اراضی قبضہ کیس: سپریم کورٹ کا منشا بم کو فوری گرفتار کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے منشا بم قبضہ گروپ سے متعلق کیس میں منشا بم کو فوری گرفتار کرنے اور قبضہ کی گئی تمام اراضی واگزار کرانے کا حکم دے دیا۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے منشا بم اور ان کے چاروں بیٹوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دے دیتے ہوئے اس معاملے میں سفارش کرنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی ملک کرامت کھوکھر اور رکن صوبائی اسمبلی ندیم عباس بارا سے تحریری معافی نامہ بھی طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے منشا بم کی گرفتاری اور قبضوں سے متعلق کیس میں شہری کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران اراکین اسمبلی ملک کرامت کھوکھر اور ندیم عباس بارا پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانی محمود اشرف نے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور کے معروف علاقے جوہر ٹاؤن میں 9 پلاٹس پر منشا بم نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہ قبضہ گروپ ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یتیموں، غریبوں، مسکینوں اور تارکین وطن کی زمینوں پر قبضے کرلیے گئے، ایک عورت کو 60 سال بعد سپریم کورٹ نے قبضہ واگراز کروا کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے قبضے اور واگزار کرانے کا حکم دیا تو اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی متحرک ہوگئے، اچھی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہمارے حکم کے بعد متحرک ہوئے، یہ کام انتظامیہ کا ہے، اسے کرنا چاہیے۔

سماعت کے دوران پنجاب پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ جو پولیس اہلکار قبضے واگزار کراتے ہیں، ان کے تبادلے کروادیے جاتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ہمیں کسی پولیس افسر کے تبادلے میں بدنیتی نظر آئی تو عدالت دیکھ لے گی۔

پنجاب پولیس نے بتایا کہ منشابم ایک بہت بڑا مافیا ہے، ہم اسے تلاش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ملا نہیں ہے، مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نظر آیا کہ وزیر اعلیٰ کسی قبضہ گروپ کی پشت پناہی کر رہے ہیں تو ہم ان سے پوچھیں گے۔

اس موقع پر عدالت نے قبضہ کرنے والے منشا بم کو فوری گرفتار کرنے اور کرامت کھوکھر اور ندیم عباس کو تحریری معافی نامہ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تادیبی کمیٹی اپنے ان ارکان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کرے۔

اس موقع پر عدالت میں پیش ہونے والے کرامت کھوکھر نے کہا مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے معافی دی جائے، میری ساری برادری ہے، میں معافی کا خواستگار ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ ایسا نہ ہو، ہم قانون سازوں کا احترام کرتے ہیں۔

ندیم عباس بارا نے کہا کہ میں تو غلطی سے اس کیس میں آگیا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دونوں تحریری معافی نامہ دیں۔

دوران سماعت ڈی آئی جی پولیس شہزاد نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے انہیں مسلم لیگ(ن) کی حمایت حاصل تھی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو چاہیے تھا کہ کیمپ لگا کر قبضے واگزار کروائیں، اگر اراکین اسمبلی نے منشا بم کی گرفتاری میں تعاون نہیں کیا تو اس بارے میں عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بیرون ملک پاکستانی ہمیں ڈیم کی تعمیر میں مدد کے لیے بلوا رہے ہیں، وہ وہاں بڑی مشکل سے خون پسینے کی کمائی سے جائیدادیں بناتے ہیں اور یہ لوگ اس پر قبضہ کرلیتے ہیں۔

عدالت میں چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ پولیس تارکین وطن کی جائیدادوں پر قبضے کو واگزار کروائے، اگر کسی عدالت نے حکم امتناع دے رکھا ہے تو سپریم کورٹ اسے دیکھ لے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ، بیرون ملک پاکستانی اس ملک سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن ایک بیرون ملک پاکستانی کی جائیداد پر منشابم نے قبضہ کیا۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جن کی زمینوں پر قبضے کیے گئے ہیں وہ واگزار کروائیں اور اگر کسی پر حکم امتناع ہے تو اس کی فہرست ہمیں دیں، میں تو سوچ رہا ہوں کہ یہ معاملہ وزیر اعظم عمران خان کو بھجوا دوں۔

بعد ازاں عدالت سے منشا بم اور ان کے چاروں بیٹوں کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں