fbr-cannot-open-cases-five-years-old

ایف بی آر کی 169 بڑے نان فائلرز کو سات دن کی مہلت

ایف بی آر نے بڑی مچھلیوں کو قابو کرنے کیلئے جال پھیلا دیا۔ ایک سو انہتر بڑے اور بااثر نان فائلرز کو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کیلئے سات دن کی مہلت دے دی گئی۔ قیمتی جائیداد کے مالکان اور تین ہزار سی سی یا اس سے زیادہ پاور کی گاڑیاں خریدنے والے بھی زد میں آئیں گے۔

وزیر خزانہ اسد عمر کی ہدایت پر بڑے ٹیکس چوروں کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کا بگل بج گیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے 169 امیر ترین نان فائلرز کی فہرست تیار ہے ۔

ایک ہفتے میں پوزیشن واضح نہ کی یا واجبات جمع نہ کرائے تو اصل ٹیکس کے ساتھ بھاری جرمانہ ہوگا، جائیداد بھی ضبط ہوسکتی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق 3 ہزار سی سی یا اس سے زیادہ مالیت کی گاڑیاں خریدنے والے پہلے مرحلے میں زد میں آئیں گے، بڑی بزنس ڈیل یا ٹرانزیکشن کرنے والے نان فائلرز کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

اگلے مرحلے میں 2 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی خریدنے اور 1800 سی سی یا اس سے بڑی گاڑی رکھنے والے نان فائلرز کیخلاف کارروائی ہوگی۔

جائیداد پر سالانہ ایک کروڑ روپے کرایہ وصول کرنے والے نان فائلرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ ایف بی آر نے تمام ٹیکس چوروں کو خبر دار کیا ہے کہ وہ 30 نومبر تک ٹیکس ریٹرن جمع کرادیں ورنہ قانونی کارروائی کیلئے تیار رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں