second-world-war

دوسری جنگ عظیم میں دھماکوں کی لہریں خلا تک محسوس کی گئیں

کراچی: یورپی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج کی بمباری اس قدر طاقتور تھی کہ اس کے جھٹکے (شاک ویو) خلاء تک محسوس کیے گئے اور اس سے زمین کا کرۂ روانیہ (ionosphere) متاثر ہوا تھا۔

جریدے (Annales Geophysicae) ’’یورپی جیو سائنس جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بمباری کی وجہ سے ایک طرف کئی علاقے، قصبے، دیہات اور شہر راکھ اور ملبے کا ڈھیر تو بنے لیکن دھماکوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے جھٹکے یا لہریں (Shockwaves) اس قدر طاقتور تھیں کہ یہ زمین سے فضا میں ایک ہزار کلومیٹر اوپر تک محسوس کی گئیں۔ برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی کے ماہر کرس اسکاٹ کا کہنا ہے کہ جب یہ نتائج سامنے آئے تو میں حیران رہ گیا، ہر بم دھماکے کی وجہ سے 300؍ مرتبہ بجلی گرنے جتنی طاقت پیدا ہوئی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس نئی ریسرچ کے نتائج سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ قدرتی قوتیں، مثلاً آسمانی بجلی، آتش فشاں اور زلزلے کس طرح کرۂ دورانیہ (آئونو اسفیئر ) کو متاثر کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں