انڈونیشیا میں سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 13 سو سے تجاوزکرگئی

جکارتہ: انڈونیشیا میں ہلاکت خیز سونامی اور تباہ کن زلزلے کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12 سوسےتجاوز کرگئی ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا میں تباہ کن زلزے اورسونامی کے بعد جاری امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کے روزآنے والی سونامی میں ہلاکتوں کی تعداد 844 سے بڑھ کر1205 ہوگئی ہے۔

سونامی کے بعد امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سڑکوں اور گلیوں میں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ لاشوں کوشناخت کے بعد اجتماعی قبروں میں دفنایا جارہا ہے۔ اسپتال زخمیوں سے بھرگئے ہیں اور ریلیف کیمپوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں جب کہ متاثرین کو خوراک، ادویات اور پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔

منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے اب بھی کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں جن کے زندہ بچ جانے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک چرچ کے بائبل کیمپ میں زیرترتیب 86 طلبا میں سے 34 کی لاشیں ملبے سے مل گئی ہیں جنہیں وہیں اجتماعی قبرمیں دفنا دیا گیا ہے تاہم دیگر 52 طلبا کا تاحال سراغ نہیں مل سکا ہے۔

مقامی ریسکیواداروں سمیت عالمی امدادی ادارے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ سونامی کے بعد وبائی بیماریاں پھیلنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں جس کے سدباب کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم طبی سہولیات کا فقدان ہے۔

انڈونیشیا کا محکمہ موسمیات سونامی کے خطرے سے پیشگی خبردارکرنے میں مکمل طورپرناکام رہا ہے جس کی وجہ سے مالی اورجانی نقصان میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے۔ ہزاروں افراد بے گھرہوگئے اورسیکڑوں تاحال لاپتہ ہیں۔ ملبے تلے دبی لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا میں 26 دسمبر2004 میں بھی تاریخ کا ہلاکت خیزسونامی آیا تھا جس میں ایک لاکھ سے زائد افراد اپنی جانوں سے گئے تھے اس کے باوجود انڈونیشیا نے احتیاطی تدابیراورہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے جس کا خمیازہ اس بار کی سونامی میں بھی بھگتنا پڑا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں