پرویز مشرف نامعلوم بیماری کے باعث پاکستان نہیں آسکتے، ڈاکٹر امجد

آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے رہنما ڈاکٹر محمد امجد کا کہنا ہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نامعلوم بیماری کی وجہ سے بہت تیزی سے کمزور ہورہے ہیں جس کی وجہ سے وہ غداری کے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے ابھی پاکستان واپس نہیں آسکتے۔

پرویز مشرف کی جماعت اے پی ایم ایل کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد امجد نے سابق صدر کی غیر موجودگی کو ان کی بیماری سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو ہر 3 ماہ بعد لندن جاکر اپنی بیماری کا علاج کرانا ہوگا۔

ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ ’پرویز مشرف کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر تھا جس کا علاج امریکا سے کروایا گیا لیکن اس وقت پرویز مشرف کا ایک اور بیماری کا علاج لندن سے ہورہا ہے اور اس بیماری کے لیے ہر 3 ماہ میں انہیں لندن جانا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پرویز مشرف کی بیماری کے حوالے سے فی الوقت قوم کو نہیں بتا سکتے تاہم ہم اس بیماری کے دستاویزات چیف جسٹس کو پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہورہے ہیں اور ہم ان کی صحت کو مزید خطرے میں نہیں ڈال سکتے‘۔

ایک ماہ قبل ہی اے پی ایم ایل کی قیادت سے مستعفی ہونے والے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف فری ٹرائل اور علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت ملنے کی شرط پر پاکستان آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے ساتھ رعایت ہونی چاہے، وہ صرف اس شرط پر پاکستان آئیں گے کہ ان کا فری ٹرائل ہو اور انہیں علاج کی سہولت کے لئے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے پرویز مشرف کو عام انتخابات سے قبل پاکستان لانے کی کوشش کی تھی تاہم اس راستے میں کئی رکاوٹیں ڈال دی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وکلا سے مشاورت ہورہی ہے کہ مشرف صاحب کو واپس کب اور کیسے آنا چاہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ عدالتوں میں پیش ہوں۔

خیال رہے کہ سابق فوجی آمر پر 31 مارچ 2014 کو 3 نومبر 2007 کو آئین کو معطل کرنے پر فرد جرم عائد کیا گیا تھا تاہم وہ مارچ 2016 میں ‘علاج کی غرض سے’ پاکستان سے دبئی چلے گئے اور پھر تاحال واپس نہیں آئے اور عدالتوں سے مفرور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں