفی کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے لندن سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس کا نام ’’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ تھا۔ اس وقت تک دنیا کے کسی ملک میں جمہوریت نام کی چڑیا نہیں چہچہاتی تھی۔

اشتہار


البتہ سرمایہ دارانہ نظام اور سودی معیشت اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی۔ دنیا بھر کی نوآبادیوں اور کالونیوں سے لوٹ مار کی دولت یورپ کے ممالک میں پہنچ چکی تھی۔ اس لوٹ مار کی وجہ سے ایک صنعتی انقلاب آ چکا تھا۔ ایک ایسا صنعتی انقلاب جس کی تصویر چارلس ڈکنز کے ناول ’’اولیورٹوسٹ‘‘ میں مکروہ ترین چائلڈ لیبر کی صورت نظر آتی ہے۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو دراصل کارل مارکس کی ان تعلیمات کی بنیاد پر لکھا گیا تھا کہ ان تمام صنعتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو اکٹھا ہو کر سرمایہ داروں کا تختہ الٹ کر مزدور کی حاکمیت قائم کردینا چاہیے اور مزدور کی یہ حاکمیت اور ڈکٹیٹر شپ 1917ء میں یورپ کے سب سے بڑے ملک روس میں قائم بھی کردی گئی۔ خوفزدہ سرمایہ دارانہ نظام اور سودی معیشت نے اس خطرے کو بہت پہلے سے بھانپ لیا تھا۔ انہیں معلوم تھا گزشتہ دو تین سو سال سے ایسی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ اسی لیے عوام کی حاکمیت اور لولی لنگڑی جمہوری نمائندگی کا آغاز امریکی آئین میں کردیا گیا تھا۔ لیکن کمیونزم کے اس طوفان نے تو ان کی نیندیں اڑا دیں اور یوں انتخاب، عوام کی حاکمیت اور جمہوری تبدیلی کے تصور کو مضبوط کردیا گیا۔ بقول اقبال ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب کبھی آدم ہوا ہے خودشناس و خود نگر پہلے دنیا کو قومی ریاستوں میں تقسیم کرکے رنگ، نسل اور علاقے کے تعصب میں تقسیم کیا اور دو عظیم جنگوں میں کروڑوں لوگوں کا قتل عام کروایا، پھر انہیں یہ لالی پاپ دیا گیا کہ یہ جو ووٹ ہے، یہ دراصل تمہاری وہ طاقت ہے جس کے ذریعے تم لوگوں کو حکمران بناتے ہو اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری ان سیاسی پارٹیوں میں کر کے انہیں اپنا غلام بنا لیا گیا۔ عوام اپنے فیصلے سے بننے والے حکمرانوں پر اور اپنی طاقت پر ناز کرنے لگے۔ سرمایہ دارانہ استحصال کے بڑے سے کیک میں سے سوشل سکیورٹی، پنشن، کمیونٹی ویلفیئر جیسے کھلونے دے کر عوامی غیظ و غضب کے غبارے سے ہوا نکال دی گئی۔ عوام کا ہجوم جو ایک دن پورا کیک مانگنے کے لیے سڑکوں پر آ سکتا تھا، و ہ اس لولی پاپ پر راضی ہوگیا، یوں جمہوریت کی چھترچھائوں میں سرمایہ دارانہ اور عالمی معاشی نظام کی جعلی کاغذی کرنسی کا بھی راج مزید مستحکم ہوگیا۔ جو جمہوری نظام اپنی بنیاد میں تبدیلی نہیں بلکہ ’’سٹیٹس کو‘‘ کے تحفظ کے لیے بنایا گیا، اس کی کوکھ سے تبدیلی کیسے آ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں